Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 29 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (175)
أبو موسى7 أبو موسى الأشعري7 ‌أبي هريرة5 النعمان بن بشير5 حذيفة5 عبد الله بن عمرو بن العاص5 علي5 معاذ بن جبل5 ‌ابن عباس4 أبو الدرداء4 أبو ذر4 جرير بن عبد الله4 عقبة بن عامر4 أبو بكرة3 أبو مسعود3 أبو أمامة2 أبو أيوب الأنصاري2 أبو هريرة قال2 أسامة بن زيد2 العباس بن عبد المطلب2 المقدام بن معدي كرب2 النبي صلى الله عليه وسلم قال2 النواس بن سمعان الأنصاري2 أم عطية2 تميم الداري2 ثوبان2 سعد2 سعد بن أبي وقاص2 سهل بن سعد2 شداد بن أوس2 صهيب2 ‌عائشة2 عبادة بن الصامت2 عبد الله بن بسر2 عثمان2 أبان بن عثمان قال1 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 ابن أبي مليكة1 ‌ابن عمر1 أبو الحوراء السعدي قال1 أبو الهياج الأسدي قال1 أبو أمامة الباهلي1 أبو أمامة قال1 أبو أيوب1 أبو برزة الأسلمي1 أبو بشير الأنصاري1 أبو بكر الصديق1 أبو بن كعب1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو رقية تميم بن أوس الداري1 أبو زهير عمارة بن رؤيبة1 أبو سعيد1 أبو سعيد الخدري قال1 أبو سعيد الخدري وأبي هريرة1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو عمرو- وقيل1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو محمد عبد الله بن عمرو بن العاص1 أبو مرثد الغنوي1 أبو مسعود الأنصاري1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو نجيح العرباض بن سارية1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 أبو واقد الليثي1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي بن كعب1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 الحسين بن علي بن أبي طالب1 العرباض بن سارية1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 المقدام بن معديكرب1 النواس بن سمعان1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم سلمة أم المؤمنين1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 بريدة1 بريدة بن الحصيب1 جابر بن سمرة1 جبير بن مطعم1 جرير1 جندب1 جندب بن عبد الله1 جندب بن عبد الله القسري1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 حكيم بن حزام1 خولة الأنصارية1 خولة بنت حكيم السلمية قالت1 رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال1 زر بن حبيش قال1 زياد بن لبيد1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 سالم بن أبي الجعد قال1 سفيان بن عبد الله الثقفي1 سفينة1 سلمة بن الأكوع1 سمرة بن جندب1 سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة1 سهل بن حنيف1 طارق بن أشيم الأشجعي1 طاوس أنه قال1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 عبد الرحمن بن سمرة1 عبد الله بن الشخير1 عبد الله بن خبيب1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن سلام1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مسعود قال1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عبيد الله بن عدي بن الخيار قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عرفجة1 عقبة بن عامر الجهني1 عكرمة1 علي بن أبي طالب1 علي قال1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 قتادة قال1 قيس بن عاصم1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1 معاوية1 معدان بن أبي طلحة اليعمري قال1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 وائل الحضرمي قال1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"
صحیح متفق علیہ
’’تم اگلی صف پوری کرو، اس کے بعد جو اس سے متصل ہے اور جو کمی ہو وہ پچھلی صف میں ہو۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
صحیح متفق علیہ
ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دارالقضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا»۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا، اور ہمارے اور سلع (پہاڑ) کے بیچ میں کوئی گھر یا مکان بھی نہیں تھا۔ کہا: اتنے میں اس (پہاڑ) کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک بادل نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے بیچ میں پہنچا تو پھیل گیا اور پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے اگلے جمعہ کے دن ایک شخص داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسے ہم سے روک دے۔ کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»۔ کہا: چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے۔ شریک نے کہا: میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
صحیح متفق علیہ
”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
صحیح متفق علیہ
”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تم جب آدم کی پشت میں تھے، تو مَیں نے تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ یہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔“
صحیح متفق علیہ