عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (133)
’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے پو چھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حوض کے برتن کیسے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے تمام ستاروں اور سیاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے۔ یاد رکھو! میں بات تاریک اور صاف آسمان والی رات کی کر رہا ہوں۔ جنت کے برتن ایسے ہوں گے کہ جو ان سے پی لے گا، وه کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے آکر گر رہے ہوں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہيں ہوگا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہوگي۔ یوں سمجھو کہ عمان سے ایلہ تک پھیلا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ عز و جل سے استغفار کرتے۔
صحیح متفق علیہ
"جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔"
صحیح متفق علیہ
"ایک مسلمان کو جو بھی تکان، مرض، پريشانی، صدمہ، تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتی کہ اگر كوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ
رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" [آل عمران: 7]. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو۔‘‘
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے تو تین بار بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد فرماتے : "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"۔ (اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی جانب سے سلامتی حاصل ہوتی ہے۔ تو برکت والا ہے اے صاحب جلال و اکرام!) ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ بخشش کیسے طلب کی جائے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ تم "استعفر اللہ استغفر اللہ" کہہ لیا کرو۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا، تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
صحیح متفق علیہ