عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (27)
"جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔"
صحیح اسے ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے
"کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے"۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں) (سورہ آل عمران : 135)
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"
صحیح اسے ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عَقَبَہ کی صبح، جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، فرمایا: "میرے لیے کچھ کنکر چن کر لاؤ۔" چنانچہ میں نے سات کنکر چن کر پیش کیے، جو چنے کے دانے کے برابر تھے۔ آپ انھیں اپنی ہتھیلی میں رکھ کر جھاڑنے لگے اور کہنے لگے : "اسی طرح کے کنکر مارا کرو"۔ پھر فرمایا : "لوگو، دین میں غلو سے بچو۔ کیوں کہ دین میں غلو نے ہی تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔"
صحیح اسے ابن ماجہ‘ نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے
”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
صحیح اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"
صحیح اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
"تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔
صحیح اسے نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے