Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 34 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“
صحیح اسے احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے روایت کیا ہے۔
"قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور عرض کیا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو جہاد میں اجر اور شہرت کی طلب میں شریک ہوتا ہو؟ اسے کیا ملے گا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" اس نے اپنا سوال تین بار دوہرایا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار یہی کہا کہ "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" پھر فرمایا : "بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔"
صحیح اسے نسائی نے روایت کیا ہے
ہم ایک بارش اور سخت تاریکى والی رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھانے کے لیے ڈھونڈنے نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب آپ کو پایا تو آپ نے کہا : "تم کہو۔" میں نے کچھ نہيں کہا، تو آپ نے دوبارہ کہا : "تم کہو۔" میں نے پھر بھی کچھ نہيں کہا تو آپ نے تیسری بار کہا : "تم کہو۔" اس بار میں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں؟ آپ نے جواب دیا : "تم صبح شام تین بار (قل ھو اللہ احد)، (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) کہہ لیا کرو۔ یہ تین سورتیں تمھارے لیے ہر چيز سے کافی ہوں گی۔"
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
’’تم اگلی صف پوری کرو، اس کے بعد جو اس سے متصل ہے اور جو کمی ہو وہ پچھلی صف میں ہو۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے