عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (45)
"بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔"
صحیح اسے ترمذی، نسائی نے ’’الکبری‘‘ میں اور احمد نے روایت کیا ہے۔
"’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
کہ نبی ﷺ نے جب انھیں یمن روانہ فرمایا تو حکم دیا کہ وہ گایوں میں سے ہر تیس گائے پر ایک سال کا ايك بچھڑا یا ایک سال کی ايک بچھیا اور ہر چالیس گائے پر دو سال کی ایک بچھیا وصول کریں، اور ہر بالغ کی جانب سے -یعنی محتلم سے- ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافری کپڑا لیں، جو یمن میں تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے دی ہے، جس کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں۔ ان دیواروں میں مختلف دروازے ہیں اور تمام دروازوں پر پردے لگے ہیں۔ صراط (راستے) کے آغاز میں ایک داعی ہے جو کہہ رہا ہے: اے لوگو! تم سب کے سب اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ مڑو۔ جب کہ ایک داعی صراط (راستے کے) کے اوپر سے پکار رہا ہے اور جب کوئی ان دروازوں میں جھانکنا چاہتا ہے، تو وہ کہتا ہے: تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو، اگر تم نے اسے کھول دیا، تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے۔ صراط سے مراد اسلام ہے اور دو دیواروں سے مراد اللہ کی حدود واحکام ہیں اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں اور وہ داعی جو صراط (راستے کی ابتدا) میں پکار لگاتا ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے اور صراط (راستے کے) اوپر سے پکارنے والا داعی اللہ کی جانب سے نصیحت وموعظت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں ودیعت ہے"۔
صحیح اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"
صحیح اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
صحیح اسے ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے
میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائيے، جو میں اللہ عز و جل سے مانگوں۔ آپ نے کہا : "اللہ سے عافیت مانگیے۔" جب کچھ دن بیت گئے تو میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا : "اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چيز سکھائيے، جو میں اللہ سے مانگوں۔ آپ نے فرمایا : "اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگیے۔"
صحیح لغیرہ اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"دعا ہی عبادت ہے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔) [سورہ غافر : 60]
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے