Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 21 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

راوی

تمام راوی دکھائیں (88)
عمر بن الخطاب5 أبو موسى4 ‌ابن عباس3 أبو بكرة3 أبو مسعود3 النعمان بن بشير3 جرير بن عبد الله3 حذيفة3 علي3 أبو أيوب الأنصاري2 أبو هريرة قال2 ‌أبي هريرة2 أسامة بن زيد2 أم عطية2 سهل بن سعد2 ‌عائشة2 عبادة بن الصامت2 عقبة بن عامر2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 أبو أيوب1 أبو بشير الأنصاري1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو قتادة1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 بريدة بن الحصيب1 جبير بن مطعم1 حكيم بن حزام1 خولة الأنصارية1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 شداد بن أوس1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عثمان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 قتادة قال1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 معاذ بن جبل1 معاوية1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
صحیح متفق علیہ
ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دارالقضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا»۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا، اور ہمارے اور سلع (پہاڑ) کے بیچ میں کوئی گھر یا مکان بھی نہیں تھا۔ کہا: اتنے میں اس (پہاڑ) کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک بادل نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے بیچ میں پہنچا تو پھیل گیا اور پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے اگلے جمعہ کے دن ایک شخص داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسے ہم سے روک دے۔ کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»۔ کہا: چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے۔ شریک نے کہا: میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
صحیح متفق علیہ
”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
صحیح متفق علیہ
”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تم جب آدم کی پشت میں تھے، تو مَیں نے تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ یہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔“
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
صحیح متفق علیہ
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
صحیح متفق علیہ