Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 16 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

راوی

تمام راوی دکھائیں (88)
عمر بن الخطاب5 أبو موسى4 ‌ابن عباس3 أبو بكرة3 أبو مسعود3 النعمان بن بشير3 جرير بن عبد الله3 حذيفة3 علي3 أبو أيوب الأنصاري2 أبو هريرة قال2 ‌أبي هريرة2 أسامة بن زيد2 أم عطية2 سهل بن سعد2 ‌عائشة2 عبادة بن الصامت2 عقبة بن عامر2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 أبو أيوب1 أبو بشير الأنصاري1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو قتادة1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 بريدة بن الحصيب1 جبير بن مطعم1 حكيم بن حزام1 خولة الأنصارية1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 شداد بن أوس1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عثمان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 قتادة قال1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 معاذ بن جبل1 معاوية1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا : "وہ کچھ نہيں ہیں۔" ان لوگوں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی کوئی بات کہہ جاتے ہیں، جو صحیح نکل آتی ہے۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ
”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔
صحیح متفق علیہ
”مرے ہوئے لوگوں کو برا مت کہو؛ کیوں کہ جو اعمال انھوں نے آگے بھیجے، ان تک وہ پہنچ چکے ہیں“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم میرے یہاں آئے تو دیکھا کہ میں نے اپنے ایک طاق پر ایک کپڑا ڈال رکھا ہے، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا ڈالا، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : لہذا ہم نے اسے پھاڑکر اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
صحیح متفق علیہ
اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
صحیح متفق علیہ