Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 6 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”ہم سب سے آخری امت ہیں، اور سب سے پہلے ہمارا حساب وکتاب ہوگا، کہا جائے گا: امی امت اور اس کا نبی کہاں ہے؟ چنانچہ ہم ہی سب سے پیچھے اور سب سے آگے ہیں۔“
صحیح اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے
”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔
صحیح اسے ابودواد، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دوران بولا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا؟ اس کے بجائے یہ کہا کرو : جو اکیلے اللہ چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے)۔"
اس حديث کی سند حَسَنْ ہے رواه ابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمد
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عَقَبَہ کی صبح، جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، فرمایا: "میرے لیے کچھ کنکر چن کر لاؤ۔" چنانچہ میں نے سات کنکر چن کر پیش کیے، جو چنے کے دانے کے برابر تھے۔ آپ انھیں اپنی ہتھیلی میں رکھ کر جھاڑنے لگے اور کہنے لگے : "اسی طرح کے کنکر مارا کرو"۔ پھر فرمایا : "لوگو، دین میں غلو سے بچو۔ کیوں کہ دین میں غلو نے ہی تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔"
صحیح اسے ابن ماجہ‘ نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے
”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے