Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 37 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔
صحیح اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے
"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلا دیے جائیں گے۔ ہر دفتر حد نگاہ تک ہوگا۔ پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پرکوئی ظلم نہ ہوگا۔ پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر "أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" لکھا ہوگا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر موجود رہو۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں۔ پھر وہ سارے دفتر ہلکے ثابت ہوں گے اور پرچہ بھاری۔ اللہ کے نام کے ساتھ (یعنی اس کے مقابلہ میں) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہوسکتی"۔
صحیح اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
صحیح اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بائيں ہاتھ میں ریشم اور دائيں ہاتھ میں سونا لیا، انھیں لے کو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا : "یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔"
صحیح اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔" اسی طرح آپ سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "منہ اور شرم گاہ۔"
حَسَن صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
کہ نبی ﷺ نے جب انھیں یمن روانہ فرمایا تو حکم دیا کہ وہ گایوں میں سے ہر تیس گائے پر ایک سال کا ايك بچھڑا یا ایک سال کی ايک بچھیا اور ہر چالیس گائے پر دو سال کی ایک بچھیا وصول کریں، اور ہر بالغ کی جانب سے -یعنی محتلم سے- ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافری کپڑا لیں، جو یمن میں تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"دعا ہی عبادت ہے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔) [سورہ غافر : 60]
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا، جو اس طرح ہے : "إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرْحامَ إن اللهَ كانَ عليكم رقيبا۔} [النساء: 1]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ۔} [آل عمران: 102]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا۔} [الأحزاب: 70 - 71]۔ ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد اور (اپنے گناہوں کی) معافی چاہتے ہیں اور اپنے نفس کی برائیوں سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں“ ۔”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک نفس (آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا ہے اور اس ایک نفس سے اس کے جوڑے (حوا) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بے شمار مرد وعورت کو پھیلا دیا, اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنےسے بچو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔[النساء: 1] ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو“۔ [آل عمران : 102] ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات ہمیشہ صاف سیدھی کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور تمہاری خطائیں معاف کر دے گا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، بلاشبہ وہ عظیم کامیابی سے ہم کنار ہوا“۔ [الأحزاب : 70 - 71]
صحیح اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے