Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 5 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“
صحیح اسے احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے روایت کیا ہے۔
"تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔
صحیح اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔
"اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔
صحیح اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے
فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
صحیح اسے ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے
"سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
صحیح اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے