Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 80 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دونوں (عشا و فجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں۔ اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہو جائے، تو تم ان میں ضرور آؤگے، گھٹنوں کے بل چل کر ہی سہی۔ بلا ريب پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے۔ اگر اس کی فضلیت کا علم تم کو ہو جائے، تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کروگے۔ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے۔ جس قدر جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی، اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ جہاں تک واجب کردینے والے اعمال کی بات ہے تو وہ یہ ہیں : جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ جس عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے وہ یہ ہے : جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے یہاں تک کہ اس کا دل اس نیکی کو محسوس کرنے لگے اور اللہ اس کے ارادہ کو دیکھ لے، تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں وہ برائی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص نیکی کرے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا اجر وثواب ملتا ہے۔ جہاں تک لوگوں کی بات ہے تو کسی کو دنیا میں کشادگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں تنگی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں فراخی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی تنگی ملے گی، جب کہ کسی کو دنیا میں فراخی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی فراخی ملے گی"۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے ہلکی نماز پڑھی۔ جب وہ باہر نکلے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو الیقظان! آپ نے بہت ہلکی نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا تم نے مجھے اس کے ارکان میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا؟! میں نے عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تو اس کے ذریعے شیطان کی غفلت پر سبقت کی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بندہ نماز پڑھتا ہے‘ اس کے لیے نماز کا صرف دسواں حصہ‘ نواں حصہ‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسرا‘ اور نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے‘‘۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
"جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔"
صحیح اسے ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے