عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (43)
ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا : "یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں اور ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے۔ اگرہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں۔ لہذا کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟"۔ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا : "سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔
صحیح اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب ہو گیا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دار و مدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا : اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔
یہ حدیث اپنے تمام طرق کی بنا پر صحیح ہے اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
حَسَنْ اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کر لی جائے؛ ایسی عزت جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ایسی ذلت جس سے اللہ کفر کی وجہ سے دوچار کرے گا۔" تمیم داری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اس فرمان رسول ﷺ کی صداقت میں نے اپنے خاندان میں دیکھی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہوگیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے
”جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ (آیات) یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل فرمائیں۔ ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے پر غلبہ پا لیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب گروہ اگر مغلوب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی، اور اگر مغلوب گروہ غالب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ چنانچہ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر دونوں ہی گروہ کمزور پڑ گئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی آپ نے انہیں زیر کیا تھا، بلکہ آپ صلح کی حالت میں تھے۔ پھر مغلوب گروہ نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تو غالب گروہ نے مغلوب گروہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس سو وسق بھیجو۔ اس پر مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو قبیلوں کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو، اور شہر ایک ہو، (پھر بھی) ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے تو یہ تمہیں تمہارے ظلم اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر ان کے درمیان جنگ چھڑنے ہی والی تھی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنا لیں۔ پھر غالب گروہ کو خیال آیا اور انہوں نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمہارے حق میں ان کے خلاف دوگنی دیت کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے یعنی مغلوب گروہ نے سچ ہی کہا، انہوں نے ہمیں یہ آدھی دیت صرف ہمارے ظلم اور ان پر ہمارے غلبے کی وجہ سے دی تھی۔ لہٰذا تم محمد ﷺ کے پاس کسی کو خفیہ طور پر بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حَکَم مان لینا، اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے اپنے رسول کو ان کے سارے معاملے اور ان کے ارادے سے آگاہ فرما دیا۔ تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] سے لے کر اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ پھر انہوں نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیات انہی کے بارے میں نازل ہوئیں، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مراد یہی دونوں تھے۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں اور احمد نے روایت کیا ہے