عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (32)
”منتر، تعویذ اور ٹوٹکے سب شرک ہیں“۔
صحیح اسے ابودواد، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
«کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟» صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: «لوگوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ آپسی بگاڑ ہلاک کر دینے والی چیز ہے۔»
صحیح اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے
’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ایسا متاثر کرنے والا وعظ فرمایا کہ ہمارے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ لہذا کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا وعظ فرمایا ہے، جو الوداعی وعظ معلوم ہوتا ہے۔ لہذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائیں۔ چنانچہ فرمایا : "تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا۔ اسے اپنے داڑھوں سے پکڑے رہنا۔ اور دیکھو، دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں سے دور رہنا۔ کیوں کہ ہر بدعت (دین کے نام پر سامنے آنے والی نئی چیز) گمراہی ہے۔"
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
ہم ایک بارش اور سخت تاریکى والی رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھانے کے لیے ڈھونڈنے نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب آپ کو پایا تو آپ نے کہا : "تم کہو۔" میں نے کچھ نہيں کہا، تو آپ نے دوبارہ کہا : "تم کہو۔" میں نے پھر بھی کچھ نہيں کہا تو آپ نے تیسری بار کہا : "تم کہو۔" اس بار میں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں؟ آپ نے جواب دیا : "تم صبح شام تین بار (قل ھو اللہ احد)، (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) کہہ لیا کرو۔ یہ تین سورتیں تمھارے لیے ہر چيز سے کافی ہوں گی۔"
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
’’تم اگلی صف پوری کرو، اس کے بعد جو اس سے متصل ہے اور جو کمی ہو وہ پچھلی صف میں ہو۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔