Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 2 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان میں نماز پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ ”يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی اصل نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا کہ ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب ہو گیا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دار و مدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا : اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔
یہ حدیث اپنے تمام طرق کی بنا پر صحیح ہے اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے