Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 34 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]
صحیح متفق علیہ
”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔
صحیح اسے ابودواد، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانۂ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا بھی مؤاخذہ ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔
صحیح متفق علیہ
"جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گہ کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان میں نماز پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ ”يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی اصل نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا کہ ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے