Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 25 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
"شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
صحیح متفق علیہ
رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا"۔
صحیح متفق علیہ
"لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح متفق علیہ
"منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے عرض کیا: اے اللہ کےرسول ﷺ ! میں زمانۂ جاہلیت میں عبادت کی نیت سے جو صدقہ دیتا تھا یا غلام آزاد کرتا اور صلہ رحمی کرتا تھا، کیا ان کا مجھے کوئی اجر ملے گا؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم ان نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو۔‘‘
صحیح متفق علیہ