Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 7 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

"میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔
صحیح متفق علیہ
”اے بلال! مجھے اپنا وہ عمل بتلاؤ جو تم نے اسلام میں سب سے زیادہ امید والا کیا ہے، اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سنی۔“ انھوں نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی وضو کیا تو اس وضو سے اتنی نماز ضرور پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی تھی۔
صحیح متفق علیہ
"قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔"
صحیح متفق علیہ
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ نے ایک رات -یعنی چودھویں کی رات- چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا : ”یقینا تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں پر کسی چیز کو حاوی نہ ہونے دو، تو ایسا ضرور کرو۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر)"۔
صحیح متفق علیہ
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“
صحیح متفق علیہ
"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟" صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے