Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 7 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
صحیح متفق علیہ
"قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک اس طرح کی حالت پیدا نہ ہو جائے کہ ایک شخص کسی کی قبر کے پاس سے گزرے اور کہے کہ کاش اس کی جگہ پر میں ہوتا!"
صحیح متفق علیہ
”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
صحیح متفق علیہ
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔
صحیح متفق علیہ
’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے جنگ نہ کرو اور نوبت یہاں تک نہ پہنچے کہ جس پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہو وہ پتھر کہے کہ اے مسلمان! یہ دیکھو میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کردو۔‘‘
صحیح متفق علیہ
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ وقت بہت ہی نزدیک ہے، جب تمھارے درمیان مریم کا بیٹا اترے گا۔ اس وقت وہ منصف حاکم ہوگا۔ صلیب توڑ دے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ ختم کر دے گا۔ مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔"
صحیح متفق علیہ
"مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ‘‘ [سورہ ابراہیم: 27] (اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات کے ذریعہ مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی))ــــــــــــــــ کا یہی مطلب ہے۔
صحیح متفق علیہ