Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 19 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے۔" یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ہم نو، آٹھ یا سات لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ لہذا ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا : ویسے تو ہم پہلے آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن اب بتائیں کہ آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت گزار رہو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔ (راوی کہتے ہیں:) اس کے بعد میں نے اس جماعت میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کا کوڑا گر جاتا، تب بھی کسی سے اسے اٹھا کر دینے کے لئے نہ کہتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو"۔
صحیح متفق علیہ
"اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تم جب آدم کی پشت میں تھے، تو مَیں نے تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ یہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔“
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بات کہی ہے اور میں نے ایک اور بات کہی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی پکارتا رہا (اللہ کا شریک و ہمسر ٹھہراتا رہا) ہو، تو وہ جہنم میں داخل گا“۔ جب کہ میں کہتا ہوں : جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارتا رہا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
صحیح متفق علیہ
کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا : "وہ کچھ نہيں ہیں۔" ان لوگوں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی کوئی بات کہہ جاتے ہیں، جو صحیح نکل آتی ہے۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ