Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 57 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کسے حاصل ہوگی؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ! تمھاری حرصِ حدیث دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھ سے یہ حدیث تم سے پہلے کوئی نہیں پوچھے گا۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی، جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ بھیجوں، جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ (آپ نے مجھے یہ ہدایت دے کر بھیجا تھا کہ) تم سے ایسا کوئی مجسمہ نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے مٹا نہ دیا ہو اور کوئی اسی اونچی قبر نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے برابر نہ کر دیا ہو۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
صحیح اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے