عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (59)
اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک و تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: "ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ اس بندے نے پھر دوبارہ گناہ کیا اور بول پڑا کہ اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو بخش بھی دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ تم جو چاہے کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھتے۔ پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر مبارک اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے۔ آپ ﷺ یہ عمل تین مرتبہ کرتے تھے۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
صحیح متفق علیہ
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔
صحیح متفق علیہ
ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
بات یہ ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : "تم کس لیے بیٹھے ہو؟" صحابہ نے جواب دیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کر ر ہے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی راہ دکھائی اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے یہ دین عطا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "قسم کھاؤ کہ تم اسی غرض سے بیٹھے ہو"۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اپنی رعایا، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے