عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (45)
میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" ان کا کہنا ہے کہ آپ نے مجھے ان کاموں کے بارے میں بتایا۔ اگر میں مزید پوچھتا، تو آپ اور بھی بتاتے۔
صحیح متفق علیہ
"جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور اس نے بھی "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی سچے دل سے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جنت میں چغل خور داخل نہيں ہوگا۔"
صحیح متفق علیہ
میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
صحیح متفق علیہ
"برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ کسی کی چھپی ہوئی باتوں کو دیکھنے اور سننے کی کوشش مت کرو، کسی کی کمیوں کوتاہیوں کے پیچھے نہ پڑو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ نہ رکھو اور اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔"
صحیح متفق علیہ
ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔
صحیح متفق علیہ
"جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
صحیح متفق علیہ
"جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے، تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے۔ کیوں کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے