Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 25 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“
نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔"
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
صحیح اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے
”کیا میں تمھیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین کون ہے اور بدترین کون؟“ یہ سن کر لوگ خاموش رہے، تو آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ پھر ایک شخص نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے مامون رہا جائے، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور نہ اس کے شر سے مامون رہا جائے۔“
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو، جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے، جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے