Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 13 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے درمیان اس بات کے سلسلہ میں بحث ہو گئی تھی کہ اللہ ﷺ کا منبر کس لکڑی سے تیار ہوا تھا؟ انہوں نے اس کی بابت حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی سے تیار ہوا تھا۔ میں نے اسے پہلے دن بھی دیکھا جب اسے تیار کر کے رکھا گیا تھا اور اس وقت بھی دیکھا جب اس پر پہلے دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت کو، جس کا نام سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، یہ کہلا بھیجا: ’’تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنا دے، تاکہ میں جب لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام کو یہ حکم دیا، تو وہ جنگل کے جھاؤ درخت سے (منبر) تیار کر کے اس کے پاس حاضر کر دیا اور اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھنا شروع کیا۔ تکبیر تحریمہ اس کے اوپر کہی، پھر آپ نے رکوع بھی اسی کے اوپر کیا، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر واپس منبر پر آ گئے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
صحیح متفق علیہ
رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ عليه وسلم دو سجدوں کے بیچ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي"۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے۔ اے میرے رب مجھے بخش دے۔)
صحیح اسے ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
صحیح اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے