Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 2 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

وہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل۔ ماہ رمضان میں بھی اور دیگر مہینوں میں بھی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع الله لمن حمده کہتے۔ بعد ازاں سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ اس کے بعد جب سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے، تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ الغرض ہر رکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ جب اپنی نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا آں کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صحیح متفق علیہ
"سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
صحیح اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے