عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (11)
وہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل۔ ماہ رمضان میں بھی اور دیگر مہینوں میں بھی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع الله لمن حمده کہتے۔ بعد ازاں سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ اس کے بعد جب سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے، تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ الغرض ہر رکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ جب اپنی نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا آں کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صحیح متفق علیہ
وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو اور جب وہ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} [سورہ فاتحہ : 7] کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے رکوع میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے، تو تم "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہو، اللہ تمھاری دعا سن لے گا۔ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔" اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے سجدے میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب جلسے میں بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے (تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور "سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد" کہتے۔ جب کہ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی٭۔ اے اللہ! ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر اور اس کے بعد بھی تو جو چاہے، اس کی وسعتوں کے برابر۔)
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی۔ (تشہد کے الفاظ کچھ اس طرح تھے :) "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔" بخاری اور مسلم میں ایک جگہ ہے : "بے شک اللہ ہی سلامتی والا ہے۔ لہذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے، تو کہے : "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ۔" جب بندہ یہ الفاظ کہتا ہے، تو آسمان اور زمین میں رہنے والا اللہ کا ہر صالح بندہ اس کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔ پھر جو دعا چاہے، کرے۔"
صحیح متفق علیہ
میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیتا۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر۔ اور اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔"
صحیح متفق علیہ