Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 5 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

"تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری گھڑی میں نکلا۔ اس نے گویا ایک گائے کی قربانی دی۔ جو تیسری گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مینڈھے کی قربانی دی۔ جو چوتھی گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مرغی صدقے میں دی۔ جو پانچویں گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک انڈا صدقے میں دیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے، تو فرشتے حاضر ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ
"ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔"
صحیح متفق علیہ
میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنے دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اسے رگڑا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر پر پانی بہایا، پھر پورے بدن کو دھویا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ اس کے بعد میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی، تو آپ نے اسے نہيں لیا اور اپنے ہاتھ سے پانی جھاڑنے لگے۔
صحیح متفق علیہ