Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 186 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (84)
عقبة بن عامر3 علي3 أبو موسى الأشعري2 ‌أبي هريرة2 أم عطية2 معاذ بن جبل2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 ‌ابن عباس1 أبو الدرداء1 أبو أمامة1 أبو أيوب الأنصاري1 أبو بن كعب1 أبو ثعلبة الخشني جرثوم بن ناشر1 أبو حازم بن دينار1 أبو ذر1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو مرثد الغنوي1 أبو موسى1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة قال1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 المغيرة1 أم قيس بنت محصن1 بريدة1 بريدة بن الحصيب1 ثوبان1 جابر بن سمرة1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 خريم بن فاتك1 زر بن حبيش قال1 سالم بن أبي الجعد قال1 سعد1 سعد بن أبي وقاص1 سعد بن عبادة1 سفينة1 سهل بن سعد1 شداد بن أوس1 عبادة بن الصامت1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن سلام1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عبيد الله بن عدي بن الخيار قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 علي بن أبي طالب1 عمار بن ياسر1 عمر بن الخطاب1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 قيس بن عاصم1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
"ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"
صحیح متفق علیہ
ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے۔ راستے میں پانی کے ایک چشمے تک پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے بڑی جلد بازی دکھائی۔ جلدی جلدی وضو کر لیا۔ ہم پہنچے تو ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں۔ ان کو پانی نے چھوا تک نہيں تھا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔"
صحیح متفق علیہ
علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
عثمان بن عفان کے غلام حمران سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، برتن کا پانی دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، ان کو تین بار دھویا، پھر وضو کے پانی میں دائیں ہاتھ کو داخل کیا، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر چہرے کو تین بار اور دونوں ہاتھوں کو تین بار کہنیوں سمیت دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر ایک پیر کو تین تین بار دھویا اور اس کے بعد فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور اس کے بعد فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
صحیح متفق علیہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے وقت سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے : ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے بہترين تعريف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) وہ فرماتے: نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔
صحیح اسے نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے
"جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور اس نے بھی "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی سچے دل سے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
عبد الرحمن بن عوف کى بیوى ام حبیبہ بنت جحش نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خون جاری رہنے کی شکایت کی، تو آپ نے ان سے فرمایا : "تم اتنے دن نماز سے رکی رہو، جتنے دن تمھارا حیض تمھیں نماز سے روکا کرتا تھا، پھر غسل کر لیا کرو"۔ لہذا وہ ہر نماز کے وقت غسل کیا کرتی تھیں۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے