Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 1 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

راوی

تمام راوی دکھائیں (84)
عقبة بن عامر3 علي3 أبو موسى الأشعري2 ‌أبي هريرة2 أم عطية2 معاذ بن جبل2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 ‌ابن عباس1 أبو الدرداء1 أبو أمامة1 أبو أيوب الأنصاري1 أبو بن كعب1 أبو ثعلبة الخشني جرثوم بن ناشر1 أبو حازم بن دينار1 أبو ذر1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو مرثد الغنوي1 أبو موسى1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة قال1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 المغيرة1 أم قيس بنت محصن1 بريدة1 بريدة بن الحصيب1 ثوبان1 جابر بن سمرة1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 خريم بن فاتك1 زر بن حبيش قال1 سالم بن أبي الجعد قال1 سعد1 سعد بن أبي وقاص1 سعد بن عبادة1 سفينة1 سهل بن سعد1 شداد بن أوس1 عبادة بن الصامت1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن سلام1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عبيد الله بن عدي بن الخيار قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 علي بن أبي طالب1 عمار بن ياسر1 عمر بن الخطاب1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 قيس بن عاصم1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا، انھوں نے پوچھا: اے زر! کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے۔ آپ نے فرمایا: فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس علم سے خوش ہو کر جو وہ حاصل کرتا ہے۔ میں نے کہا: پیشاب پاخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کی بابت میرے سینے میں اشتباہ پیدا ہو گیا ہے۔ آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، اس لیے میں آپ سے پوچھنے کے لیے آیا ہوں: کیا آپ نے اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو کچھ بیان کرتے سنا ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ جب ہم مسافر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ اتاریں الا یہ کہ جنابت لاحق ہو، لیکن پیشاب، پاخانے اور نیند سے نہیں ۔ میں نے کہا: کیا آپ نے آپ ﷺ کو محبت کے بارے میں بھی کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم آپ کے پاس ہی تھے کہ ایک اعرابی نے آپ کو نہایت اونچی آواز سے پکارا: یا محمد! تو رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی کی آواز کی طرح جواب دیا: ’’میں یہاں ہوں۔‘‘ اور ہم نے اس سے کہا: افسوس ہے تجھ پر! اپنی آواز پست کرو، کیونکہ تو نبی ﷺ کے پاس ہے اور تجھے اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آواز پست نہیں کروں گا۔ اعرابی نے کہا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ابھی ان (کے مرتبے) تک نہیں پہنچا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی قیامت کے روز اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘ پھر آپ ہم سے گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے مغرب کی جانب سے ایک دروازے کا ذکر فرمایا جس کی چوڑائی کی مسافت، یا (یوں فرمایا کہ) ایک سوار اس کی چوڑائی میں چالیس یا ستر سال تک چلتا رہے۔
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے