Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 132 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (61)
‌أبي هريرة2 حذيفة2 عبد الله بن عمرو2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 أبو أيوب الأنصاري1 أبو حازم بن دينار1 أبو ذر1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو مرثد الغنوي1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة قال1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 المغيرة1 أم عطية1 أم قيس بنت محصن1 ثوبان1 جابر بن سمرة1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 سعد1 سعد بن أبي وقاص1 سفينة1 سهل بن سعد1 شداد بن أوس1 عبادة بن الصامت1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 علي1 عمار بن ياسر1 عمر بن الخطاب1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
صحیح متفق علیہ
میں ایک ایسا شخص تھا، جسے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سم کے داماد ہونے کے ناتے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو پوچھنے کا حکم دیا (اور انھوں نے پوچھا)، تو آپ نے کہا : "وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔" صحیح بخاری میں ہے: آپ نے کہا : "وضو کرو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو۔"
صحیح متفق علیہ
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوش بو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں، جن میں وہ خوش ہوتا ہے : جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو (اس کی جزا دیکھ کر) اپنے روزے سے خوش ہوگا"۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہبر نہيں ہے، جو مجھے مسجد لے آئے۔ چنانچہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ آپ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ نے اسے رخصت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلایا اور پوچھا : "کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟" اس نے جواب دیا : جی، سنتا تو ہوں، تو آپ نے کہا : "(نماز کی ندا لگانے والے کی ندا) قبول کرو۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دارالقضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا»۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا، اور ہمارے اور سلع (پہاڑ) کے بیچ میں کوئی گھر یا مکان بھی نہیں تھا۔ کہا: اتنے میں اس (پہاڑ) کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک بادل نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے بیچ میں پہنچا تو پھیل گیا اور پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے اگلے جمعہ کے دن ایک شخص داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسے ہم سے روک دے۔ کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»۔ کہا: چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے۔ شریک نے کہا: میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے (تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور "سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد" کہتے۔ جب کہ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
صحیح متفق علیہ