Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 16 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آپ نے وہاں دس برس قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے وفات پائی۔
صحیح متفق علیہ
"میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے بہت ڈر گیا، چنانچہ میں واپس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} سے لے کر {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} تک۔ پھر کثرت سے اور مسلسل وحی آنے لگی۔
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔، آپ ﷺ اپنی نماز کی اس جگہ سے جہاں آپ صبح کی نماز پڑھتے تھے، اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا، چنانچہ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ صحابہ کرام باتیں کرتے اور دورِ جاہلیت کے امور کا تذکرہ شروع کر دیتے، تو وہ ہنستے اور آپ ﷺ تبسم فرماتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
«اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
صحیح متفق علیہ
اے ام المؤمنین! مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو انھوں نے کہا : کیا تم قرآن نہيں پڑھتے؟ میں نے کہا : پڑھتا تو ہوں۔ فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق قرآن تھا۔
صحیح اسے مسلم نے لمبی حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے