Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 48 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (34)
”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان میں نماز پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ ”يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی اصل نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا کہ ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
"کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے : یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے اور وہ جو اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے۔"
صحیح متفق علیہ
"نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔"
حَسَنْ اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔
”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف سمجھی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے سمجھی جائے گی، جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہے۔“
صحیح اسے امام المحدثین ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرۃ بن بردزبہ بخاری اور امام المحدثین ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری نے اپنی ان دو صحیح کتابوں میں روایت کیا ہے، جو (حدیث کی) تمام تصنیف کردہ کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح ہیں۔
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے