Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 48 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (34)
"دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
صحیح متفق علیہ
”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
صحیح اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے
"پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے۔ پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
صحیح اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"
صحیح اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
"اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
حَسَنْ اسے بیہقی وغیرہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس حدیث کا کچھ حصہ صحیحین میں بھی مروی ہے۔
”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے