Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 2 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

راوی

تمام راوی دکھائیں (34)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : "اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں۔ لہذا تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔ لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں۔ لہذا تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ لہذا تم مجھ سے بخشش مانگو۔ میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات، تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات, تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں، تو اس سے میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ، تمھارے انسان اور تمھارے جنّات ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں، تو اس سے میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی، جتنی کمی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں اور پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ لہذا جو شخص بھلائی پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے، وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔”
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے۔ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنے بچے ہوئے مال میں سے صدقہ و خیرات کر لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : ”بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے، تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا، تو اسے اجر ملے گا۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے