Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 29 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنى رانوں پر رکھی۔ پھر بولا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" یہ سن کر وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر بولا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے"۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا"۔ اس نے کہا : اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "(نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے لوگ محلات تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے"۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟" میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے۔ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنے بچے ہوئے مال میں سے صدقہ و خیرات کر لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : ”بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے، تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا، تو اسے اجر ملے گا۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
صحیح متفق علیہ
”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے"۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیوں کہ اس سے کشتیوں كو پینٹ کیا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "نہیں, یہ بھی حرام ہے"۔ پھر رسول ﷺ نے اس وقت فرمایا : "اللہ یہود کو تباہ کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو ان لوگوں نے اس کو پگھلا کر اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔“
صحیح متفق علیہ
”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے