Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 157 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (67)
معاذ بن جبل3 ‌ابن عباس2 أبو ذر2 أبو موسى2 ‌أبي هريرة2 عبد الله بن عمرو بن العاص2 أبو الهياج الأسدي قال1 أبو برزة الأسلمي1 أبو بشير الأنصاري1 أبو صرمة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو عمرو- وقيل1 أبو محمد عبد الله بن عمرو بن العاص1 أبو مرثد الغنوي1 أبو نجيح العرباض بن سارية1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 أبو واقد الليثي1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 ‌الزبير بن العوام قال1 العرباض بن سارية1 المقداد بن عمرو الكندي1 المقدام بن معديكرب1 النبي صلى الله عليه وسلم قال1 النعمان بن بشير1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 ‌أنس بن مالك1 بريدة1 تميم الداري1 جرير بن عبد الله1 جندب1 حذيفة1 حكيم بن حزام1 رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال1 زياد بن لبيد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 سفيان بن عبد الله الثقفي1 طارق بن أشيم الأشجعي1 طاوس أنه قال1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن سمرة1 عبد الله بن الشخير1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مسعود قال1 عثمان بن أبي العاص1 عدي بن حاتم1 عقبة بن عامر الجهني1 عمران بن حصين1 ‌قتادة رحمه الله قال1 محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1
"خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو ہم حرام جانیں گے۔ یاد رکھو! بلاشک و شبہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے، وہ ویسے ہی حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز"۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے
جب اللہ کے رسول ﷺ حنین کے لیے نکلے، تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت سے ہوا، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس پر وہ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھ موجود لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنا دیجیے جیسا کہ ان کا ایک ذات انواط ہے۔ لہذا اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : "سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} (ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسا کہ ان (مشرکوں) کے معبودان ہیں)۔ [سورہ اعراف : 138] اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے۔"
صحیح اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔"
یہ حدیث اپنے تمام طرق کی بنا پر صحیح ہے اسے ابو داود ‘ نسائی نے الکبری میں اور احمد نے روایت کیا ہے
’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ آگ اس پر انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور اس کا ہر حصہ دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
«غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، {بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے}»
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے: اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہارے اوپر اپنی رضا مندی کو نازل کروں گا، پھر اس کے بعد کبھی بھى تم پر ناراض نہیں ہوں گا"۔
صحیح متفق علیہ