عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (67)
”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔ چنانچہ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے، جس کے لیے اس نے ہجرت کی"۔جب کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے : "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔"
صحیح متفق علیہ
ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنى رانوں پر رکھی۔ پھر بولا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" یہ سن کر وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر بولا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے"۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا"۔ اس نے کہا : اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "(نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے لوگ محلات تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے"۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟" میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔" عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم! جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے منع کرتے سنا ہے، کبھی باپ دادوں کی قسم نہیں کھائی۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی قسم نقل کرتے ہوئے۔
صحیح متفق علیہ