Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 143 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (62)
معاذ بن جبل3 ‌ابن عباس2 أبو ذر2 أبو موسى2 ‌أبي هريرة2 أبو الهياج الأسدي قال1 أبو برزة الأسلمي1 أبو بشير الأنصاري1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو عمرو- وقيل1 أبو محمد عبد الله بن عمرو بن العاص1 أبو مرثد الغنوي1 أبو نجيح العرباض بن سارية1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 أبو واقد الليثي1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 العرباض بن سارية1 المقداد بن عمرو الكندي1 المقدام بن معديكرب1 النبي صلى الله عليه وسلم قال1 النعمان بن بشير1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 ‌أنس بن مالك1 بريدة1 تميم الداري1 جرير بن عبد الله1 جندب1 حذيفة1 حكيم بن حزام1 رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال1 زياد بن لبيد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 سفيان بن عبد الله الثقفي1 طارق بن أشيم الأشجعي1 طاوس أنه قال1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن سمرة1 عبد الله بن الشخير1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مسعود قال1 عثمان بن أبي العاص1 عدي بن حاتم1 ‌قتادة رحمه الله قال1 مطر بن عكامس1
"مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور پوری زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ دیگر انبیا اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
صحیح متفق علیہ
"نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ نے ایک رات -یعنی چودھویں کی رات- چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا : ”یقینا تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں پر کسی چیز کو حاوی نہ ہونے دو، تو ایسا ضرور کرو۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر)"۔
صحیح متفق علیہ
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“
صحیح متفق علیہ
"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلا دیے جائیں گے۔ ہر دفتر حد نگاہ تک ہوگا۔ پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پرکوئی ظلم نہ ہوگا۔ پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر "أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" لکھا ہوگا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر موجود رہو۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں۔ پھر وہ سارے دفتر ہلکے ثابت ہوں گے اور پرچہ بھاری۔ اللہ کے نام کے ساتھ (یعنی اس کے مقابلہ میں) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہوسکتی"۔
صحیح اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
صحیح اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے
”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔ اگر وہ کسی سانڈے کے بِل ميں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس ميں گھس جاؤگے“۔ صحابہ كرام نے عرض كيا : یا رسول اللہ! ان سے مراد يہود و نصارىٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : "پھر اور کون؟"
صحیح متفق علیہ