Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 15 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
صحیح متفق علیہ
”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔" اسی طرح آپ سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "منہ اور شرم گاہ۔"
حَسَن صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کے طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو تو اتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔ اور اعلانیہ گناہ کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی شخص رات کو کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اس کی صبح اس حال میں ہو کہ الله نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا ہو اور وہ (کسی سے) کہے کہ اے فلاں! میں نے کل رات یہ یہ کام کیا ہے۔ جب کہ اس کی رات اس حال میں گزری تھی کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا تھا، لیکن صبح ہوتے ہی وہ خود اپنے بارے میں اللہ کے پردے کو کھولنے لگا“۔
صحیح متفق علیہ
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ گرنے کی آواز سنائی دی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ ہم نےکہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ ایک پتھر ہے، جو ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا۔ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
حَسَنْ اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے