عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (35)
’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
صحیح متفق علیہ
”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمايا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت وتندرستی کے زمانے ميں بيماری کے ليے اور اپنی زندگی ميں موت کے ليے تيارى كرلو“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
صحیح متفق علیہ
"کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
"جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
صحیح متفق علیہ
"قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔ ایسے میں سارے جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائيں گے اور کہيں گے : اے فلاں! تیرے ساتھ ایسا کیسے ہوا؟ کیا ایسا نہيں ہے کہ تو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا؟ وہ جواب دے گا : یہ تو سچ ہے۔ مگر میں دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور خود اس پر عمل پیرا نہيں ہوتا تھا۔ دوسروں کو برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔"
صحیح متفق علیہ