Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 3 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو پایا کہ جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گيا ہے۔ چناں چہ واپس آکر کہا : تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”جاؤ جہنم اور اس کے اندر میں نے اہل جہنم کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ چناں چہ واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا۔ پھر فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو پایا کہ اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔ لہذا واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہر شخص اس میں داخل ہوگا"۔
حَسَنْ اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
"کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے"۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں) (سورہ آل عمران : 135)
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
صحیح اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے