Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 8 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا، تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کريں۔"
صحیح متفق علیہ
"کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو‘‘۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں فی الواقع موجود ہو، تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو، اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے، تو تم نے اس پر تہمت باندھی"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"
صحیح اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے۔ اور جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھوں کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، کیوں کہ تم میں سے کسی کو نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے؟" صحیح مسلم کے الفاظ ہيں : "جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھ کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے، جب تک اسے تین بار نہ دھو لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا ،جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا‘‘
صحیح متفق علیہ