Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 14 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔
صحیح متفق علیہ
”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔" اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ "کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“
نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
صحیح متفق علیہ
"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”کیا میں تمھیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین کون ہے اور بدترین کون؟“ یہ سن کر لوگ خاموش رہے، تو آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ پھر ایک شخص نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے مامون رہا جائے، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور نہ اس کے شر سے مامون رہا جائے۔“
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
"برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ کسی کی چھپی ہوئی باتوں کو دیکھنے اور سننے کی کوشش مت کرو، کسی کی کمیوں کوتاہیوں کے پیچھے نہ پڑو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ نہ رکھو اور اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔"
صحیح متفق علیہ