Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 37 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“
صحیح پہلی حدیث کو مسلم نے اور دوسری حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
"تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں صدیق ( بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے مکمل پرپیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز و جل کے یہاں کذاب (بہت جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
صحیح متفق علیہ
"جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔"
صحیح اسے امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں روایت کیا ہے
”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے