Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 71 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے"۔
صحیح متفق علیہ
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)
صحیح اسے ابوداؤد، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔
”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔، آپ ﷺ اپنی نماز کی اس جگہ سے جہاں آپ صبح کی نماز پڑھتے تھے، اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا، چنانچہ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ صحابہ کرام باتیں کرتے اور دورِ جاہلیت کے امور کا تذکرہ شروع کر دیتے، تو وہ ہنستے اور آپ ﷺ تبسم فرماتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"عصر کی نماز جلدی پڑھا کرو۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔"
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا، جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو تصویریں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا ڈالتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہیں"۔
صحیح متفق علیہ
"کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔"
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے