Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 57 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

"جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔‘‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔
صحیح متفق علیہ
"جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں، دو رکعت عشا کے بعد گھر میں اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔ دراصل یہ ایسا وقت تھا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں کوئی جاتا نہيں تھا۔ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب مؤذن اذان دیتا اور فجر طلوع ہو جاتا، تو آپ دو رکعت پڑھتے۔ جب کہ ایک روایت کے الفاظ ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
صحیح اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں
"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
صحیح متفق علیہ
"جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری گھڑی میں نکلا۔ اس نے گویا ایک گائے کی قربانی دی۔ جو تیسری گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مینڈھے کی قربانی دی۔ جو چوتھی گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مرغی صدقے میں دی۔ جو پانچویں گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک انڈا صدقے میں دیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے، تو فرشتے حاضر ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ
عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر نَو کا ارداہ کیا، تو لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس (مسجد) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے۔ توعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔"
صحیح متفق علیہ