Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 38 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

"جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
صحیح متفق علیہ
"جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری گھڑی میں نکلا۔ اس نے گویا ایک گائے کی قربانی دی۔ جو تیسری گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مینڈھے کی قربانی دی۔ جو چوتھی گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مرغی صدقے میں دی۔ جو پانچویں گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک انڈا صدقے میں دیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے، تو فرشتے حاضر ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔"
صحیح متفق علیہ
عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر نَو کا ارداہ کیا، تو لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس (مسجد) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے۔ توعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔"
صحیح متفق علیہ
ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)، اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ‘‘، چناں چہ نبی ﷺ نے اسی کا حکم دیا۔
صحیح متفق علیہ
"مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر۔ اور اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔"
صحیح متفق علیہ
کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے درمیان اس بات کے سلسلہ میں بحث ہو گئی تھی کہ اللہ ﷺ کا منبر کس لکڑی سے تیار ہوا تھا؟ انہوں نے اس کی بابت حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی سے تیار ہوا تھا۔ میں نے اسے پہلے دن بھی دیکھا جب اسے تیار کر کے رکھا گیا تھا اور اس وقت بھی دیکھا جب اس پر پہلے دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت کو، جس کا نام سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، یہ کہلا بھیجا: ’’تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنا دے، تاکہ میں جب لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام کو یہ حکم دیا، تو وہ جنگل کے جھاؤ درخت سے (منبر) تیار کر کے اس کے پاس حاضر کر دیا اور اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھنا شروع کیا۔ تکبیر تحریمہ اس کے اوپر کہی، پھر آپ نے رکوع بھی اسی کے اوپر کیا، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر واپس منبر پر آ گئے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
صحیح متفق علیہ
"ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"
صحیح متفق علیہ
"جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیارکرتا ہے، جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتاہے۔"
صحیح متفق علیہ