Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 34 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنے دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اسے رگڑا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر پر پانی بہایا، پھر پورے بدن کو دھویا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ اس کے بعد میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی، تو آپ نے اسے نہيں لیا اور اپنے ہاتھ سے پانی جھاڑنے لگے۔
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
صحیح متفق علیہ
”مونچھیں تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔
صحیح متفق علیہ
میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔
صحیح متفق علیہ
مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے کسی کام سے بھیجا۔ (دورانِ سفر) میں جنبی ہو گیا اور (غسل کے لیے) پانی نہ مل سکا، اس لیے میں زمین پر لوٹنے لگا، جس طرح جانور لوٹتا ہے۔ بعد ازاں جب اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بس اتنا کر لینا کافی تھا"۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ، ہتھیلیوں کی پشت اور اپنے چہرے کا مسح کیا۔
صحیح متفق علیہ
میں استحاضے کی شکار ہوں اور پاک نہیں ہو پاتی۔ کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔"
صحیح متفق علیہ
میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں ذرا دور ہٹ کر کھڑا ہو گیا، تو فرمایا : "قریب آ جاؤ۔" چنانجہ میں قریب آکر آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔
صحیح متفق علیہ