عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (16)
"اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ جب بندہ {الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی -اور ایک مرتبہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے اپنے سارے کاموں کو میرے حوالے کر دیا۔- جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔
صحیح متفق علیہ
جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے‘ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ‘ اللہ تعالی اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے‘‘ [البقرة: 284]، تو یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر بڑی گراں گزری۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان اعمال کا مکلف کیا گیا جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، (جیسے) نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ اور (اب) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا تم وہی کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی؟ بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے»۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ جب لوگوں نے (یہ کلمات) پڑھے اور ان کے ساتھ ان کی زبانیں رواں ہو گئیں تو اللہ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی: ’’رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے‘ یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اس کے رسولوں میں سے سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے‘ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی‘ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ [البقرة: 285]۔ جب انھوں نے ایسا کر لیا تو اللہ تعالی نے اسے منسوخ فرما دیا اور اللہ عز و جل نے یہ نازل فرمایا: ’’اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘ جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے‘ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈالنا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے‘ ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے