دين الحق

دين الحق

دینِ حق

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 1.0
Translations 12
Amharic Assamese Bosnian Gujrati +8
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

دینِ حق

تالیف: فضیلۃ الشیخ

عبد الرحمن بن حماد العمر

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

مقدمہ اور ہدیہ

سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے، اور درود و سلام ہو تمام رسولوں پر،اورحمدوصلاۃ کے بعد:

یہ راہ نجات پر گامزن ہونے کی یہ ایک دعوت ہے جسے ہم ہر سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص کی خدمت میں اس امید پر پیش کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے گم گشتہ راہ کو ہدایت یاب فرمائے اور ہمارے اور ان تمام لوگوں کے لیے باعثِ اجر وثواب بنائے جو اس کی نشر واشاعت میں حصہ لیں، سو اب میں کہتا ہوں اور اللہ ہی بہتر مددگار ہے۔

اے عقل وفہم رکھنے والے انسان! جان لے کہ اس دنیوی زندگی میں یا اخروی زندگی میں جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے اس میں تجھے کامیابی اور نیک بختی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب تو اپنے اس رب کی معرفت حاصل کرلے جس نے تجھے اور ساری کائنات کو پیدا فرمایا اورتو اس پر ایمان لے آئے اور تو صرف اسی کی عبادت کرے، اور تو اس نبی برحق کی معرفت حاصل کرے جسے اللہ تعالیٰ نے تجھے اورتمام انسانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے پس تو اس پرایمان لا ئے اور اس کی اتباع کرے، پھر اس دین برحق کی مکمل معرفت حاصل کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم فرمایا ہے اور اس پر تو ایمان لائے اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو۔

زیرِ نظر کتاب ’’دینِ حق‘‘ ان تمام اہم وعظیم امور پر مشتمل ہے جن کا جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا تیرے لئے ضروری ہے، اور ہم نے حاشیہ میں بعض ان عبارتوں اور مسائل کی مزید تشریح وتفصیل دے دی ہے جو قدرے تشریح طلب تھے۔ (دوسری طرف) ہم نے اس پوری کتاب میں قرآنِ کریم کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث پر اعتماد کرتے ہوئے دلائل پیش کیے ہیں، کیوں کہ یہی دونوں چیزیں اس دینِ حق کے مآخذ ہیں جس کے سوا کسی کا کوئی دین اللہ کو قبول نہیں ہے۔

اور میں نے اندھی تقلید سے اجتناب کیا ہے جس نے بہتوں کو گمراہ کیا ہے، بلکہ ہم نے بعض ان باطل وگمراہ فرقوں پر روشنی ڈالی ہے جو بر حق ہونے کے دعویدار ہیں حالاں کہ وہ حق سے دور ہیں، ایسا ہم نے اس لیے کیا ہے تاکہ جو ناواقف وغیرہ ان فرقوں کی جانب منسوب ہیں وہ سب ہوشیار ہو جائیں۔اور اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہتر کارسازہے۔

از: مغفرت الٰہی کے بندہ محتاج

عبد الرحمن بن حماد آل عمر

أستاذ شعبۂ دینیات

فصل اول : اللہ [1] خالق عظیم کی معرفت :

[1] لفظ ’’اللہ‘‘ کائنات، لوگوں اور ہر چیزکے معبود کے لیے مخصوص ہے، خود اللہ تعالی نے بنفس نفیس اپنی ذات پاک کے لیے اس نام کا انتخاب فرمایا ہے جس کے معنی ’معبودِ برحق‘ کے ہیں۔

اے عقل وفہم رکھنے والے انسان! جان لے کہ جس ذات پاک نے تجھے عدم سے وجود بخشا، اور تجھے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا وہی اللہ ہےجو ساری کائنات کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ [2] پر ایمان رکھنے والے عقلمند لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا ہے لیکن ایسے دلائل سے واقفیت رکھتے ہیں جو اس کے وجود پر نیز اس کے خالق کائنات ہونے اور نظام حیات چلانے پر شاہد ہیں، ان دلائل مین سے چند یہ ہیں:

[2] لفظ ’’تعالی‘‘ اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تعریف کے لیے اور اسے پاکی وبلندی کی صفت سے متصف کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔

پہلی دلیل : کائنات، انسان اور زندگی: یہ تینوں چیزیں حادث ہیں، جن کی ابتدا اور انتہا ہے اور اپنے وجود کے لیے دوسرے کی محتاج ہیں۔ اور جو چیز حادث اور محتاج ہو وہ مخلوقات کے قبیل سے ہوئی اور جو چیز مخلوق ہوئی تو بدیہی طور پر اس کے خالق کا ہونا ضروری ہے، اور یہ عظیم خالق اللہ وحدہ کی ذات پاک ہے جس نے خود اپنے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ساری کائنات کا خالق اور اس کے نظام کو چلانے والا ہے۔ اور اس کا علم ہم کو ان آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہوا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور اللہ کے رسولوں نے لوگوں کو اللہ کے کلام کی تبلیغ کی اورانہیں اس پر ایمان اور تنہا اس کی عبادت کی دعوت دی۔ چنانچہ قرآن عظیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’بے شک تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کردیا، پھر عرش پر مستوی ہوگیا، ڈھانپ لیتا ہے رات سے دن کو، وہ جلدی سے اسے آلیتی ہے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو (اسی نے پیدا کیا) سب اس کے حکم کے تابع ہیں، یاد رکھو اسی کے لیے خاص ہے آفرینش بھی اور حکومت بھی، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہاں کا پروردگار ہے۔‘‘

[الأعراف:54]

آیت کریمہ کا اجمالی معنی :

اللہ تعالی ساری مخلوقات کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہی ان کا رب ہے جس نے انھیں اور آسمانوں اور زمین کو بھی چھ دنوں میں پیدا کیا [3]۔ اور یہ خبر دے رہا ہے کہ وہ عرش پر مستوی [4] ہے۔ [3] بتدریج پیدا کرنے میں اللہ کی کوئی حکمت مضمر ہے ورنہ تو وہ چشم زدن میں خلقت پر قادر ہے کیوں کہ اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ’’کُنْ‘‘ کہہ دیتا ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے۔ [4] ’’استوی‘‘ کے معنی عربی زبان میں جو کہ قرآن کی زبان ہے کسی چیز کے مستوی اور مرتفع ہونے کے ہیں اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا اسی انداز سے ہے جو اس کے شایان شان ہے جس کی کیفیت سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا، اور ’’استوی‘‘ کے معنی ’’استولی‘‘ قابض ہونے کے نہیں ہیں، جس طرح کہ استولی علی الملک کہاجاتا ہے، یعنی حکومت پر قبضہ کرنا، یہ معنی وہ گمراہ لوگ مراد لیتے ہیں جو ان صفات باری تعالیٰ کی حقیقت کے منکر ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لیے یا رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کے لیے بیان فرمائے ہیں، وہ اس خام خیالی میں ہیں کہ اگر انھوں نے اللہ تعالی کی صفات حقیقی معنوں میں مراد لیا تو اس کی مخلوق سے مشابہت ہوجاتی ہے، حالا نکہ یہ خیال باطل ہے کیوں کہ مشابہت تو اس صورت میں ہوتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس کی یہ صفت مخلوق کی فلاں صفت جیسی ہے، لیکن اس کو اس طرح جو اس کے شایانِ شان ہو بغیر تاویل وتفویض اور بلا تمثیل وتعطیل کے تسلیم کریں تو اس میں کسی طرح کی مشابہت نہیں ہوتی اور یہی انبیاء کرام کا طریقہ ہے جس پر سلف صالحین گامزن رہے اور یہی راہ حق ہے جس پر ہر مسلمان کو چلنا چاہیے۔ اگر چہ لوگوں کی اکثریت اس طریقہ کو چھوڑے ہوئے ہے۔

اور عرش سارے آسمانوں کے اوپر ہے، جو سب سے زیادہ عظیم اور وسیع ترین مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ اس عرشِ عظیم پر مستوی ہے اور اپنے علم اور سمع وبصر کے ذردیعہ ساری مخلوقات کے ساتھ ہے اور مخلوق کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ رات دن کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی سے اسے آلیتی ہے، اور اس نے سورج وچاند اور ستاروں کو پیدا کیا اور اسی کے ہدایت کے مطابق یہ سب اپنے اپنے دائرے میں چکر لگاتے ہیں۔ مزید یہ بتایا کہ وہی تنِ تنہا ساری کائنات کا خالق ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے، اوروہ اپنی ذات وصفات میں عظیم اور کامل ہے جو ہمیشہ خیر وبھلائی سے نوازتارہتا ہے اور وہ سارے جہان کا رب ہے جس نے جس نے سب کو عدم سے وجود بخشا اور انہیں طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔

اورارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’اور اس کی نشانیوں میں رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے (بس) تم لوگ نہ سورج کو پوجو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو پوجو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر واقعی اس کی بندگی کرنے والے ہو۔‘‘

[فصلت: 37]۔

آیت کریمہ کی اجمالی تشریح :

اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں ان علامتوں کی نشاندہی فرمارہا ہے جو اس کی ذات پاک پر دلالت کرتی ہیں، جیسے رات و دن، سورج وچاند، اور سورج و چاند کی عبادت سے منع فرما رہا ہے کیوں کہ یہ دونوں تمام دوسری مخلوقات جیسی ایک مخلوق ہیں اور کوئی مخلوق عبادت کے لائق نہیں، اور سجدہ بھی عبادت کی ایک قسم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس آیت اور اس کے علاوہ آیتوں میں تمام لوگوں کو صرف اپنی ذات واحدکے لئے سجدہ کا حکم فرمارہا ہے کیوں کہ در حقیقت وہی ساری کائنات کا خالق اور نظام چلانے والا اور ساری عبادتوں کا سزاوار ہے۔

دوسری دلیل :

اللہ ہی نے مذکر اور مؤنث پیدا کئے ہیں، چنانچہ مذکر اور مؤنث کا وجود اللہ کے وجود پر دلیل ہے۔

تیسری دلیل :

زبانوں اور رنگوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا :چنانچہ دنیا میں ایسے دو شخص نہیں ملیں گے جن کی آواز یا رنگ یکساں ہو، بلکہ یقینی طور پر کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہو گا۔

چوتھی دلیل :

قسمتوں کا مختلف ہونا: یہ مالدار ہے تودوسرا فقیر ہے، یہ رئیس ہے اور وہ ملازم ہے، حالاں کہ ان میں سب ہی صاحب عقل وفہم ہیں اور مالداری، بلند مرتبہ اور حسین و جمیل بیوی کے حریص ہیں، لیکن بایں ہمہ ہر شخص دوسرے سے مال ومنصب میں مختلف ہے کیوں کہ کوئی بھی شخص محض دنیوی سعادت ومسرت اتنی ہی حاصل کرسکتا ہے

جتنا اللہ تعالی نے اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ اور ایسا اس عظیم حکمت کے پیش نظر ہے جس کا اللہ سبحانہ [5] نے ارادہ کیا ہے اوروہ یہ ہے : تاکہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعہ امتحان لے اور بعض کو بعض کا خادم بنائے تاکہ سب کی مصلحت محفوظ ہو کسی کا کوئی نقصان نہ ہو۔

[5] کلمہ ’سبحانہ‘ یعنی اللہ تعالی ہر نقص اور عیب سے پاک ہے ۔

اور جس کو اللہ تعالی نے دنیا میں سعادت سے نہیں نوازا ہے تو اللہ تعالی نے یہ خبر دی ہے کہ اس کو جنت میں مزید نعمتوں سے نوازے گا جب کہ اس کا ایمان باللہ پر خاتمہ ہوا ہو، اسی طرح اللہ تعالی عام طور پر فقیر کو ایسی خصوصیات سے نوازتا ہے خواہ وہ نفسانی ہوں یا صحت وتندرستی سے متعلق جو اکثر مالداروں کو بھی نصیب نہیں ہوا کرتی ہیں،اور یہ اللہ تعالی کی (عین) حکمت اور (کمالِ) انصاف ہے۔

پانچویں دلیل :

نیند اور سچے خواب ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سونے والے کو خوش خبری یا ڈراوے کے طور پر غیب کی بعض باتوں سے آگاہ کرتا ہے۔

چھٹی دلیل :

’’روح‘‘ ہے جس کی حقیقت سوائے تنہا اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔

ساتویں دلیل :

انسان :اور جو اس کے جسم میں حواس، اعصابی نظام، دماغ اورنظام ہاضمہ وغیرہ ہیں۔

آٹھویں دلیل :

اللہ تعالیٰ مردہ زمیں پر بارش نازل فرماتا ہے پس زمین طرح طرح کے سبزے اور درخت اگاتی ہےجو رنگ وروپ،منافع اورمزے میں ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔یہ چند نمونے ان سيکڑوں دلائل میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں تذکرہ فرمایا ہے اور جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے کہ یہ ثابت شدہ دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے وجود اور اس کے ساری کائنات کے خالق اور مدبر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

نویں دلیل :

وہ فطرتِ سلیمہ جس پراللہ تعالی نےانسان کو پیدا کیا ہے وہ اپنے خالق و مدبر اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے پر پورا ایمان ویقین رکھتی ہے اور جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے اور اپنے آپ کو بدبختی کی طرف لے جارہا ہے ، مثال کے طور پرلادینی نظریات کا رکھنے والا شخص [6] دنیا میں بھی بدبختی کی زندگی گزارتا ہے اور مرنے کے بعد بھی جہنم رسید ہوگا۔ کیوں کہ اس نے اپنے رب کی تکذیب کی جس نے اسے عدم سے وجود بخشا اور نعمتوں سے نوازا، ہاں مگر وہ شخص جو توبہ کرلے اور اللہ، اس کے دین اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔ [6] اور اسی طرح :ملحد ہے۔ دسویں دلیل : بعض مخلوقات مثلا بکریوں کی نسل میں برکت عطا فرمانا اور اس کے بر عکس بعض مخلوقات مثلا کتے اور بلی کو اس برکت سے محروم رکھنا(بھی اللہ تعالی کے وجود کی ایک اہم دلیل ہے)۔ *** اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے کہ وہ :

اول ہے جس کی کوئی ابتدا نہیں، اور وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والی ذات ہے جو نہ کبھی مرنے والی اور نہ ختم ہونے والی ہے، جو بذات خود غنی ہے کسی دوسرے کی محتاج نہیں، وہ تنِ تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔“

’’اللہ بے نیاز ہے‘‘۔

’’نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے‘‘۔

’’اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے‘‘۔

[الإخلاص: 1، 4]،

آیتوں کا معنیٰ :

جب کفارِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق دریافت کیا تو اللہ نے آپ پر یہ سورت نازل کی اور ان آیتوں میں میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کوحکم فرمایا کہ ان سے یہ کہیں کہ:

اللہ تعالیٰ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ ہمیش زندہ رہنے والی اور کائنات کا نظام چلانے والی ہے، اسی کے لیے ساری کائنات کی سرداری ہے، اور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے صرف اسی کی طرف رجوع کریں۔

جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے کہ اس کا کوئی لڑکا ہو یا لڑکی،باپ ہے یا ماں، بلکہ اس نے اس سورہ میں اور دیگر سورتوں میں بھی ان تمام چیزوں کی اپنی ذات پاک کی طرف نسبت کی شدید طور پر نفی فرمائی ہے، کیوں کہ شجرۂ نسب اور پیدائش کا ہونا مخلوقات کی صفات میں شمار ہوتا ہے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے اس نظریہ کی کہ ’’حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں‘‘اور یہودیوں کے اس عقیدہ کی کہ’’عزیر اللہ کے لڑکے ہیں‘‘ شدید نکیر وتردید فرمائی ہے، اسی طرح بعض لوگوں کے اس قول باطل کی کہ ’’فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں‘‘ مذمت فرمائی ہے۔

اور اسن نے بتلایا ہے کہ اسی نے حضرت عیسیٰ کو اپنی قدرت سے اسی طرح بغیر باپ پیدا فرمایا ہے جس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے اور حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا فرمادیا، پھر ان کی اولاد یعنی ساری انسانیت کو ماں باپ کے نطفہ سے پیدا فرمایا۔ ابتدائے آفرینش میں ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا پھر اس نے اپنی مخلوقات کے سلسلہ میں ایسا نظام مقرر فرمادیا جس میں کوئی شخص تبدیلی نہیں کر سکتا اور اسی باریک قانون فطرت کے تحت وہ چیز معرض وجود میں آتی ہے، مگر یہ کہ خود اللہ تعالیٰ ہی اس نظام وقانون سے ہٹ کر اگر کوئی چیز پیدا کرنا چاہے تو بغیر کسی رکاوٹ کے پیدا کرنے پر قادر ہے،

جیساکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا جو ماں کی گود میں ہی بول رہے تھے، اور موسی علیہ السلام کے عصا کو رینگتے ہوئے سانپ میں تبدیل فرما دیا، اور جب انھوں نے اپنے اسی عصا سے سمندر کو مارا تو اس میں راستہ بن گیا، جس پر سے وہ اور ان کی قوم سمندر عبور کرگئی، اور نبی کریم ﷺ کےاشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کردیا اور جب آپ ﷺ درخت کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ آپ ﷺ کو سلام کرتا تھا، اور جانور آپ کی نبوت ورسالت کی بآواز بلند شہادت دیتا تھا جسے لوگ اپنے کانوں سے سنتے تھے،وہ کہتا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو براق پر سوار کرکے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا، پھر وہاں سے آسمانوں تک حضرت جبریل کی معیت میں لے جایا گیااور اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ سے کلام فرمایا اور پانچ وقت کی نمازوں کا تحفہ لے کر مسجدِ حرام واپس تشریف لائے، اور اس سفر میں جو صرف ایک رات کا تھا فجر سے پہلے ہر آسمان پر رہنے والوں سے متعارف ہوئے، اسراء معراج کے واقعہ کی تفصیلات قرآنِ کریم اور کتب احادیث وتاریخ میں موجود ہیں۔

***

اللہ تعالیٰ نے جن صفات سے اپنی ذات پاک کو متصف کیا ہے اور جن صفات کو رسول اللہ نے بیان فرمایا ہے :

1- سننا، دیکھنا، علم رکھنا، قدرت رکھنا، اور ارادہ کرنا بھی ہے، چنانچہ وہ ہر چیز کو سنتا اور دیکھتا ہے اور کوئی بھی چیزاس کے سننے اور دیکھنے میں مانع نہیں ہے۔

اور رحم کے اندر کی چیزیں اور سینے میں چھپے ہوئے راز، اورجو کچھ ہوچکا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ اس کا بخوبی علم اور واقفیت رکھتا ہے۔ وہ ذات ایسی قادر مطلق ہے کہ جب کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو ’کُنْ‘ (ہو جا) کہتی ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے۔ 2-کلام بھی اللہ کی صفت ہے، چنانچہ وہ جس طرح اور جیسے چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا، اور نبی اکرم ﷺ سے بھی کلام فرمایا، اسی طرح قرآنِ کریم مع اپنے حروف ومعانی کلام الہی ہے جسے نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور مخلوق نہیں ہے جیسا کہ گمراہ فرقہ معتزلہ [7] کا نظریہ ہے۔ [7] معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے جس نے اللہ کے اسمائے حسنی میں تحریف کی اور ان کے معانی میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مراد کے برخلاف تأویل سے کام لیا۔ (اللہ تعالیٰ نے جن صفات سے اپنی ذات پاک کو متصف کیا ہے ان میں) 3- چہرے کا ہونا، دونوں ہاتھوں کا ہونا، مستوی ہونا، نزول فرمانا [8]، خوش ہونا اور ناراض ہونا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مومن بندوں سے راضی اور خوش ہوتا ہے اور کفار اور اس کی نافرمانی کرنے والوں سے ناراض اور غصہ ہوتا ہے۔ اور اس کا راضی ہونا اور غصہ ہونا اس کی دیگر صفات کی طرح اس کی شایانِ شان ثابت ہیں، جو مخلوق کی صفات سے مشابہ نہیں، اور نہ ہی ان کی تاویل کی جاسکتی ہے اور نہ کیفیت بیان کی جاسکتی ہے۔ [8] جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب ہر رات آسمانِ دنیا پر اترتا ہے اور اعلان کرتا ہے : ’’ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا جس کی میں دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا جس کو میں عطا کروں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا جس کو میں بخس دوں؟‘‘۔ [بخاري (7494)، مسلم (758)، ترمذي (3498)].

قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ مومنین میدان محشر میں اور جنت میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا قرآن کریم اور احادیث میں تفصیل سے ذکر آیا ہے وہاں اس کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔

***

جن و انس کے پیدا کرنے کا مقصد : اے عقل والے!جب تم نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ ہی تمھارا رب ہے جس نے تمھیں پیدا کیا تو اس کا بھی یقین رکھ کہ اس نے تم کو ایسے ہی بلاوجہ پیدا نہیں کیا بلکہ اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

’’اور میں نے تو جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں۔‘‘ (56)

’’میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلایا کریں۔‘‘(57)

’’اللہ تو خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے، قوت والا ، مضبوط ہے۔‘‘(58)

[ الذاريات: 56 - 58 ] آیات کریمہ کی اجمالی تفسیر :

اللہ تعالیٰ پہلی آیت میں یہ بیان فرما رہا ہے کہ اس نے جنات [9] وانسان کو صرف اپنی ذات واحد کی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور دوسری وتیسری آیت میں یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے مستغنی ہے اور ان سے کسی طرح کے کھانے اور روزی کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ وہ تو ایسی قادر ذات پاک ہے جو سب کو روٹی روزی دیتا ہے اس کے علاوہ کوئی کسی کو رزق فراہم نہیں کرتا، وہی بارش برساتا ہے ، اور زمین سے طرح طرح کے اناج اور رزق پیدا فرماتا ہے۔ [9] جنات: عقل وفہم رکھنے والی ایک مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کی طرح عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ ان ہی کے ساتھ روئے زمین پر رہتے ہیں لیکن انسان ان کو دیکھ نہیں پاتے۔

اور وہ دوسری زمینی مخلوقات جو عقل وفہم نہیں رکھتیں انھیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں (کی خدمت وراحت) کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت ان کی مدد سے بحسن وخوبی انجام دیں اور ان کے ساتھ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق سلوک کریں۔ کائنات کی ساری مخلوقات، اور اس کی ساری نقل وحرکت اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی حکمت کے تحت ہے جس پر قرآن کریم نے روشنی ڈالی ہے اور جس سے ہر صاحبِ علم اپنے علم وبصیرت کے بقدر واقفیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر انسانوں کی عمر میں تفاوت کا ہونا، اور روزی میں کمی بیشی کا ہونا، ابتلاء وآزمائش میں ایک دوسرے میں فرق ہونا، ان سب کا فرق واختلاف اللہ تعالیٰ کی مشیت ومرضی سے ہوتا ہے تاکہ اپنے عقلمند بندوں کا امتحان لے۔ چنانچہ جو شخص راضی برضائے الہی رہا اور قضا وقدر کے سامنے سر تسلیم خم کردیا، اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر چلنے کی کوشش کرتا رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی اور وہ اس کو سعادتِ دنیوی اور مرنے کے بعد اخروی سعادت سے نوازے گا اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضا وقدر کا شکوہ کیا اور اس کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لی اور دنیا وآخرت میں بدبختی کا مستحق ٹھہرا۔ ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور اپنی ناراضگی سے محفوظ رکھے۔

***

موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے، حساب وکتاب،اعمال کے مطابق جزا و سزا اور جنت و جہنم کا بیان :

اے عقلمند شخص !جب تم نے اچھی طرح یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے تو اس پر بھی یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان کتابوں میں جن کو اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں، بیان فرمایا کہ وہ تم کو موت دینے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھارے دنیاوی نیک وبد اعمال کا مرنے کے بعد بدلہ دے گا اور وہ یومِ آخرت ہوگا جس کو یوم جزا بھی کہتے ہیں، کیوں کہ انسان موت ہی کے ذریعہ سے دار العمل اور دار الفناء سے دار الجزاء اور دار البقاء کی طرف منتقل ہو. ہے،

جب انسان دنیا کی اپنی مقررہ عمر پوری کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ موت کے فرشتے کو اس کی روح کو اس کے جسم سے نکالنے کا حکم دیتا ہے چناچہ جسم سے روح نکلنے سے پہلے موت کی سخت ترین تکلیف سے دوچار ہوکر وہ مرجاتا ہے۔ اگر وہ روح اللہ پر ایمان اور اس کی اطاعت گزار بندہ کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دار النعیم (جنت) میں پہنچا دیتا ہے، اور اگرکافر اور مرنے کے بعد بعث اور جزا وسزا کا انکار کرنے والےکی ہوتی ہے تو دار العذاب (جہنم) میں پہنچا دیتا ہے، تاآں کہ دنیا کے اختتام کا وقت آجائے اور قیامت قائم ہوجائے اور جو لوگ زندہ بچے ہیں وہ موت کی ابدی نیند سوجائیں، اور سوائے اللہ حیّ وقیوم کے کوئی ذات زندہ وباقی نہ رہ جائے، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ ساری مخلوق یہاں تک کہ حیوانوں کو اٹھائے گا اور سارے جسموں میں روح لوٹادے گا جو پہلے ہی جیسے ہوجائیں گے، پھر اس کے بعد ان کے دنیوی اعمال پر حساب وکتاب ہوگا اور اسی کے مطابق جزا وسزا دی جائے گی، کسی عورت ومرد، خادم ومخدوم، امیر وغریب میں کوئی فرق وامتیاز نہ برتا جائے گا اور ذرہ برابر کسی پر ظلم وزیادتی نہ ہوگی، ظالم سے مظلوم کا حق دلایا جائے گا حتی کہ حیوانات سے باہمی ظلم وزیادتی کا بدلہ چکایا جائے گا، پھر ان سے کہا جائے گا تم سب مٹی ہوجاؤ کیوں کہ جانور جنت وجہنم میں نہ جائیں گے۔ اللہ تعالی جنوں اور انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا، چناںچہ مومنین کو جنہوں نے اس کی اطاعت کی اوراس کے رسول کی اتباع کی جنت میں داخل کرے گا، اگرچہ وہ دنیا میں سب سے غریب رہے ہوں اور جھٹلانے والے کفار کو جہنم رسید کرے گا اگر چہ دنیا میں امیر اور باحیثیت رہے ہوں، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’تم میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ [ الحجرات: 13 ]

جنت : وہ طرح طرح کی نعمتوں سے بھرپور جگہ ہے جسے انسان بیان نہیں کرسکتا، جس میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کے لیے قوت وایمان اور اللہ کی اطاعت کے اعتبار سے رہائشی ہیں، جنت میں سب سے کم درجہ والا شخص دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ کے عیش وآسائش سےکئی گنا زیادہ عیش وعشرت میں ہوگا۔ [10] [10] مغيره بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ شخص ہے جو سب جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا جنت میں چلا جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیسے جاؤں ؟ وہاں تو سب لوگو ں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے؟۔ وہ کہے گا میں راضی ہوں اے میرے رب!۔ اللہ تعالی فرمائیں گے: جا اتنا ہم نے تجھے دیا ہے اور اتنا ہی اور ، اور اتناہی اور ، اور اتنا ہی اور ، اور اتنا ہی اور۔ پانچویں بار میں وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ بھی تیرے لیے اور اس کا دس گنا اور بھی تیرا ہے۔ اور جو تیرا جی چاہے اور جو تجھے اچھا نظر آئے وہ بھی تیرا ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوگیا ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ: سب سے بڑے درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور ان کی بزرگی اور عزت کو میں نے اپنے ہاتھ سے جمایا اور اس پر مہر کردی۔ نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی خیال بن کر گزرا ہے۔ رواه مسلم (189) دوزخ : اس سے اللہ تعالیٰ ہم کو پناہ دے، وہ گونا گوں عذاب وسزا کا مرکز ہے، جس کے بیان سے قلب وجگر لرز جاتے ہیں اور آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں.

اگر قیامت کے بعد دوبارہ موت ہوتی تو محض دوزخ کے دیکھنے ہی سے جہنمی مرجاتے، لیکن موت تو صرف ایک بار آتی ہے، جس کے ذریعہ سے انسان دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے موت، حشر ونشر، حساب وکتاب، جزا و سزا اور جنت ودوزخ کا تفصیل سے نقشہ کھینچا ہے اور اس کی ساری چیزوں کو وضاحت سے بیان کردیا ہے، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔

موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب وکتاب اور جزا وسزا کے برحق ہونے پر بکثرت دلائل موجود ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

’’اسی (زمین) سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمھیں واپس لے جائیں گے اور اسی میں سے تمھیں پھر دوبارہ نکالیں گے۔‘‘

[طه:55]

مزید ارشاد الہی ہے : ’’اور ہمارے شان میں عجیب (گستاخانہ ) مضمون بیان کیا اور اپنی خلقت کو بھول گیا، کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں۔‘‘ [يس:78-79]

ایک جگہ اور اللہ فرماتا ہے :

’’جو لوگ کافر ہیں ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہ (دوبارہ) اٹھائے نہ جائیں گے، آپ (ان سے) کہئے ضرور اور قسم ہے میرے پروردگار کی ضرور تم اٹھائے جاؤگے پھر جو کچھ تم کر چکے ہو اس کی تمھیں خبر دی جائے گی اور یہ اللہ پر (بالکل) آسان ہے۔‘‘

[التغابن:7] آیات کریمہ کی اجمالی تفسیر : 1- اللہ تعالیٰ پہلی آیت میں یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان کو اس نے زمین سے یعنی مٹی سے پیدا کیا، اور یہ اس طور پر ہوا کہ اس کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، اور دوبارہ مرنے کے بعد قبروں میں مٹی ہی میں ملادے گا اور پھر قبروں سے سبھی کو زندہ کرکے برآمد کرے گا اور ان کا حساب وکتاب لے کر اچھے برے اعمال کا بدلے دے گا۔ 2- اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ان کافروں کی تردید فرمارہا ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں اور انھیں تعجب ہوتا ہے کہ ہڈیاں سڑنے گلنے کے بعد کیسے زندہ ہوجائیں گی اور ان کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ ذات پاک جو پہلی مرتبہ ان کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہی ان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ 3- اور تیسری آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ ان ہی کفار ومشرکین کے فاسد گمان کا جواب دے رہا ہے جو کہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو ناممکن تصور کرتے ہیں تو اس کو ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم فرمارہا ہے کہ ان سے قسم کھا کر یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ بعث بعد الموت پر قادر ہے اور ان کے اعمال سب سامنے آئیں گے اور اسی کے مطابق بدلہ دیا جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ معمولی سی چیز ہے۔

اور ایک دوسری آیت میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب بعث بعد الموت اور جہنم کے منکرین کو زندہ کرے گا تو انھیں جہنم میں عذاب دے گا اور ان سے کہا جائے گا۔

’’لو جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔‘‘

[السجدة:20]

انسان کے قول وفعل کا ریکارڈ :

اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی وضاحت کردی ہے کہ انسان جو کچھ بھی اچھا یا بُرا قول وفعل انجام دے گا، چاہے وہ علانیہ ہو یا پوشیدہ طور پر، سب اللہ تعالی کے علم میں ہے اور لوحِ محفوظ میں آسمان وزمین اور انسان اور دوسری ساری مخلوقات کے پیدا کرنے سے قبل لکھ دیا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر انسان کی نگرانی اور اس کے اچھے برے اعمال لکھنے کے لیے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر فرمائے ہیں، دائیں جانب والا فرشتہ نیکیاں لکھتا رہتا ہے اور بائیں جانب والا برائیاں،انسان کا کوئی بھی قول و فعل ان سے فوت نہیں ہوتا اور پھر انسان کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد قیامت میں اسے وہ محفوظ شدہ ریکارڈ دے دیا جائے گا، چنانچہ وہ اس کو پڑھنے کے بعد کسی ایک چیز کے بھی انکار وتردید کی جرأت نہ کرسکے گا، اور جو شخص کسی چیز کا انکار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے کان،آنکھ ،اس کے دونوں ہاتھوں،اس کے دونوں پیروں اور اس کی کھال سے اس کے کرتوت کی گواہی دلوائےگا۔

قرآن کریم میں مذکورہ باتوں کی تفصیل موجود ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے۔‘‘

[ق:18]

مزید ارشاد الہی ہے : ’’دراں حالاں کہ تمھارے اوپر (ہماری طرف سے) یاد رکھنے والے معزز لکھنے والے مقرر ہیں، وہ جانتے ہیں اس کو جو کچھ تم کررہے ہو۔‘‘ [الانفطار:10-12]

آیتوں کی تفسیر :

اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہر انسان پر دو فرشتے مقرر ہیں ایک داہنے طرف نگراں ہے جو اعمالِ حسنہ لکھتا ہے اور دوسرا بائیں طرف سخت ہے جو اعمالِ سیئہ تحریر کرتا ہے۔ اور آخری دونوں آیتوں میں اللہ تعالی نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے لوگوں کے ساتھ کچھ معزز فرشنے مقرر کردئے ہیں جو ان کے تمام افعال کو لکھتے رہتے ہیں، اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے ان فرشتوں کو بندوں کے تمام افعال کا علم رکھنے اور انھیں لکھ لینے کی قدرت عطا کی ہے، اور اس کے بغیر بھی اللہ کو بندوں کے تمام افعال کا علم ہے اور ان کے پیدا کرنے سے پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔

شہادت :

ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں اور اس کی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اور اس کی بھی شہادت دیتے ہیں کہ جنت وجہنم حق ہے اور روزِ قیامت کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں، اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو حساب وکتاب کے لیے ان کی قبروں سے برآمد کرے گا اور ان کے نیک وبد اعمال کا بدلہ دے گا، اور جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہم کو بتایا ہے یا نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے سب کے سب حرفًا حرفًا برحق ہیں۔ اے عقل وفہم رکھنے والے ہم تجھے اس شہادت پر ایمان لانے کی،اس کا اعلان کرنے اور اس کے معنی پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دے رہے ہیں بس یہی راہ نجات ہے۔

فصلِ دوم : رسول اللہ ﷺ کی معرفت :

اے عقل وفہم رکھنے والے!جب تم نے یہ جان لیا کہ اللہ رب العزت وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو پیدا فرمایا پھر تم کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھارے نیک وبد اعمال کے مطابق جزا وسزا دے گا، تو تم اس کے بعد اس پرایمان ویقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف اور سب لوگوں کی طرف رسول بھیجا ہے، اور اس کی اطاعت وفرماں برداری کا حکم دیا ہے اور اس کی بھی وضاحت کردی ہے کہ صحیح اور درست عبادت واطاعت کی معرفت اسی رسول کی اتباع کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور اللہ کی شریعت پر اسی وقت عمل پیرا ہوا جاسکتا ہے اور اس کی عبادت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے جب اس کی کامل ترین اطاعت کی جائے،

اور یہ رسولِ کریم جن پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا ہر شخص پر واجب ہے وہ خاتم المرسلین اور تمام لوگوں کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ’’محمد‘‘ نبی امی ﷺ ہیں، جن کی بعثت کی بشارت حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ نے اپنے اپنے زمانے میں دی تھی جس کا تذکرہ تورات وانجیل میں چالیس سے زائد جگہوں پر آیا ہے اور جس کو یہودی اور عیسائی تورات وانجیل میں تحریف سے قبل پڑھتے وپڑھاتے تھے۔ [11]

[11] ان بشارتوں کی تفصیلات کا جو تورات وانجیل میں وارد ہوئی ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی تصنیف ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ کی پہلی جلد میں مطالعہ کیا جاسکتا ہے، اسی طرح علامہ ابن القیم کی کتاب ’’ہدایۃ الحیاری‘‘ اور سیرت ابن ہشام اور تاریخ ابن کثیر میں’’معجزات النبوۃ‘‘ میں بھی یہ تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔

اور یہ پیارے نبی ﷺ جو خاتم الانبیاء اور ساری انسانیت کی طرف منصبِ نبوت ورسالت سے مشرف کرکے مبعوث کیے گئے ہیں ان کا نام نامی اور نسب گرامی : محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب الہاشمی القرشی ہے۔ جو روئے زمین پر سب سے شریف قبیلہ کے سب سے سچے اور شریف شخص ہیں جن کا شجرۂ نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے جاملتا ہے۔ آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں ۵۷۰ ء میں پیدا ہوئے،

آپ نے جس شب آنکھ کھولی، آپ کے پیدا ہوتے ہی ایک عظیم نور سے پوری کائنات روشن ہوگئی، جس سے لوگ ڈر گئے، کتبِ تاریخ میں یہ واقعہ نوٹ کیا گیا، اور قریش کے صنم خانوں میں انقلاب برپا ہوگیا، تراشیدہ بُت اوندھے منہ گر پڑے اور قیصر وکسریٰ کے ایوان ہِل گئے، اور دس سے زائد کنگورے ٹوٹ کر گرگئے، اور آتش کدہ فارس بجھ کر ٹھنڈا ہوگیا جو دو ہزار سال سے بجھا نہیں تھا۔

یہ انقلاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سارے روئے زمین کے باشندوں کے لیے اعلان وانتباہ تھا کہ خاتم الانبیاء والمرسلین کی ولادت باسعادت ہوچکی ہے جو ان بتوں کو پاش پاش کریں گے جن کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا ہو رہی ہے اور جو قیصر وکسریٰ کو اللہ واحد کی عبادت اوراس کے دین میں داخل ہونے کی دعوت دیں گےاور جب وہ اس دعوت پر لبیک کہنے سے انکار کریں گے تو یہ آخری نبی ان سے جہاد کریں گے اور ان کے متبعین ان کا ساتھ دیں گے اور آخر کار یہ لوگ ان طاقتوں سے نبرد آزما ہوکر فتح یاب ہوں گے اور اللہ کے دین کو جو زمین میں اس کا نور ہے پھیلائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے بعد ایسا ہی کیا جیساکہ اشارہ ہوا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کچھ ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو دوسرے انبیاء ورسل عظام میں نہیں پائی جاتیں، ان میں سے بعض یہ ہیں :

1] خاتم الأنبیاء ہونا : آپ ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں ، آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔

2] عمومِ رسالت : آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے رسول بناکر مبعوث کیے گئے ہیں اور سارے لوگ امتِ محمدیہ کہلائے جائیں گے، جس نے آپ کی اطاعت کی وہ جنتی ہوگا اور جس نے آپ کی نافرمانی کی وہ جہنم رسید ہوگا۔ یہودی اور عیسائی بھی آپ کی مکمل اتباع کے مکلف ہیں، اور جنھوں نے آپ کی پیروی نہ کی اور نہ آپ کی نبوت ورسالت پر ایمان لائے وہ درحقیقت حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی اور سارے انبیاء کرام کے منکر ہیں۔

اور موسی،عیسی اور سارے انبیاء ان پیروکاروں سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے جنہوں محمد صلى الله عليه وسلم کی اتباع نہیں کی کیوں کہ ان انبیاء کرام نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم ﷺ کی بعثت کی بشارت دی ہے، اور آپ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے، اور اس لیے بھی کہ آپ کا دین اسلام سارے انبیاء کرام کا دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت ورسالت کے ذریعہ درجہ کمال کو پہنچا دیا ہے، اس لیے کسی بھی شخص کے لیےجائز نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد دینِ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اپنائے کیوں کہ دینِ اسلام ہی آخری اور مکمل دین ہے جس کے ذریعہ اللہ نے تمام ادیان کو منسوخ کردیا ہے اور دین اسلام ہی تاقیامت محفوظ رہنے والا ہے۔

جہاں تک یہودیت اور عیسائیت کا تعلق ہے تو وہ اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، بلکہ ان میں غیر معمولی طور پر تحریف وتبدیلی کی جاچکی ہے، اس لیے جس نے دینِ اسلام کی پیروی کی وہ موسی و عیسی اور سارے انبیاء کرام کا متبع ہے، اور جس نے دین اسلام کا انکار کیا وہ موسی و عیسی اور سارے انبیاء کا منکر سمجھا جائے گا، بھلے ہی وہ موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کی اتباع کا دعوی کرے، یہی وجہ ہے کہ یہودونصاری کے علماء اور عیسائیوں کے راہبوں میں سے ذی شعور اور انصاف پسند لوگوں نےمحمد صلى الله عليه وسلم پر ایمان لانےاور دین اسلام میں داخل ہونے میں سبقت کی۔ ***

رسولﷺ کے معجزات [12] :

[12] قرآن کی اصطلاح میں معجزات کو ’’آیات‘‘ کہا جاتا ہے،اور یہی زیادہ صحیح ہے، لیکن معجزات کا لفظ ہم نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ خارق عادات امور کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سیرت نگاروں نے آپ کے معجزات پر جو آپ کی رسالت ونبوت کی سچائی ثابت کرنے کے لیے بطور دلیل نمودار ہوئے، اسے شمار کیا ہے، جن کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ پہنچ جاتی ہے، جن میں سے بعض یہ ہیں : 1- مہر نبوت : اللہ تعالی نے محمد رسول الله ﷺ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو بنایا تھا۔ مہر نبوت مسوں کے تل کی طرح تھی۔[13] [13] الثآليل: یہ ثؤلول کی جمع ہے جلد میں چنے کے برابر یا اس سے چھوٹے ظاہر ہونے والے دانے کو کہتے ہیں، اور مہر نبوت چاند کی طرح گول تھی اوروہ کبوتری کے انڈے کے برابر تھی۔

2- بادل کا سایہ: جب آپ چلچلاتی دھوپ میں چلا کرتے تھے تو بادل کا ایک ٹکڑا آپ کے اوپر سایہ فگن ہوتا تھا۔

3- کنکری کی تسبیح : آپ ﷺ کے ہاتھوں میں کنکریوں کا تسبیح وتحمید کرنا۔ اور درخت کا آپ ﷺ کو سلام کرنا۔

4- پیشگوئیاں : نبی اکرم ﷺ نے قرب قیامت ہونے والے بعض واقعات کی پیشگوئیاں فرمائی تھیں جو رفتہ رفتہ رونما اور حرفًا حرفًا صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ اور یہ غیبی امور جو نبی کی وفات سے لیکر قیامت تک وجود پذیر ہوں گےاور یہ واقعات جن کا علم اللہ تعالی نے آپ کو عطا فرمایا تھا، حدیث کی کتابوں میں پوری تفصیل کے ساتھ مدون ومحفوظ ہیں۔ کتب حدیث کے علاوہ علاماتِ قیامت کے موضوع پر علماء کرام کی کتابوں مثلا امام ابن کثیر کی تالیف ’’النہایہ‘‘، نیز کتاب ’’الاخبار المشاعہ فی اشراط الساعۃ‘‘ اور کتبِ حدیث میں، ابواب الفتن والملاحم کے تحت بھی یہ تفصیلات مذکور ہیں۔ مذکورہ معجزات دوسرے انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہیں، لیکن ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے عظیم معجزہ سے نوازا ہے جو تاقیامت باقی رہے گا اور جو کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوا، اور وہ عظیم معجزہ ہے۔ قرآن کریم: جس کی حفاظت کا خود اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے جس میں کسی قسم کی تحریف وتبدیلی ناممکن ہے، اگر کسی بدبخت نے اس کی کوشش کی تو وہ ناکام ونامراد رہا کیوں کہ قرآن کریم کے کروڑوں نسخے ساری دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں جو کہ ایک دوسرے سے ایک حرف اور نقطہ میں بھی مختلف نہیں ہیں۔ لیکن اس کے برعکس تورات وانجیل میں غیر معمولی تحریف وتبدیلی ہوچکی ہے، ان کے نسخے متعدد اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، اور ہر طباعت، سابقہ طباعت سے مختلف ہوتی ہے، کیوں کہ اللہ نے ان کی حفاطت کی ذمہ داری یہودیوں اور عیسائیوں کو سونپی تو انھوں نے ان کے ساتھ کھلواڑ کیا، جب کہ قرآن کی حفاظت کا خود اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : ’’ہم نے ہی ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘ [الحجر:9] قرآن کریم کے کلام اللہ اور محمد ﷺ کے رسول اللہ ہونے کے عقلی اور نقلی دلائل : قرآن کریم کے کلام اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے نبی برحق ہونے کے عقلی اور منطقی دلائل وشواہد میں سے یہ ہے کہ جب کفار مکہ نے نبی اکرم ﷺ کی تکذیب کی جس طرح سابقہ امتوں نے اپنے اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی تھی، اور کہا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالی کا کلام نہیں ہے، تو اللہ تعالی نے چیلنج فرماتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ اسی طرح فصاحت و بلاغت سے بھرپور کلام لاکر دکھائیں، چنانچہ زبان دانی کے باوجود وہ اس جیسا کلام لانے سے عاجز رہے، حالاں کہ وہ اپنے آپ کو بلاغت وفصاحت اور شعر وشاعری میں چوٹی پر سمجھتے تھے اور ان میں بڑے بڑے شعراء اور نامور مقررین موجود تھے، پھر ان سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس جیسی دس سورتیں ہی لاکر دکھائیں، سو وہ نہ لا سکے، پھر یہ مطالبہ کیا گیا کہ کم از کم ایک چھوٹی سی سورت قرآن کے مقابلہ میں پیش کردیں، لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے خود بنفس نفیس یہ اعلان فرمادیا کہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ بلکہ اگر سارے انسان اور جنات مل کر بھی ایسا کلام پیش کرنا چاہیں تو وہ یقینًا ناکام رہیں گے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے :

’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر (کل) انسان وجنات اس بات کے لیے جمع ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لے آئیں (جب بھی) اس جیسا نہ لاسکیں گے خواہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔‘‘

[الإسراء:88]

اگر قرآن کریم محمد ﷺ کا یا کسی اور انسان کا کلام ہوتا اور کلام الہی نہ ہوتا تو یقینًا فصیح عربی دان

اس جیسا کلام پیش کردیتے اور عاجز وقاصر نہ ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام اسی طرح اعلی وعظیم ترین ہے جس طرح اس کی ذات وصفات مخلوق سے بالاتر اور عظیم الشان ہے، اور جس طرح وہ ذات پاک ’’لیس کمثلہ شیء‘‘ سے متصف ہے بعینہ اس کا کلام بھی بے نظیر اور بے مثال ہے۔ اس بیان سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام حق ہے اور محمد ﷺ اس کے رسولِ برحق ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سوائے رسول کے کسی دوسرے شخص پر نازل نہیں ہوتا۔ خود اللہ تعالی فرماتا ہے :

’’محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، البتہ اللہ تعالی کے رسول ہیں، اور (سب) نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ ہرچیز کو خوب جانتا ہے۔‘‘

[الأحزاب:40].

دوسری جگہ ارشاد گرامی ہے :

’’اور ہم نے تو آپ کو سارے ہی انسانوں کے لیے (نبی بناکر) بھیجا ہے بطور خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے کے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔‘‘

[سبأ:28]

ایک اور جگہ فرمایا :

’’اور ہم نے آپ کو سارے جہان کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘

[الأنبياء:107]

آیات کریمہ کی اجمالی تشریح: 1- پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ساری انسانیت کی طرف نبی اور رسول بناکر بھیجے گئے ہیں، اور وہ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کسی نبی اور رسول کی بعثت نہیں ہوگی، اور آپ کو عظیم منصب رسالت سے مشرف کیا گیا ہے جس کے آپ ہی مستحق تھے اور جو آپ ہی پر ختم ہونے والا تھا کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ آپ ہی اس کے اہل ہیں۔

2- دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو سارے لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا ہے چاہے وہ کالے ہوں یا گورے، عرب ہوں یا غیر عرب، اور یہ بتایا ہے کہ بہت سے لوگ حق اور حقانیت سے ناواقفیت کی وجہ سے گمراہ ہوئے اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت ورسالت کا انکار کرکے کافر ہوگئے۔ 3- اور تیسری آیت میں اللہ تعالی نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اس نے آپ کی ذات اور بعثت کو سارے جہاں کے لیے رحمت بنایا ہے، آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی رحمت ہیں جسے اس نے بطور عطیہ ساری انسانیت کو مرحمت فرمایا ہے، جس نے آپ کی اطاعت اختیار کی اس نے اللہ تعالیٰ کے عطیہ رحمت کو قبول کرلیا اور جنت کا مستحق ہوا اور جو محمد ﷺ پر ایمان نہیں لایا اور آپ کی تابع داری سے گریز کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ہدیہ رحمت کو ٹھکرا دیا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لانے کی پکار : اس لیےاے عقل وفہم رکھنے والے شخص! تجھے ہم دعوت دیتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ کو رب مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر ان پر ایمان لے آ اور آپ کی سنت وشریعت کی مکمل پیروی کر اور اسی کا نام دینِ اسلام ہے جس کا اصل مآخذ اور سرچشمہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ اور سنت طیبہ ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لغزشوں سے محفوظ رکھا ہے اس لیے آپ اللہ ہی کی مرضی سے کسی کام کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس لیے سچے دل سے کہئے کہ میں اس بات پر ایمان لایا کہ اللہ ہی میرا رب اور معبود بر حق ہے اور اس بات پر کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور پھر ان کی پیروی کیجئے کیوں کہ یہی راہ نجات ہے، اللہ تعالی ہم کو اور آپ کو سعادت و نجات عطا کرے ۔ آمین

***

تیسری فصل : دینِ حق- اسلام- کی معرفت :

جب تم نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالی ہی وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور روزی عطافرمایا، اور وہی تن تنہا معبودِ برحق ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور تمھارے لیے ضروری ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو۔ اور تم نے یہ بھی جان لیا کہ محمد ﷺ تمھاری طرف اور ساری انسانیت کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، تو اب یہ بھی جان لو کہ تمھارا اللہ پر اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان اسی وقت معتبر سمجھاجائے گا جب تم دینِ اسلام کی صحیح معرفت حاصل کر کے اس پر ایمان لے آؤ اور اس کے مطابق عمل صالح کرو، اس لیے کہ یہی وہ دین اسلام ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے، اور اسی کا تمام رسولوں کو حکم دیا ہے، اور محمد ﷺ کو دے کر سارے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے اوراس کے مطابق عمل کرنا واجب قرار دیا ہے۔

*** اسلام کی تعریف : آخری رسول محمدﷺ جو تمام لوگوں کی طرف رسول بنائے گئے کا ارشاد گرامی ہے :

’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکوۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور حج بیت اللہ کرو اگر اس کے سفر کی استطاعت رکھتے ہو‘‘۔[14]

[14] أخرجه مسلم (8)، وأبو داود (4695)

چنانچہ اسلام وہ عالمی دین ہے جس کے اپنانے کا اللہ تعالیٰ نے سارے لوگوں کو حکم دیا ہے اور تمام انبیاء کرام اس پر ایمان لائے ہیں اور اس کا انھوں نے اعلان واعتراف کیا ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا ہے کہ یہی وہ دین حق ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا دین قابل قبول نہیں ہوگا، چنانچہ ارشاد ہے : ’’یقینًا دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘ [آل عمران:19]

مزید اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔‘‘

[آل عمران:85]

دونوں آیتوں کی اجمالی تشریح :

1- اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کے نزدیک معتبر ومقبول دین صرف دین اسلام ہے۔

2- اور دوسری آیت میں اس کی وضاحت فرمائی کہ دین اسلام کے علاوہ وہ کسی سے بھی کوئی دین قبول نہیں کرے گا، اور مرنے کے بعد صرف مسلمان ہی نیک بخت ہوں گے اور جو لوگ دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اپنائے ہوئے مرجائیں گے تووہ آخرت میں خسارے سے دوچار ہوں گے اور دوزخ میں عذاب دئے جائیں گے،

اسی وجہ سے سارے انبیاء کرام نے دین اسلام کو اختیار کرنے کا اعلان کیا، اور جس نے اس سے روگردانی کی اس سے انھوں نے اعلان براءت کیا ہے۔ اس لیے جو یہودی یا عیسائی نجات اور سعادت چاہتے ہیں انھیں چاہیئے کہ اسلام کو قبول کرلیں اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت ورسالت کا اعتراف کر کے آپ ﷺ کی شریعت کو اپنالیں تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حقیقی پیروکار ثابت ہوں، کیوں کہ خود حضرت موسیٰ وعیسیٰ اور محمد ﷺ اور سارے انبیاء کرام مسلمان تھے اور دین اسلام ہی کی انھوں نے دعوت دی ہے، کیوں کہ یہی وہ دین ہے جس کے ساتھ اللہ نے انھیں بھیجا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد سے لے کر تاقیامت کوئی شخص بھی اس وقت تک مسلمان ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا جب تک کہ آپ کی نبوت ورسالت کو تہ دل سے قبول نہ کرلے اور آپ کی سنت وشریعت کی مکمل طور پر تابع داری نہ اختیار کرے اور آپ پر نازل کردہ کتاب قرآن کریم پر عمل پیرا نہ ہوجائے۔ چنانچہ قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا، اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔‘‘

[آل عمران:31].

آیت کریمہ کی اجمالی تشریح :

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم فرمارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویداروں سے یہ فرما دیں کہ اگر تم لوگ واقعی اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور تمھارے گناہوں کو معاف فرمادے گا جب تم محمد ﷺ پر ایمان لاؤ، آپ کی اطاعت اختیار کرو، کیوں کہ اللہ تم سے اسی وقت محبت کرے گا۔

اور یہی وہ دینِ اسلام ہے جس کو نبی اکرم ﷺ ساری انسانیت کی طرف لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور یہ ایساجامع ،مکمل اور آسان دین ہے جس کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور اپنے بندوں کے لیے اسی دین کو پسند فرمایا ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا دین اس کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے اور اسی دین کی سارے انبیاء کرام نے بشارت دی تھی اور اس پر ایمان لائے۔ قرآن عظیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمھارے لیے اسلام بطور دین کے پسند کر لیا۔‘‘

[المائدة:3].

آیت کریمہ کی اجمالی تشریح :

یہ آیت کریمہ نبی کریم ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ اور سارے صحابہ کرام حج وداع کے موقع پر عرفات کے دن ذکرِ الہی اور دعا ومناجات میں مصروف تھے، اور دینِ اسلام پھل اور پھول کر اپنے عروج پر تھا اور قرآن کریم کا نزول پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا اور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ اپنے آخری دور میں تھی،

چنانچہ اللہ تعالیٰ اس آیت کریم کو نازل کرکے یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے لیے دینِ اسلام کو مکمل فرمادیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں نبی کریم ﷺ کی بعثت اور آپ پر قرآن نازل کر کے مکمل کردی ہیں، نیز ان کے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا جس سے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا، اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور دین قبول کرے گا،

اور اللہ تعالی خبر دے رہا ہے کہ وہ دینِ اسلام جس کو لے کر نبی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں وہ ایسا مکمل دین وشریعت ہے جو ہر زمانے اور ہر علاقے اور ہر قوم کے لیے موزوں و مناسب ہے، وہ علم ،آسانی، خیر وبرکت اور عدل وانصاف والا دین ہے، اسلام زندگی کے مختلف شعبہ جات کے لیے ایک مکمل اور واضح منہج ہے، چنانچہ وہ دین و سیاست دونوں پر مشتمل ہے، اس میں حکومت، قضا، سیاست، اور معاشراتی و اقتصادی امور نیز ہر اس چیز کے بارے میں رہنمائی موجود ہے، جس کی ایک انسان کو ضرورت پیش آسکتی ہے، اور اسی دین میں مرنے کے بعد انسان کی اخروی زندگی کی سعادت بھی ہے۔

***

ارکانِ اسلام :

دین اسلام جس کو نبی کریم ﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں کُل پانچ رکنوں پر مشتمل ہے، جن پر ایمان لائے اور ان کے تقاضوں پر عمل کیے بغیر کوئی شخص صحیح طور پر مسلمان نہیں ہوسکتا، وہ پانچ رکن یہ ہیں : 1- اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ 2- نماز قائم کرنا۔ 3- زکوۃ ادا کرنا۔ 4- رمضان کے روزے رکھنا۔ 5- استطاعت رکھنے پر حجِ بیت اللہ کرنا [15]۔ [15] رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے؛ اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور استطاعت کے وقت حج بیت اللہ کرنا۔‘‘ اسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں (8، 4515)، اور «التاريخ الكبير» (4/213)، (8/ 319،322) میں ذکر کیا ہے، وامام مُسلِمٌ (16) نے بھی اسے روایت کیا ہے ،قرآن کریم سے دلائل کا ذکر قدرے تفصیل سے ہر رکن کی تشریح کے ضمن میں آئے گا۔ پہلا رُکن : ’’لا الٰہ الّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی :

کلمۂ شہادت کے کچھ معانی ومفاہیم ہیں جن کا ہر مسلمان کے لیے جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے اور جو لوگ بغیر سوچے سمجھے اس کو صرف اپنی زبانوں سے دہرا لیتے ہیں اور اس کے معانی سے واقفیت نہیں رکھتے اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔

چنانچہ کلمہ ’’لاالٰہ الّا اللہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ زمین وآسمان میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود برحق نہیں ہے، اسی کی ذاتِ پاک تن تنہا معبودِ برحق ہے اور اس کے علاوہ سارے معبود باطل ہیں۔ ’’الہ‘‘ کے معنی معبود کے ہیں، جو شخص غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ کافر اور مشرک ہے، اگر چہ اس کا معبود کوئی نبی یا ولی کیوں نہ ہو، اور وہ اس کی عبادت اس دلیل سے کرتا ہو کہ وہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب اور وسیلہ حاصل کررہا ہے، کیوں کہ وہ مشرکین جن سے رسول اللہ ﷺ نے جہاد فرمایا وہ بھی انبیاء اور اولیاء کی اسی دلیل سے عبادت کیا کرتے تھے، لیکن ان کی یہ دلیل باطل اور مردود ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ سے تقرب اور توسل حاصل کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی اور کی عبادت کی جائے، اللہ کا تقرب اور توسل تو اعمالِ صالحہ اور اس کے اسماء وصفات کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے جس کا خود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے ، جیسے نماز پڑھی جائے، روزے رکھے جائیں، جہاد کیا جائے، صدقہ وخیرات کیا جائے، حج کیا جائے، والدین کی خدمت کی جائےوغیرہ اور زندہ حاضر مومن بندہ کا اپنے بھائی کے لئےدعا کے ذریعہ۔ عبادت کی بہت سی قسمیں ہیں، ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں :

1- دعا :

اپنی ان ضروریات کو طلب کرنا جن کو پورا کرنے کی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی طاقت وقدرت نہیں رکھتا، جیسے بارش برسانا، مریض کو شفا عطا کرنا، مصیبتوں کو ٹالنا اور دور کرنا جس کو ٹالنے کی کوئی مخلوق طاقت نہیں رکھتی، اور جیسے جنت کا سوال کرنا، جہنم سے پناہ طلب کرنا، اولاد مانگنا، رزق طلب کرنا، چین وسکون چاہنا،وغیرہ

یہ سب اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے طلب نہیں کی جاتیں، اور جس نے کسی مخلوق سے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ وہ ان میں سے کسی چیز کا طلب گار ہوا اس نے اس کی عبادت کی، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ صرف اللہ سے سوال کریں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ دعا بھی عبادت ہے اور جس نے کسی غیر اللہ کو پکارا وہ دوزخی ہوگا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

’’اور تمھارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمھاری درخواست قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر اعراض کرتے ہیں، عنقریب جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے۔‘‘ [غافر:60] اور اللہ تعالی نے یہ واضح فرمایا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کو پکارا جاتا ہے وہ کسی کے لیے نفع ونقصان کے مالک نہیں، اگر چہ وہ انبیاء اور اولیاء ہوں۔ ’’آپ کہہ دیجئے تم جن کو اللہ کے سوا (معبود) قراردے رہے ہو ذرا ان کو پکارو تو سہی سو وہ نہ تم سے تکلیف دور کرسکتے ہیں اور نہ (اسے) بدل سکتے ہیں۔‘‘ [الإسراء:56 نیز اس کے بعد والی آیت]. مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’اور جتنی مسجدیں ہیں (سب ) اللہ کا حق ہیں، سو اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔‘‘ [الجن:18] 2- ذبح کرنا، نذر ماننا اور نیاز پیش کرنا۔ کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے خون بہائے اور قربانی کرے یا نذر ونیاز پیش کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، مثلا کسی قبر یا جنات کی رضا وخوشنودی کے لیے ذبح کیا تو اس نے غیر اللہ کی عبادت کی اور اللہ تعالی کی لعنت کا مستحق ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری (ساری) عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت (سب) جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لیے ہیں، کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں مسلموں میں سب سے پہلا ہوں۔‘‘

[الأنعام:162-163]

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘ [16] [16] مسلم (1978)، وسنن النسائي (4422).

جب کسی شخص نے یہ کہا کہ جب میرا فلاں کام ہوجائے گا تو میں فلاں کے لیے بطور نذر صدقہ کروں گا یا کچھ اور کروں گا، تو یہ نذر شرک ہوجائے گی کیوں کہ یہ نذر مخلوق کے لیے کی گئی ہے اور نذر عبادت ہے اس لیے یہ کسی مخلوق کے لیے جائز نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مشروع نذر یہ ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اگر فلاں کام ہوجائے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کروں گا یا کوئی اور عبادت کروں گا، (تو یہ نذر جائز ہے)۔

3- استغاثہ، استعانت اور استعاذہ ۔ [17] [17] استعانت: عمومی طور پر مدد طلب کرنا، استغاثہ: شدت حال اور تنگ دستی میں فریاد رسی کرنا، استعاذہ :اس ذات کی پناہ اور سہارا طلب کرنا جوشر اور مکروہ کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہ فریاد کی جائے اور نہ مدد طلب کی جائے اور نہ پناہ طلب کی جائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں“۔ [الفاتحة:5] مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں‘‘۔ ’’تمام مخلوقات کے شر سے۔‘‘ [الفلق:1-2]

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

’’مجھ سے فریاد نہیں کی جاتی بلکہ اللہ تعالی سے فریاد طلب کی جاتی ہے‘‘۔[18]

رسول اللہ ﷺ ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’جب تم سوال کرو تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرو اور جب مدد طلب کرو تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔‘‘[19] [18] أحمد ( 5 / 317 / 22758 )، والطبراني ( 10 / 246 )، اور امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

[19] ترمذي (2516)،أحمد (2802)، طبراني 2820)(12989) = امام ترمذی نے اس حدیث کو ’حسن صحیح‘ کہا ہے۔

اور جہاں تک دنیوی طور پر فریاد اور مدد طلب کرنے کا مسئلہ ہے تو صرف اسی انسان سے طلب کرنا جائز ہے جو زندہ اور موجود ہو اور مطلوبہ چیز کے دینے کی قدر رکھتا ہو۔ اور استعاذہ یعنی پناہ طلب کرنا، تو یہ صرف اللہ جل شانہ کے شایان شان ہے، اس کے علاوہ کسی مردہ یا غائب سے پناہ طلب کرنا قطعا جائز نہیں، کیوں کہ وہ کسی چیز کے مالک نہیں، خواہ وہ کوئی نبی ہو یا ولی یا فرشتہ۔

غیب کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے پاس نہیں، جو شخص علمِ غیب کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے جس کی تکذیب ضروری ہے۔ جس نے کسی چیز کی پیشگوئی کی اور اتفاق سے صحیح ثابت ہوئی تو وہ محض اتفاق تصور کیا جائے گا، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :

’’جو شخص کسی نجومی یا قیافہ شناس کے پاس حاضر ہوا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی تو اس نے جو چیز محمد ﷺ پر نازل ہوئی (یعنی :قرآن) اس کی تکذیب کی۔‘‘[20]

[20] أبو داود (3904)، ترمذي (135)،ابن ماجه(639)، اور صحيح الترغيب والترهيب (3047) میں امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

توکل، رجاء [21] اور خشیت بھی ہے۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ انسان سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی پر توکل وبھروسہ نہ کرے۔رجاء، یعنی امید کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے امید نہ رکھے۔ خشیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے خوف وخشیت نہ رکھے۔

[21] توکل : متوکل علیہ پر اعتماد وبھروسہ کرنا۔ رجاء : مستقبل میں محبوب چیز کے حصول کی امید رکھنا۔

لیکن بڑے افسوس کی بات کہ آج بہت سے اسلام کے دعویدار لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں، چنانچہ بہت سے لوگ زندہ معظم لوگوں سے اور قبر والوں سے بھی مرادیں مانگتے ہیں، قبروں کا طواف کرتے ہیں اور ان سے مرادیں پوری کرنے کی درخواست کرتے ہیں، یقینًا یہ اعمال غیر اللہ کی عبادت ہیں اور ان کا مرتکب مسلمان نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرے، کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله پڑھے اور صوم وصلاۃ کا پابند ہو، اور بیت اللہ کا حج کرے، اللہ تعالی فرماتا ہے :

’’اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے قبل گزر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے مخاطب) اگر تونے شرک کیا تو تیرا عمل (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑ کر رہے گا۔‘‘ [الزمر:65] مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’جوکوئی اللہ کے ساتھ (کسی کو) شریک کرے گا، سو اللہ اس پر جنت حرام کردے گا، اور اس کا ٹھکانا (دوزخ کی) آگ ہے اور (ایسے ) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔‘‘

[المائدة:72] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو حکم فرمایا کہ یہ اعلان کردیں :

’’آپ کہہ دیجئے میں تو بس تمھارے ہی جیسا بشر ہوں، میرے پاس یہ وحی آتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، سو جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے، تو اسے چاہیے کہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔‘‘

[الكهف:110].

بعض علماء سوء نے ناخواندہ عوام کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے، جو حقیقی توحید سے جو کہ دینِ اسلام کی بنیاد ہے بے خبر ہیں اور صرف بعض فروعی مسائل کی معرفت رکھتے ہیں، چنانچہ وہ علماء سوء شفاعت اور وسیلہ کے بحث کے درپردہ شرک کی دعوت دے رہے ہیں، بعض نصوص کی انتہائی رکیک اور باطل تاویلیں اور چند جھوٹی احادیث ان کی دلیل ہیں، یہ اپنے بدعات وشرکیات کو ثابت کرنے کے لیے شیطانی خواب تک پیش کرنے سے باز نہیں آتے، جن کو انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کرنے کے لیے بطور دلیل وثبوت جمع کررکھا ہے اور شیطان اور خواہشات کی پیروی اور آبا واجداد کی اندھی تقلید کا وہی طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں جو پہلے کے مشرکین اپنائے ہوئے تھے۔

وسیلہ کی حقیقت : وہ وسیلہ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس ارشاد سے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے :(وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ) [المائدة:35] (اور اس کا وسیلہ تلاش کرو۔) وہ توحیدِ خالص اور اعمال صالحہ ہیں، جیسے نماز ، روزہ، صدقہ، حج، جہاد ، امرب المعروف ونہی عن المنکر، اور صلہ رحمی وغیرہ۔ رہا-مُردوں سے مرادیں مانگنا اور مصیبتوں کے وقت فریاد طلب کرنا اور اس طرح سارے اعمال، تو یہ غیر اللہ کی عبادت میں شامل ہیں۔

شفاعت کا بیان : انبیاء کرام اور اولیاء اللہ اور دوسرے مسلمانوں کی شفاعت، جب اللہ تعالیٰ ان کو اس کی اجازت دیں گے، ہم اس کے برحق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ شفاعت مُردوں سے طلب کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ صرف اللہ جلّ شانہ کا حق ہے، اور یہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمادے۔ چنانچہ ایک صحیح العقیدہ موحد شخص اللہ تعالیٰ سے شفاعت طلب کرتے ہوئے یوں کہے : ’’ اے اللہ میرے بارے میں اپنے رسول اور صالح بندوں کی شفاعت قبول فرما ‘‘ لیکن یہ ہرگز نہ کہے ’’اے فلاں شخص ہمارے لیے سفارش کردے‘‘ وغیرہ، کیوں کہ وہ مرچکا ہے اور مُردے سے کبھی بھی کوئی چیز طلب نہیں کی جاسکتی، خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’آپ کہہ دیجیے سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اسی کی سلطنت آسمانوں اور زمین میں ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔‘‘ [الزمر: 44].

بعض وہ بدعتیں جنھیں اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے صحیح احادیث میں ان کے ارتکاب سے منع فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ قبروں پر قبے تعمیر کرنا اور ان کو پختہ کرنا، ان پر لکھنا، چراغاں کرنا اور چادریں چڑھانا اور مقبرہ میں نمازیں پڑھنا ہے۔ ان سب چیزوں سے رسول اللہ ﷺ نے بڑی سختی سے روکا ہے، کیوں کہ ان ہی چیزوں سے اکثر قبرپرستی کی ابتدا ہوتی ہے۔

یہاں پر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ بعض قبروں اور درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں ان کا یہ عمل ایک طرح کا شرک باللہ ہے، جیسے مصر میں بدوی اور سیدہ زینب اور عراق میں شاہ عبد القادر جیلانی اور عراق کے شہر نجف اور کربلاء میں اہل بیت کی طرف منسوب قبروں اور دنیا کی دیگر قبروں پر اس غرض وغایت سے حاضری دیتے ہیں کہ ان کی فریاد رسی ہوگی، مرادیں پوری ہوں گی، بعض علاقوں میں تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ قبروں کا طواف کرتے ہیں اور صاحبِ قبر کو نفع ونقصان کا مالک سمجھتے ہیں، اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں،

ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل انھیہں گمراہ مشرکوں کے صف میں لے جاکر کھڑا کردیتا ہے اگرچہ وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہوں، نماز اور روزہ کی پابندی کرتے ہوں اور حج بیت اللہ سے فارغ ہوچکے ہوں اور کلمہ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ اپنی زبانوں سے بار بار دہراتے ہوں، کیوں کہ جو ’لا الہ اللہ ‘ پڑھتا ہے وہ اس وقت تک مومن حقیقی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس کے مفہوم ومعانی کو نہ سمجھے اور اس کے مطابق عملِ صالح نہ کرے۔ البتہ غیر مسلم جب اس کلمہ توحید کا اقرار کرلیتا ہے تو وہ مسلمان ہوجاتا ہے تا آں کہ اس کے منافی کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرلے جو اس کے شرک پر باقی رہنے پر دلالت کرے، جس طرح یہ جاہل لوگ کرتے ہیں۔ یا فرائض اسلام کو جان لینے کے بعد ان میں سے کسی چیز کا انکار کردے، یا دین اسلام کے علاوہ کسی اسلام مخالف دین پر ایمان رکھے۔

انبیاء کرام اور اولیاء اللہ ان حضرات سےاپنی براءت وبیزاری کا اظہار کریں گے جو ان سے دعائیں مانگتے ہیں اور فریاد چاہتے ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ توحید خالص اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیں اور غیر اللہ کی عبادت سے خواہ وہ نبی ہو یا ولی منع کریں۔

[22] اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید خالص اختیار کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے سچے متبع اور اطاعت گزار ہیں، ان میں سے بعض لوگوں کی معرفت ان کے علم وفعل اور جہاد وغیرہ سے ہوجاتی ہے اور کچھ لوگوں کی معرفت نہیں ہوپاتی، اور جن لوگوں کی معرفت ہوجاتی ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ لوگ ان کی تعظیم وتکریم کریں، حقیقی اولیاء ولایت کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے آپ کو گنہ گار سمجھتے ہیں، ان کا کوئی مخصوص لباس اور مخصوص ہیئت نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ پوری طرح سے متبع سنت ہوتے ہیں اور ہر مسلمان جو موحد اور متبع سنت ہو تو وہ اپنی اطاعت وعبادت کے بقدر درجہ ولایت سے متصف ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مخصوص لباس وغیرہ لے کر منصب ولایت کے دعویدار ہوجاتے ہیں تا کہ لوگ ان کی تعظیم وتکریم کریں وہ حقیقت میں ولی نہیں بلکہ وہ جھوٹے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت یا اولیاء اللہ سے عقیدت کے معنی یہ نہیں کہ ان کی عبادت کی جائے کیوں کہ یہ تو ان سے عداوت ہے، بلکہ ان سے صحیح عقیدت ومحبت کا معیار یہ ہے کہ ان کی سچی پیروی کی جائے اور ان کے طریقہ پر چلا جائے، حقیقی مسلمان وہ ہے جو انبیاء کرام اور اولیاء عظام سے محبت تو کرتا ہے لیکن ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے وہ بھی ایسی محبت جو اپنے نفس اہل وعیال اور سارے جہاں کی محبت سے زیادہ ہو۔ *** فرقہ ناجیہ مسلمان تعداد میں بکثرت ہیں لیکن در حقیقت وہ بہت کم ہیں، اسلام کی طرف انتساب کرنے والی جماعتوں کی تعداد ۷۳ فرقوں تک پہنچ چکی ہے جن کی مجموعی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے، لیکن عقیدہ اور عمل صالح کے اعتبار سے صرف ایک ہی جماعت ایسی ہے جو توحید کی علمبردار اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صحیح پیروکار ہے، جس کی طرف نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ’’یہودی ۷۱ فرقوں میں اور عیسائی ۷۲ فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور عنقریب میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی، سب کے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے‘‘

صحابہ نے عرض کیا وہ کون سی جماعت ہوگی یا رسول اللہ؟ تو آپ نے فرمایا :

’’جو جماعت اس طریقہ پر ہوگی جس پر آج میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں‘‘۔[24].

[23] یہ اعداد و شمار کتاب کے زمانۂ تالیف سن 1395هـ / 1975م کے مطابق ہے۔ . [24] أبو داود (3842)، ابن ماجه (3226)، امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح الجامع (1082)اور سلسلۃ الصحیحۃ (203) میں صحیح کہا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام جس طریقہ پر تھے وہ یہ ہے کہ لا إله إلا الله محمد رسول الله کے معنی کا اعتقاد رکھے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرے یعنی صرف اللہ جلّ شانہ ہی سے دعا کرے، اسی کے لیے ذبح کرے، اسی کے لیے نذر پوری کرے، اسی سے فریاد طلب کرے اور اسی سے مدد مانگے اور اسی کی پناہ ڈھونڈھے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ نفع ونقصان پہنچانے کی طاقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے اندر نہیں، اسی طرح ارکانِ اسلام کو بحسن وخوبی انجام دے، اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں، نازل کردہ آسمانی کتابوں، بھیجے ہوئے رسولوں، دوبارہ اٹھنے اور حساب وکتاب، جنت وجہنم، اور اچھی بُری تقدیر پر ایمان ویقین رکھے،

اور قرآن وسنت کی بالادستی قبول کرتے ہوئے اپنے سارے فیصلے انہی کی روشنی میں کرائے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کردے، اور اللہ والوں سے محبت اور اس کے دشمنوں سے نفرت کرے، اللہ کا دین پھیلانے کی کوشش کرے، اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھر پور حصہ لے، او ر نیک مسلمان حکمرانوں کی جب وہ امر بالمعروف کریں تو اطاعت کرے، اور جہاں کہیں بھی ہو حق بات کہنے میں جھجھک نہ محسوس کرے، اور نبی ﷺ کی ازواج مطہرات اور اہل بیت سے محبت وعقیدت رکھے، اور صحابہ کرام سے محبت رکھے، اور ان کے حسب درجات ومراتب ان کی فوقیت اور فضیلت کا اعتراف کرے اور ان سب کے لیے اللہ سے رضامندی کی دعا کرے، ان کے درمیان باہمی مشاجرات کو نظرانداز کرے [25]، اور ان منافقین اور منحرفین کی باتوں کی طرف توجہ نہ دے، جو انھوں نے صحابہ کے خلاف کیچڑ اچھالنے اور مسلمانوں میں اختلاف پہدا کرنے کے لیے گھڑا ہے اور جس سے دھوکہ کھاکر بعض علماء ومورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں محض حسن نیت کی بنا پر ذکر کردیا ہے جب کہ یہ غلطی ہے۔

[25] یعنی صحابہ کے درمیان جو اختلاف پایاجاتا تھا اس کے متعلق نقد وجرح نہ کرے۔

جولوگ اپنے آپ کو اہل بیت کی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’سید‘‘ لکھتے ہیں انھیں اپنے شجرۂ نسب پر اچھی طرح نظرثانی بلکہ تحقیق کرلینی چاہیے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت بھیجتا ہے جو اپنا انتساب اپنے آباء واجداد کے علاوہ کسی اور سے کرتے ہیں، اور جب تحقیقی طور پر کسی کا نسب اہل بیت سے ثابت ہوجائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ اور اہل بیت کی توحید خالص میں پیروی کرےاور گناہوں سے پرہیز کرے اور اس کا ہرگز موقع نہ دے کہ لوگ اس کی قدم بوسی اور عزت وعظمت میں مبالغہ آرائی کریں اور اپنے آپ کو لباس وپوشاک کی تراش وخراش میں نمایاں نہ رکھے کیوں کہ یہ سب چیزیں خلاف سنت ہیں، صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ومکرم وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم تسلیما۔

***

حکمرانی اور قانون سازی صرف اللہ کا حق ہے اس لیے کہ شارع ہی عدل وانصاف، رحمت اور فضیلت کا مرکز ومحور ہے۔

کلمہ شہادت ’’لا الہ إلا اللہ‘‘ کے اقرار واعتراف کے بعد اس کا بھی ایمان ویقین رکھنا ضروری ہے کہ حکمرانی اور قانون سازی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ ایسا قانون بنائے جو قانون الہی سے متصادم ہو، اسی طرح کسی مسلمان کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرے اور نہ خلاف شریعت فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرے، اسی طرح جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اسے حلال کردینے کا کوئی شخص مجاز نہیں، جس شخص نے اس الہی فیصلے کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی یا شریعت کے مخالف فیصلے کو قابلِ قبول تصور کیا اور راضی رہا تو اوہ کافر ہو گیا ۔ چناںچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اور جو کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ تو کافر ہیں۔‘‘ [المائدة:44] *** انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد : توحید کی دعوت : انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد اور ان کی سب سے عظیم ذمہ داری ’’کلمہ توحید لا الہ الا اللہ‘‘ کے اقرار کرنے اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دینا ہے، اور وہ صرف اللہ واحد کی عبادت ہے اور سارے معبودانِ باطل کی عبادت اور ان کے قوانین سے بیزاری کا اظہار کرنا ہے اور شریعت الہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے۔ جو شخص اندھی تقلید سے ہٹ کر بغور قرآن کریم کا مطالعہ کرے اس کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ جن باتوں کو ہم نے وضاحت سے بیان کیا ہے وہی حق ہے اور مزید اس کو یہ بھی علم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات پاک کے ساتھ اور تمام مخلوقات کے ساتھ بھی انسان کے تعلقات کی تعیین کر دی ہے۔ چنانچہ اپنے تعلقات کو ایک مومن بندے سے اس طرح استوار اور باقی رکھنے کا حکم دیا ہے کہ عبادت کی ساری قسمیں صرف اس ذات پاک کے لیے مخصوص کی جائیں اور کسی دوسرے مخلوق کے لیے کسی طرح کی کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ عبادت نہ کی جائے، اسی طرح انبیاء کرام اور نیک وصالح بندوں سے محبت اور عقیدت اپنی محبت کے تابع قرار دیا ہے اور ان کی اقتدا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح کافروں اور مشرکوں سے بغض وعداوت کا تعلق رکھے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ان سے نفرت کرتا ہے، اور ان کو دینِ اسلام کی دعوت دے اور اسلامی عقائد کو ان کے سامنے اچھی طرح بیان کرے تاکہ وہ انھیں قبول کرلیں، اور اگر وہ دینِ حق کے قبول کرنے سے انکار کریں اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو ان سے اعلان جہاد کردیا جائے تاکہ کفر وشرک کے فتنوں کا قلع قمع ہوجائے اور دینِ اسلام کا بول بالا ہوجائے۔ کلمہ توحید ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے اس عظیم مفہوم اور مطلب کا ہر مسلمان کو جاننا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ حقیقی طور پر مسلمان ہو جائے۔

محمد رسول الله کی شہادت کا مفہوم :

کلمہ توحید کے دوسرے جز ’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘‘ کی شہادت کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کا اعتقاد وعلم رکھیں کہ محمد (ﷺ) ساری انسانیت کی طرف رسول بناکر مبعوث کیے گئے ہیں، اور وہ ایک برگزیدہ بندے ہیں جن کی عبادت نہیں کی جاسکتی اور جلیل القدر رسول ہیں جن کی تکذیب نہیں کی جاسکتی، بلکہ آپ کی اطاعت واتباع کرنا ضروری اور واجب ہے، جس نے آپ کی اطاعت واتباع کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے آپ کی نافرمانی کی جہنم رسید ہوگا۔ ہم سب کو اس کا بھی عقیدہ ویقین رکھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت کے احکام کا جاننا خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا مختلف شعبہ جات کے عدالتی اور قانونی نظام سے ہو، یا حلال وحرام سے ہو، یہ تمام کی تمام چیزیں رسول اللہ ﷺ ہی کے واسطہ سے ہم کو حاصل کرنی ہے، کیوں کہ آپ کی ذات ایسے رسول کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام وشریعت کو انسان تک پہنچانے والے ہیں، لہذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین وشریعت کے علاوہ کسی اور دین وشریعت کو قبول کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

’’اور جو کچھ رسول تمھیں دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمھیں روک دیں اس سے رک جایا کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے۔‘‘

[الحشر:7]. دوسری جگہ ارشادِ باری تعالی ہے :

’’سو آپ کے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ لوگ اس جھگڑے میں جو ان میں آپس میں ہو، آپ کو حکم نہ بنالیں اور پھر جو فیصلہ آپ کردیں اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اس کو پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘

[النساء:65]

مذکورہ دونوں آیتوں کی تشریح :

اللہ تعالیٰ پہلی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ حکم فرمارہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ان تمام چیزوں میں اطاعت واتباع کریں جن کا آپ انھیں حکم دیں اور ان تمام چیزوں سے رک جائیں جن سے آپ منع کریں، کیوں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ دوسری آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ خود اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر یہ فرما رہے ہیں کسی شخص کا اس وقت تک اللہ اور رسول اللہ پر ایمان معتبر اور صحیح نہیں ہوسکتا جب تک باہمی اختلافات میں رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ نہ کرائے [26] اور پھر اس فیصلہ کو بخوشی تسلیم کرلے، خواہ اس کے موافق ہو یا خلاف پڑے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ’’جو شخص ایسا عمل کرے جو ہمارے دین وشریعت کے مطابق نہیں وہ ناقابل قبول ہے‘‘۔[27] [26] جو بھی اختلاف اس کے اور دوسروں کے درمیان ہوتا ہے۔

[27] بخاري (2697)، مسلم (1718) الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔

***

پکار:

جب تم نے کلمہ توحید ورسالت کا معنی اچھی طرح جان لیا اور تم کو اس کا بھی اندازہ ہوگیا کہ یہ عظیم الشان کلمہ اسلام کی کنجی اور اس کی بنیاد ہے جس پر سارے اسلام کا دارو مدار ہے تو تم کو صدقِ دل سے اس کلمہ"أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا رسول الله" پر ایمان ویقین رکھنا چاہیے اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے، تاکہ سعادتِ دارین نصیب ہو، اور مرنے کے بعد عذابِ الہی سے محفوظ رہ سکو،

اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کلمہ توحید ورسالت کے اقرار کا تقاضا تمام ارکان اسلام پر عمل کرنا ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ان عبادات کو اسی لیے فرض فرمایا ہے کہ وہ اخلاص اور صدقِ دل سے ان کو بجالائیں، اور جس شخص نے ارکانِ اسلام میں سے کسی بھی رکن کو بغیر شرعی عذر کے چھوڑ دیا تو اس کی شہادت توحید ورسالت ناقص ہے اور وہ معتبر ومقبول نہیں۔

***

اسلام کا دوسرا رکن :’’نماز‘‘ کا بیان :

اے عاقل شخص جان لے! کہ اسلام کا دوسرا عظیم الشان رکن نماز ہے ۔ دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز اللہ تعالی نے اس امت پر فرض فرمائی ہے تاکہ ایک مسلمان بندہ اور اس کے خالق کے مابین ایک تعلق قائم رہے، اور اللہ کے حضور وہ مناجات کرے اور اس سے دعائیں کریں، اور اس لیے بھی کہ نماز اس کو بے حیائی اور برائیوں سے باز رکھے جس کی بدولت اسے ایسا قلبی اطمینان وسکون اور جسمانی آرام وراحت نصیب ہو کو اس کی دنیوی واخروی سعادت میسر ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی کے لیے جسم اور کپڑوں اور جائے نماز کی طہارت لازمی قرار دی ہے، لہذا ایک مسلمان نماز پڑھنے سے پہلے پاک وصاف پانی سے اپنے بدن کو ظاہری نجاستوں جیسے پیشاب وپاخانہ سے پاک وصاف کرتا ہے، تاکہ اس کا جسم حسی نجاست سے اور اس کا دل معنوی نجاست سے پاک ہوجائے۔

نماز دینِ اسلام کا ستون ہے اور شہادت توحید ورسالت کے بعد اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ ایک مسلمان کے لیے بالغ ہونے کے بعد سے لے کر مرتے دم تک اس کی پابندی کے ساتھ ادائیگی ضروری ہے، اسی طرح اپنے اہل نیز بچوں کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اس کی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ وہ نماز کے عادی ہوجائیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’بے شک نماز تو ایمان والوں پر پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے۔‘‘ [النساء:103] مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’حالاں کہ انھیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی ہی عبادت اس طرح کریں کہ دین کو اسی کے لیے خالص رکھیں، یکسو ہوکر، اور نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں، اور یہی درست دین ہے۔‘‘ [البينة:5] مذکورہ دونوں آیتوں کی اجمالی تشریح : پہلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ نماز مسلمانوں پر ایک لازمی فریضہ ہے، اور ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں اس کی ادائیگی کریں۔ اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے جس عظیم مقصد کے تحت انسان کو پیدا فرمایا اور اس پر اپنے احکام صادر فرمائے وہ یہ ہے کہ لوگ اسی کی تن تنہا عبادت کریں اور خالص عبادت اسی کا حق سمجھیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ حقداروں تک پہنچائیں۔ نماز تمام مسلمانوں پر فرض ہے چاہے حالات کیسے بھی ہوں، چنانچہ خوف اور مرض کی حالت میں بھی حسب استطاعت نماز ادا کرے، اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی استطاعت رکھتا ہو تو کھڑے ہوکر پڑھے ورنہ بیٹھ کر، اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو لیٹ کر اور اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنی آنکھ کے اشارے یا دل کی توجہ سے ادا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ نماز چھوڑنے والے خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، مسلمان نہیں، چنانچہ ارشاد ہے :

’’ہمارے اور کافروں کے درمیان فرق نماز کا ہے، تو جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا‘‘۔[28]

[28] ترمذي (2621)، نسائي (463)، أحمد (5/346)، امام البانی نے صحیح الجامع میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

پانچ فرض نمازیں یہ ہیں۔

فجر ، ظہر ، عصر، مغرب، عشاء۔

نماز فجر : اس کا وقت طلوع صبح صادق سے شروع ہوکر طلوع آفتاب تک رہتا ہے، لیکن اسے بالکل آخری وقت تک مؤخر کرنا جائز نہیں۔ نماز ظہر : اس کا وقت سورج کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک کسی چیز کا سایہ اس کے سایۂ اصلی کے مثل ہوجائے۔ نماز عصر : اس کا وقت ظہر کے وقت کے اختتام سے لے کر سورج میں زردی آنے تک رہتا ہے، لیکن اسے بالکل آخری وقت تک موخر کرنا جائز نہیں، بلکہ اس وقت پڑھنا چاہیے جب سورج سفید اور خوب روشن ہو۔ نماز مغرب: اس کا وقت غروب آفتاب سے لے کر غروب شفق احمر تک رہتا ہے، اس کو بھی آخری وقت تک موخر کرنا درست نہیں۔ نماز عشاء : اس کا وقت مغرب کے اختتام سے شروع ہوتا ہے اور آخری رات تک رہتا ہے، اس کے بعد تاخیر نہیں کی جاسکتی۔

اگر کسی شخص نے ایک وقت کی نماز بھی بغیر کسی شرعی عذر کے تاخیر سے پڑھی تو اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا اور اسے اللہ سے توبہ واستغفار کرنی ہو گی اور دوبارہ ایسا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’سو بڑی خرابی ہے ایسے نمازیوں کے لیے۔‘‘

’’جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘

(الماعون: 4-5)

***

نماز کے احکام ومسائل :

اول:طہارت

جب کوئی مسلمان نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وہ سب سے پہلے اپنے پیشاب پاخانہ کی جگہوں کوخوب اچھی طرح پاک وصاف کرے اگر اس سے پیشاب یا پاخانہ نکلا ہو، پھر وضو کرے،

اور وضو کی نیت زبان سے نہ کرے اس لیے کہ نیت دل کا فعل ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور خود نبی کریم ﷺ نے زبان سے نیت نہیں فرمائی ہے۔وضو کا طریقہ: سب سے پہلے بسم اللہ پڑھے، پھر کلی کرے، ناک میں پانی ڈالے اور اسے صاف کرے، پھر پورے چہرے کو دھوئے، اس کے بعد کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو دھوئے، دائیں ہاتھ کو پہلے دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے پورے سر کا مسح کرے، پھر کانوں کا بھی مسح کرے، پھر اخیر میں ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور داہنے پاؤں کو پہلے دھوئے۔ جب کوئی شخص طہارت کے بعد بیہوش ہوجائے، یا پیشاب وپاخانہ یا ہوا کا اخراج ہوجائے یا نیند سے سوجائے تو اسے نماز پڑھنے کے لیے دوبارہ طہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر کسی مرد یا عورت کو سونے یا جاگنے میں شہوت سے منی نکل آئے تو اسے غسل جنابت کرنا ہوگا، اور عورت جب حیض یا نفاس سے فارغ ہو تو اس پر بھی غسل کرنا واجب ہے، کیوں کہ حیض ونفاس کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اور طہارت حاصل ہونے تک اس پر نماز فرض نہیں ہوتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رخصت دیتے ہوئے اس کی قضا بھی ضروری قرار نہیں دی ہے، اس کے علاوہ دوسرے اعذار کی وجہ سے اگر نماز وقت پر ادا نہیں کی تو مردوں کی طرح اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ (تیمم کا طریقہ) جب وضو یا غسل کے لیے پانی نہ ملے، یا پانی کا استعمال نقصان دہ ہو مثلًا بیمار شخص کے لیے، تو اس صورت میں تیمم مشروع ہے۔ تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ: دل میں تیمم کی نیت کرے اور بسم اللہ پڑھے اور دونوں ہاتھ مٹی پرایک بار مارے، پھر ان کو چہرے پر پھیرے، پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی دائیں ہاتھ کے اوپر اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کے اوپر پھیرے، اتنا کرنے سے طہارت مکمل ہوگی۔ تیمم حیض ونفاس سے طہارت حاصل کرنے نیز وضو اور غسل کے وجوب کے بعد پانی نہ ہونے یا پانی کے استعمال میں خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ دوم : نماز پڑھنے کا طریقہ :

1- نماز فجر :

دورکعت اس طرح پڑھے کہ نمازی خواہ عورت ہو یا مرد دل سے نماز فجر کی نیت کر کے قبلہ کی طرف متوجہ ہو، زبان سے کسی قسم کی نیت نہ کرے اور سجدے کی جگہ پر نظر جما کر ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ سے تکبیر تحریمہ کہے اور پھر دعائے استفتاح پڑھے، ایک دعائے استفتاح یہ ہے۔"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلهَ غَيْرُكَ، أعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيْم".اے اللہ! تو پاک ہے، تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، میں شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اس کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھے :

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (1)

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) (ساری) تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہاں کا پروردگارہے

الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (3) اور بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے،

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) (وہ) مالک روز جزا ہے،

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) ہم بس تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور بس تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں،

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما،

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7) ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا (راستہ) جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے۔ [الفاتحة:1-7] قادر ہونے پر اس پوری سورت کا عربی الفاظ میں تلاوت کرنا ضروری ہے [29] پھر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہتے ہوئے رکوع میں چلا جائے اور رکوع میں اپنے سر اور پیٹھ کو جھکائے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ لے اور ’’سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم‘‘ کہے، پھر ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘‘ کہتے ہوئے سر اٹھائے اور سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد ’’رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘‘ کہے پھر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہتے ہوئے اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے دونوں پیر کی انگلیاں اور گھٹنے اور دونوں ہاتھ اور چہرہ وناک زمین پر ہوں اور سجدے میں ’’سُبْحانَ رَبِّیَ الأعْلیٰ‘‘ کہے پھر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہہ کر بیٹھ جائے اور بیٹھ جانے پر ’’رَبِّ اغْفِرْلَیْ‘‘ کہے، پھر ’’اللہ اَکبَر‘‘ کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے اور ’’سُبْحانَ رَبِّیَ الأعْلیٰ‘‘ کہے اور پھر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے جس طرح پہلی رکعت میں کی تھی، پھر ’’اللہُ اکْبر‘‘ کہہ کر رکوع کرے، پھر رکوع سے سر اٹھائے، پھر سجدہ کرے، پھر بیٹھے اور پھر دوسرا سجدہ کر کے بیٹھ جائے، دوسری رکعت میں ہر جگہ وہی تسبیحات پڑھے جو پہلی رکعت میں کہی تھی، [29] کیوں کہ اگر قرآن عربی غیرعربی زبان میں پڑھے گا تو وہ قرآن نہ ہوگا اور اسی لئے الفاظ قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ترجمہ معانی کا ہوتا ہے اور اس کے کلمات و حروف کا ترجمہ کردینے سے اس کی بلاغت اور اعجاز ختم ہو جائے گا اور بعض حروف بھی ساقط ہو جائیں گے، پھر وہ عربی قرآن نہیں رہ جائے گا۔ پھر بیٹھے اور یہ دعا پڑھے : "التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، اللهم صَلِّ على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد "تمام ادب وتعظیم کا مالک اور مستحق صرف اللہ ہے، تمام طرح کی دعائیں اور سارے پاکیزہ اقوال و اعمال اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اورگواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جس طرح تونے ابراہیم اور ان کی آٖ ل پر رحمت نازل فرمائی، تو حمد وستائش کے لائق ہے اور بزرگی والا ہے۔ پھر دائیں اور بائیں "السلام عليكم ورحمة الله" "السلام عليكم ورحمة الله" کہہ کر سلام پھیر دے، اس طرح فجر کی نماز ادا ہوگئی۔

2- ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازیں :

ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازیں چار چار رکعت ہیں، جن میں پہلی دو رکعتیں بعینہ اسی طرح پڑھی جائیں گی جس طرح فجر کی دو رکعت پڑھی گئی ہیں ، لیکن تشہد کے بعد سلام پھیرنے کے بجائے’’اللہ ُ اکبر‘‘ کہہ کر کھڑا ہوجائے اور پہلی دو رکعتوں جیسی دو رکعتیں مزید پڑھے اور پھر تشہد کے لئے بیٹھ جائے، تشہد اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے اور دعا کرکے دونوں طرف سلام پھیردے جیسا کہ فجر کی نماز میں سلام پھیرا تھا۔

3- مغرب کی نماز :

مغرب کی نماز تین رکعت ہے، جن میں پہلی دو رکعتیں بالکل ویسے ہی پڑھے جس طرح فجر کی ادا کی گئی ہے اور دوسری رکعت میں تشہد کے بعد ’’اللہُ اکبر‘‘ کہہ کر کھڑا ہوجائے اور تیسری رکعت ظہر، عصر اور عشاء کی آخری دورکعتوں جیسی ادا کرے، پھر رکوع وسجدہ کرکے دوسرے قعدہ کے لیے بیٹھ جائے اور تشہد اور درود وسلام ودعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیردے۔ نمازی کے لیے افضل یہ ہے کہ رکوع اور سجدے کی تسبیحات کو متعدد بار پڑھے۔

نماز باجماعت کی اہمیت : مردوں کے لیے ان پانچوں وقت کی نمازوں کو مسجد میں باجماعت ادا کرنا واجب ہے، ان کی امامت ایسا شخص کرے جو قرآن کریم کی قراءت سب سے اچھی کرتا ہو اور نماز کے مسائل کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اور سب سے زیادہ دین دار ہو۔ امام فجر اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں رکوع سے پہلے بآواز بلند قراءت کرے، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے لوگ اس کی قراءت سنیں۔

عورتیں اپنے اپنے گھروں میں باپردہ ہوکر نماز ادا کریں اور سوائے چہرہ کے سارے جسم حتٰی کہ ہاتھ پاؤں کو بھی ڈھاکے رکھیں کیوں کہ عورت کا سارا جسم پردہ ہے، عورت مردوں سے علیحدہ ہوکر نماز ادا کرے کیوں کہ اس سے فتنہ کا اندیشہ ہے۔ جب کوئی عورت مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا چاہے تو اس کو اس شرط پر اجازت دی جائے گی کہ پردہ میں اور بغیر خوشبو وغیرہ استعمال کیے مسجد جائے اور اس کی صف مردوں سے پیچھے حجاب کے ساتھ ہو تاکہلوگ فتنہ میں نہ پڑیں اور نہ خود یہ فتنہ کا شکار ہو۔

نمازی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی نمازوں کو انتہائی خشوع و خضوع اور دل جمعی سے ادا کرے اور سارے ارکان مثلا قیام وقعود اور رکوع وسجود اطمینان وسکون سے ادا کرے، نماز میں فضول کام نہ کرے، نہ نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے اور نہ ہی قرآن کے علاوہ کوئی کلمہ اپنی زبان سے نکالے اور مسنون دعاؤں اور اذکار کو نماز کے اندر اپنے اپنے مواقع پر ادا کرے کیونکہ اللہ نے نماز کا حکم اپنے ذکر کے لئے دیا ہے۔ [30]

[30] ہاں جب کوئی شخص کسی اہم چیز کی جانب توجہ دلانا چاہے تو ’’سبحانَ اللہ‘‘ کہے اسی طرح مقتدی امام کو جب وہ کوئی غلطی کرجائے یا کم یا زیادہ کردے تو اسی کلمہ سے متنبہ کر سکتا ہے، اور عورت تالی بجا کر کسی اہم بات کی جانب متنبہ کرسکتی ہے کیوں کہ اس کے آواز نکالنے میں فتنہ کا اندیشہ ہے۔

نماز جمعہ کا طریقہ : جمعہ کے دن مسلمان دو رکعت جمعہ کی نماز ادا کریں جس میں امام دونوں رکعتوں میں قراءت بآواز بلند کرے جس طرح فجر کی نماز میں کی جاتی ہے، اور نماز سے پہلے دو خطبہ دے جس میں مسلمانوں کو نصیحت کرے اور انھیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرے، مسلمان مردوں پر نماز جمعہ کی حاضری امام کے ساتھ واجب ہے، جمعہ کے دن یہ نماز، ظہر کے قائم مقام ہوتی ہے۔

***

اسلام کا تیسرا رُکن : زکوٰۃ ہے-

اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب نصاب [31] مسلمان کو زکوۃ کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے جو سال میں ایک دفعہ نکالی جائے گی اور غریبوں اور مستحقین کو دی جائے گی جن کا خود قرآن نے وضاحت سے تذکرہ کیا ہے۔ [31] نصاب : مال متعین مقدار کو پہنچ جانے پر زکٰوۃ واجب ہے۔ سونا، چاندی، ومال تجارت کا نصاب : جب کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی کسی طرح کی کرنسی ہو، یا سامان تجارت ہوں اور وہ نصاب کو پہنچ جائیں تو اس پر پورے ایک سال گزر جانے پر زکٰوۃ واجب ہے، یعنی اس پوری مالیت کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فی صد) نکالنا ضروری ہوگا۔ پھل واناج کا نصاب : پھل اور غلے تین سو صاع کی مقدار تک پہنچ جائیں تو ان میں زکوۃ واجب ہے، جب یہ فصلیں بغیر محنت ومشقت پیدا ہوں تو اس پر دس فیصد زکوۃ نکالنا واجب ہے اور اگر محنت ومشقت سے اس کی کاشتکاری اور سینچائی کی جائے تو اس پر پانچ فیصد نکالنا واجب ہے،

پھلوں اور غلوں پر زکوۃ کی ادائیگی ہر فصل پر ہے، اگر سال میں دو یا تین بار فصلیں آتی ہیں تو ہر دفعہ زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے۔ جانوروں کا نصاب : اونٹ، گائے، بکری وغیرہ کے نصاب کا تذکرہ اور اس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں وہاں بوقت ضرورت ان کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

’’حالاں کہ انھیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ دین کو اسی کے لیے خالص رکھیں، یکسو ہوکر، اور نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں، اور یہی درست دین ہے۔‘‘

[البينة:5]

زکوۃ کے فوائد : مال زکوۃ کی ادائیگی سے فقیروں اور مسکینوں کی دلداری ہوتی ہے اور ان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور ان کے اور مالداروں کے درمیان محبت و الفت کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔

اسلام نے اجتماعی تعاون اور مسلمانوں کے مابین مالی امداد اور فقراء ومساکین کی کفالت کو صرف زکوۃ کے اندر ہی محدود ومحصور نہیں کردیا، بلکہ قحط سالی کے زمانہ میں مال داروں پر غریبوں کی کفالت واجب قرار دی ہے، اور یہ حرام ٹھہرایا ہے کہ کوئی شخص آسودہ ہو کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو، اسی طرح اللہ نے مسلمان پر صدقۂ فطر واجب کیا ہے جسے وہ عید کے دن شہر میں رائج خوراک سے ایک صاع ہر فرد حتٰی کے بچہ کی طرف سے بھی نکالتا ہے، اور غلام کا صدقۂ فطر اس کا مالک نکالتا ہے، اسی طرح اللہ نے قسم کا کفارہ [32] بھی واجب کیا ہے، جب کوئی شخص قسم کھاکر اسے پوری نہ کرے، مشروع نذر پوری کرنے کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے، اس کے علاوہ نفلی صدقات پر لوگوں کو ابھارا ہے اور خیر کے کاموں میں خرچ کرنے والوں کے لیے بہترین بدلہ کی بشارت دی ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انھیں ان کا اجر کئی گنا بڑھا کر دے گا، ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں زیادہ دے گا۔ [32] قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انھیں کپڑا عطا کرے، اگر یہ میسر نہ ہو تو تین روزہ رکھ لے۔ ***

اسلام کا چوتھا رُکن: صیام (روزہ) :

اسلام کا چوتھا رکن ماہ رمضان کے روزے ہیں، رمضان ہجری سال کا نواں مہینہ ہے،

روزہ رکھنے کا طریقہ :

مسلمان صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے کچھ سحری کھا کر روزہ رکھنے کی نیت کرلے اور پھر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رُکا رہے اور پھر غروب آفتاب کے بعد افطاری کرے، اللہ کی عبادت اور اس کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے اسی طرح پورے ماہ رمضان کے روزے رکھتا رہے۔

روزے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں سے کچھ حسبِ ذیل ہیں :

یہ اللہ کی عبادت اور اس کے حکم کی بجا آوری ہے، بندہ محض اللہ کے لئے کھانا ، پینا اور اپنی شہوت کو چھوڑ دیتا ہے،اور یہ اللہ تعالی کے لئے تقوی( پیدا کرنے) کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہے۔

2- اور روزہ رکھنے میں بے شمار طبّی، معاشی اور اجتماعی فوائد مضمر ہیں جس کا اندازہ صرف وہی کرسکتے ہیں جو صحیح عقیدہ اورایمان کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے :

’’اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے جیساکہ اُن لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں، عجب نہیں کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘(183)

’’(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ (184)

’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن ناز کیا گیا، وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (اس میں) کھلے ہوئے دلائل ہیں ہدایت اور حق وباطل امتیاز کے، سو تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے، وہ اس کا روزہ رکھے، اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو (اس پر) دوسرے دنوں کا شمار رکھنا (لازم ہے)، اللہ تمھارے حق میں سہولت چاہتا ہے اور تمھارے حق میں دشواری نہیں چاہتا اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم شمار کی تکمیل کرلیا کرو اور یہ کہ اللہ کی بڑائی کیا کرو اس پر کہ تمھیں راہ بتادی، عجب نہیں کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘

[البقرة:183-185]

*** روزے کے وہ مسائل جنھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یا رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث شریفہ میں بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

1- جو شخص مریض ہو یا مسافر ہو اس کو ماہ رمضان میں روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن رمضان کے بعد دوسرے ایام میں اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ اسی طرح حیض ونفاس والی عورت کا روزہ رکھنا صحیح نہیں بلکہ اس سے فراغت کے بعد ان ایام کی قضا کرنا واجب ہے۔ 2- اسی طرح حاملہ یا دودھ پلانی والی عورت جب اپنے لیے یا بچہ کے لیے کسی نقصان کا خطرہ محسوس کرے تو اس کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے مگر دوسرے ایام میں اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ 3- اگر کوئی روزہ دار بھول کر کھاپی لے پھر اسے یاد آئے،تو اس کا روزہ صحیح ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے بھول چوک اور زبردستی کی گئی چیزوں کو معاف فرما دیا ہے۔ البتہ اگر کھانے کے دوران یاد آجائے تو منہ میں جو چیز ہو باہر نکال دے۔

***

اسلام کا پانچواں رُکن: حج ہے۔

یہ فریضہ زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، اس کے علاوہ جتنی بار کرے تو یہ نفل شمار ہوگا،حج کے بے شمارفوائد ہیں :

اول : یہ کہ حج اللہ تعالیٰ کی روحانی اور جسمانی اور مالی عبادت ہے۔

دوم : سارے عالم کے مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع ہے، جو ایک جگہ اور ایک جیسے لباس وپوشاک میں اور اللہ واحد کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، جہاں امیر و غریب، شاہ وگدا، کالے وگورے کے فرق کو ختم کرکے بھائی بھائی جیسے ہوکر رہتے ہیں، اور سبھی اللہ تعالیٰ کی بندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس سے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں میں تعارف اور ملاقات ہوتی ہے، ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں، پھر باہمی طور پر تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ نیز اس عظیم الشان اجتماع سے میدان حشر کی یاد تازہ ہوتی ہے جہاں سارے لوگوں کو ایک ہی جگہ حساب وکتاب کے لیے اللہ تعالی جمع کرے گا، پس وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے مرنے کے بعد آنے والی زندگی کے لئے تیار رہتے ہیں۔

خانۂ کعبہ کے طواف سے جو کہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف پنج وقتہ نمازوں میں مسلمانوں کو رُخ کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں، اور وقوف عرفات سے اور مزدلفہ اور منیٰ کے قیام سے مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی بعینہ اسی طرح عبادت کرنا ہے جیساکہ اس نے ہمیں حکم فرمایا ہے۔۔

اس سے خانہ کعبہ یا مقامات مقدسہ کی بذات خود عبادت مقصود نہیں، کیوں کہ نہ تو ان کی عبادت کی جاتی ہے اور نہ ان کے اندر نفع ونقصان پہنچانے کی صلاحیت وطاقت ہے، ہم تو اس اللہ واحد کی عبادت کرتے ہیں جو نفع ونقصان پہنچانے کی تنہا طاقت رکھتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ اور طواف خانہ کعبہ کا حکم نہ دیا ہوتا تو کسی مسلمان کے لیے اس کا طواف اور وہاں کا سفر جائز نہ ہوتا، کیوں کہ عبادت اپنی رائے ومرضی سے نہیں کی جاتی بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق ہوتی ہے جو قرآن کریم میں ہے یا رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’اور لوگوں کے ذمہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا ہے، اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو، اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔‘‘

[آل عمران:97] [33]

[33] اور جو بعض جاہل قبروں اور درگاہوں کی زیارت حج کی نیت سے کرتے ہیں وہ سراسر گمراہی اور اللہ ورسول کی نافرمانی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :’’باقاعدہ سفر کرکے ان تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور نہ جایا کرو: مجسد حرام، میری مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ‘‘۔ بخاري (1189)، مسلم (1397) أبو هريرة کی روایت سے.

اسی طرح عمرہ ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے چاہے وہ حج کے دوران کرے، یا مستقل سفر کرکے کسی وقت چلاجائے۔ نبی کریم ﷺ کی مسجد کی زیارت حج کے دوران یا اس کے علاوہ کسی بھی وقت واجب نہیں، بلکہ وہ ایک مسلمان کے لیے مستحب اور باعث اجر وثواب ہے، اور عدم زیارت پر کسی قسم کا کوئی گناہ اور مواخذہ نہیں ہے۔ اور جہاں تک ان مروجہ ومشہور حدیثوں کا تعلق ہے جن میں یہ حدیث بھی ہے : ’’جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔‘‘ تو یہ غیر صحیح بلکہ موضوع حدیث ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط منسوب ہے۔ [34]

[34] اسی قبیل سے یہ حدیث ہے ’’میری جاہ کے وسیلہ سے دعا کرو کیوں کہ میری جاہ اللہ کے یہاں بہت بڑی ہے۔‘‘ دوسری جگہ ہے ’’ جس کو کسی پتھر سے بھی حسن ظن ہوجائے تو وہ بھی نفع بخش ہوگا‘‘ تو اس طرح کی ساری احادیث موضوع اور صحت سے عاری ہیں۔ اور حدیث کی معتبر کتابوں میں موجود نہیں ہیں بلکہ ان گمراہ گر علماء کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جو شرک وبدعت کی دعوت دیتے ہیں اور انہیں کچھ شعور نہیں رہتا۔

البتہ اس سفر کی اجازت ہے جو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے کیا جائے اور جب کوئی مسجد نبوی پہنچ جائے تو تحیۃ المسجد پڑھ کر فارغ ہوجائے تو اس کے لیے مشروع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قبر کے پاس حاضر ہوکر اس طرح صلاۃ وسلام پڑھے ’’السلامُ علیکَ یا رسول َاللہ‘‘ اس وقت ادب واحترام کا پورا پاس ولحاظ رکھے، آواز پست رکھے۔ اور رسول اللہ ﷺ سے کوئی سوال اور کوئی فریاد نہ کرے، بلکہ صلاۃ وسلام پڑھ کر وہاں سے ہٹ جائے، اسی طرح آپ نے اپنی اُمت کو تعلیم دی تھی اور صحابہ کرام نے عمل کرکے دکھایا۔

جو لوگ نبی کریم ﷺ کی قبر کے پاس نماز کی طرح خشوع وخضوع سے کھڑے ہوکر اپنی حاجتوں کو پوری کرنے کی درخواست کرتے ہیں یا آپ سے فریاد چاہتے ہیں یا اللہ کے یہاں آپ کو واسطہ ٹھہراتے ہیں تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ ان سے بری ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو اس طرح کے اعمال سے چاہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ کیے جائیں اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی اور پھر بقیع اور دوسرے شہداء کی قبروں کی مشروع طریقہ سے زیارت کرے، وہاں پہنچ کر سلام کرے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرے اور خود بھی عبرت حاصل کرے اور واپس آجائے۔

حج وعمرہ کا طریقہ :

اولا حاجی مال حلال وطیب کا انتظام کرے اور مالِ حرام سے اجتناب کرے، کیوں کہ حرام مال کا حج اور اس کی دعا مسترد کردی جاتی ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث میں مروی ہے:

’’ہروہ گوشت جو مالِ حرام سے نشو ونما پائے وہ دوزخ کی زیادہ حقدار ہے۔‘‘[35]

ایسے رفقاء حج کا انتخاب کرے جو صحیح العقیدہ اور ایمان والے ہوں۔

[35] طبراني نے الأوسط (4480) میں،اور بيهقي نے" شعب الإيمان " ( 2 / 173 / 2 ) میں،اور امام البانی نے اس حدیث کو سلسلۃ الصحیحۃ مین صحیح کہا ہے (6/ 212)۔

*** مواقیت :

جب حاجی بذریعہ کار وغیرہ میقات پر پہنچ جائے تو وہاں سے احرام باندھے، اگر ہوائی جہاز میں ہو تو میقات کے قریب پہنچتے ہی احرام باندھ لے اور میقات سے ہرگز تجاوز نہ کرے۔ میقات کا بیان : مکہ مکرمہ کے باہر سے آنے والے تمام حجاج کے لیے نبی کریم ﷺ نے جن مواقیت احرام کا حکم دیا ہے وہ پانچ یہ ہیں :

1- ذوالحلیفہ: یہ مدینہ سے یا اس راستے سے آنے والے حجاج کی میقات ہے، اسے ابیار علی بھی کہتے ہیں۔

2-حجفہ : یہ شام ومصر اور مغرب اور اس طرف سے آنے والے تمام حجاج کرام کی میقات ہے، یہ رابغ شہر سے قریب ہے۔

3- قرن المنازل : یہ اہل نجد اور طائف اور اس راستے سے آنے والے تمام حجاج کی میقات ہے۔ یہ ’’سیل اور وادی محرم‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

4- ذات عرق : یہ اہل عراق یا اس راستے سے آنے والے تمام حجاج کی میقات ہے۔

5- یلملم : یہ اہل یمن کی میقات ہے۔

جو لوگ حج یا عمرہ کی نیت سے آتے ہوئے ان میقات سے گزریں، چاہے یہ حاجی حضرات میقات کے باہر دور یا قریب کے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطہ سے آرہے ہوں انھیں بہر حال یہاں سے احرام باندھ کر ہی جانا چاہیے۔ اہل مکہ نیز جو لوگ حدودِ میقات کے اندر رہنے والے ہیں وہ حج کا احرام اپنے گھر ہی سے باندھ کر آئیں،( گھر سے میقات جاکر احرام باندھ نے کی ضرورت نہیں)۔

*** احرام باندھنے کا طریقہ :

احرام سے پہلے جسم کی صفائی و ستھرائی کرنا، غسل کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔ میقات پہنچ کر احرام کے کپڑے زیب تن کرے، اور ہوائی جہاز سے سفر کرنے والا شخص گھر ہی سے کپڑے پہنے پھر نیت کرلے اور میقات کے قریب یا اس کے بالمقابل پہنچ کر تلبیہ [36] کہے۔ مرد دو صاف ستھرے کپڑوں میں احرام باندھے جو سِلے ہوئے نہ ہوں اور اپنے سر کو نہ ڈھاکے بلکہ اس کو کھلا رکھے۔

عورت حالتِ احرام میں کسی بھی قسم کے کپڑے پہن سکتی ہے، ان کے لیے مخصوص قسم کے کپڑے ضروری نہیں، ہاں شرط یہ ہے کہ اس کا لباس کشادہ اور ساتر ہو اور بے پردگی اور اظہار زینت والا نہ ہو، اس کے لیے احرام کے وقت دونوں ہاتھوں میں دستانے پہننا، یا نقاب کے ذریعہ اپنے چہرے کو چھپانا ممنوع ہے، البتہ اگر غیر محرم سامنے آجائے تو چہرہ پر کوئی کپڑا لٹکا لیں یا کسی اور چیز سے منہ چھپالیں، جیساکہ ازواج مطہرات جب ان کے سامنے سے قافلے گزرتے تھے تو سروں سے اپنی چادریں چہرے پر لٹکالیتی تھیں۔

[36] تلبیہ : یعنی کہے : ’’لبيك حجًّا أو لبيك عمرة‘‘ میں حج کے لیے حاضر ہوں میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں، یعنی مسلسل اللہ تعالی کی بار گاہ میں اپنی حاضری کا ثبوت دیں۔

(حج کی قسمیں : حجِ تمتع :) احرام کے کپڑے پہننے کے بعد حاجی دل سے عمرہ کی نیت کرے اور ’’اللهم لبيك عمرة‘‘ (اے اللہ ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں) کہہ کر تلبیہ پکارے، اور عمرہ کو حج سے ملاکر متمتع بن جائے،[37]

اور حج تمتع ہی افضل ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی کا حکم دیا تھا بلکہ لازم قرار دیا تھا، اور جس نے اس حکم کی تعمیل میں کچھ تردد کیا تو آپ اس سے ناراض ہوگئے تھے۔ البتہ جن کے ساتھ ’’ہدی‘‘ [38] کے جانور ہوں وہ قران کے احرام میں باقی رہیں گے، جیساکہ نبی ﷺ نے کیا تھا۔

قارن وہ شخص ہے جو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھے اور تلبیہ میں ’’اللهم لبيك عمرة وحجًّا‘‘ (اے اللہ ! میں عمرہ اور حج کے لیے حاضر ہوں) پکارے، قارن اپنے احرام میں اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ یوم النحر کو اپنی’’ہدی‘‘قربان نہ کر لے۔ [37] متمتع وہ شخص ہے جو موسم حج میں عمرہ ادا کرے پھر احرام سے مکمل طور پر حلال ہوجائے پھر محظورات احرام کا کرنا اس کے لئے روا ھو جاتا ھے، پھر آٹھویں ذی الحجۃ کو حج کے لیے احرام باندھے۔ قارن وہ شخص ہے جو حج و عمرہ ایک ساتھ ادا کرے اور صرف اعمال حج کو بجالائے، لیکن اس میں ضمنا عمرہ کی بھی نیت کر لے۔ اور مفرد وہ شخص ہے جو صرف حج کی نیت کرے اور عمرہ کی نیت نہ کرے۔ [38] ہدی : مویشی چوپائے جیسے اونٹ یا گائے یا بکری حاجی جن میں سے کسی کی قربانی دیتا ہے پھر فقراء ومساکین میں اس گوشت کا کچھ حصہ تقسیم کرتا ہے اور اس کا کچھ حصہ خود بھی کھاتا ہے۔

اور مفرد وہ ہے جو صرف حج کی نیت کرے اور ’’اللهم لبيك حجًّا‘‘(اے اللہ ! میں حج کے لیے حاضر ہوں) کہہ کر تلبیہ پکارے۔

***

ممنوعات احرام : احرام کی حالت میں تمام حاجیوں کے لیے حسب ذیل باتیں منع ہیں : 1- جماع اور متعلقات جماع جیسے بوسہ لینا، شہوت سے چھونا، فحش باتیں کرنا، اسی طرح نکاح کرنا اور نکاح کرانا اور منگنی کرنا۔ 2- سر منڈوانا، یا بال کتروانا۔ 3- ناخن تراشنا۔ 4- کسی چپکنے والی چیز سے سرڈھانکنا، لیکن چھتری یا خیمہ یا گاڑی کی چھت کے ذریعہ سایہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ 5- خوشبو لگانا اور خوشبو سونگھنا۔ 6- خشکی کے جانور کا شکار کرنا اور اس کی نشاندہی کرنا ۔ 7- مرد کے لیے قمیص یا کوئی دوسرا سِلا ہوا کپڑا استعمال کرنا۔ عورت کا چہرے اور ہاتھوں پر نقاب یا سلا کپڑا ڈالنا۔ مرد جوتے پہن سکتا ہے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے استعمال کرے۔

مذکورہ بالا ممنوعات میں سے نہ جانتے ہوئے یا بھول کر اگر کوئی شخص کسی چیز کا ارتکاب کرلے تو فورا اسے دور کردے اور اس پر کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔ جب حاجی خانۂ کعبہ پہنچے تو اس کا سات مرتبہ طواف قدوم کرے[39]، ابتدا حجر اسود کے پاس سے تکبیر کے ذریعہ کرے اور ختم بھی وہیں کرے، طواف کے درمیان ذکر الہی اور مختلف قسم کی دعاؤں میں مشغول رہے، طواف کے لیے کوئی خاص دعا نہیں ہے[40]، اس کے بعد اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم [41] کے پیچھے ورنہ مسجد حرام میں کسی بھی جگہ دو رکعت نماز پڑھے۔ پھر اس کے بعد صفا پہاڑی[42]،پر چڑھ کر قبلہ کی طرف رُخ کرے، اور تکبیر وتہلیل کرے، اوردعا کرے، وہاں سے مروہ کی طرف جائے، وہاں بھی ویسے ہی کرے جو صفا پر کیا تھا، اس طرح سات مرتبہ سعی کرے، صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر ہوا اور مرہ سے صفا واپس آنا دوسرا چکر ہوا، بھر اس کے بعد اپنے سر کے بال کٹوائے، اور عورت انگلی کے ایک پور کے بقدر اپنے بال کٹوائے، اور اس عمل کے بعد عمرہ پورا ہوگیا اور احرام کی وجہ سے جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں وہ سب حلال ہوگئیں۔ [39] یعنی حرم مکی میں داخل ہو۔ [40] ہاں حجر اسود اور رکن یمانی کے مابین ’’رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‘‘ پڑھے۔ [البقرة:201]

[41] مقام : یعنی مقام ابراہیم -علیہ السلام۔

[42] مسعی : یہ مکان سعی ہے، سعی : صفا اور مروہ کے درمیان ذرا تیزی سے چلنے کو کہتے ہیں، صفا اور مروہ یہ دونوں چھوٹے پہاڑ ہیں۔

عورتوں کے مخصوص مسائل : اگر کوئی عورت احرام باندھنے سے قبل یا اس کے بعد حیض یا نفاس سے دوچار ہوجائے تو وہ حج قران یعنی حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھ لے اور دیگر حجاج کی طرح حج اور عمرہ کا تلبیہ پکارے، کیوں کہ حیض ونفاس احرام باندھنے اور وقوف عرفہ ومزدلفہ وغیرہ میں رکاوٹ نہیں ہیں البتہ صرف بیت اللہ کا طواف کرنا اس کے لیے منع ہے، چنانچہ جو عورت ایسی صورت حال سے دوچار ہوجائے وہ تمام حجاج کرام جیسے حج کے سارے ارکان کی ادائیگی کرتی رہے اور صرف بیت اللہ کا طواف پاک وصاف ہونے تک مؤخر کیے رہے اور طہارت کے بعد اس کو پورا کرے۔ اگر کوئی عورت لوگوں کے حج کے احرام باندھنے اور منیٰ جانے سے قبل ہی پاک وصاف ہوگئی تو وہ غسل کرکے بیت اللہ کا طواف وسعی کرے اور اپنے بالوں کو کتروا کے عمرہ کے احرام سے حلال ہوجائے۔ پھر تمام حجاج کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر منیٰ جائے اور اگر آٹھویں تاریخ کو حجاج کے حج کا احرام باندھنے تک وہ طہارت نہ حاصل کرسکی تو وہ بھی ان کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے حج قران کی نیت کرکے سارے ارکان کی ادائیگی کرتی رہے، یعنی منیٰ جانا، عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنا، رمی جمرات، قربانی، اور قصر کرنا وغیرہ تمام چیزوں کو حجاج کرام کے ساتھ کرتی رہے، اور جب پاک ہوجائے تو غسل کرکے بیت اللہ کا فرض طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرے،

اور یہ طواف وسعی اس کے حج وعمرہ دونون کی طرف سے کافی ہیں، کیوں کہ اسی طرح کی صورت حال حج وداع کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیش آئی تھی اور انھیں نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کرنے کا حکم فرمایا تھا، ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ یہ طواف اور سعی، حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے گی، کیوں کہ حج قران کرنے والے پر منفرد کی طرح صرف ایک طواف اور ایک سعی واجب ہے [43] اور نبی کریم ﷺ کا مذکورہ فرمان اس کی دلیل ہے، ایک اور حدیث شریف میں ہے ’’عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوگیا ہے‘‘ (واللہ أعلم)۔

[43] یہ طواف عید کے دن یا اس کے بعد کرے گا، اور پہلا طواف جو اس نے حج سے پہلے کیا ہے اور جسے طواف قدوم کہا جاتا ہے یہ نفل طواف ہے، مفرد اور قارن کے لیے صرف ایک سعی کرنی ہوگی، یہ سعی اگر طواف قدوم کے ساتھ ہی کرلی تو کافی ہے، ورنہ عید کے دن یا اس کے بعد طواف افاضہ کے ساتھ سعی بھی کرے۔

حاجی آٹھویں ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں اپنی قیام گاہ سے حج کا احرام باندھے جس طرح کہ عمرہ کا احرام باندھ کر میقات سے مکہ آیا تھا، ہو سکے تو غسل کرے اور خوشبو لگائے پھر احرام باندھے اور ’’اللهم لبيك حجًّا‘‘ کہہ کر حج کی نیت کرے، اور احرام کی ساری پابندیوں کا خیال رکھے اور مذکورہ بالا سارے ممنوعات سے اجتناب کرے، یہ پابندیاں اس وقت تک رہے گی تاآں کہ مزدلفہ سے واپس منیٰ آکر دسویں تاریخ [44] کو رمی جمرات اور قربانی اور حلق رأس (سرمنڈانے) سے فارغ نہ ہوجائے اور عورت قصر کرے گی ۔

[44] يوم النحر یہ عید کا دن ہے، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے، اس دن کا نام يوم النحر اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ حجاج کرام اس دن اپنے قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔

حاجی آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھ کر منیٰ تمام حجاج کے ساتھ جائے اور وہیں شب گزاری کرے، وہاں پانچ وقت کی فرض نماز اپنے اپنے وقت پر قصر ادا کرے (ظہر، عصر، مغرب، عشاء، فجر) دوسرے دن نویں تاریخ کو سورج طلوع ہونے کے بعد سارے حجاج کے ہمراہ نمرہ جائے اور وہاں قیام کرے اور امام کے ساتھ ظہر وعصر کی نماز جمع وقصر کرکے ادا کرے اور زوال کے بعد وہاں سے عرفہ کی طرف نکل کر قبلہ رُخ ہو کر زیادہ سے زیادہ ذکر ودعا میں مشغول رہے، اور اگر منی سے(نمرہ نہ جاکر) عرفہ میں جاکربیٹھ جائے تویہ بھی جائز ہے میدان عرفات پورا کا پورا مقام وقوف ہے،

اور حاجی عرفات میں اللہ کے ذکر،دعا اور استغفار میں مشغول رہے اور پہاڑ کی طرف رخ نہ کرکے قبلہ رخ ہوجائے کیونکہ پہاڑ تو عرفات کا ایک جز ہے عبات سمجھ کر اس پر چڑھنا درست نہیں، اسی طرح اس کے پتھروں کو ٹچ کرنا جائز نہیں بلکہ یہ بدعت محرمہ ہے۔ پھر غروب آفتاب کے بعد لبیک پکارتے ہوئے پورے سکون واطمینان کے ساتھ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے اور مزدلفہ پہنچتے ہی مغرب وعشاء کی نماز جمع تاخیر کے ساتھ قصر ادا کرے، اس کے بعد وہیں رات گزارے اور فجر کی نماز پڑھ کر جب اجالا ہوجائے تو طلوع آفتاب سے قبل اللہ کا ذکر کرتے ہوئے منیٰ کی طرف روانہ ہوجائے۔ منیٰ پہنچ کر طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرے یعنی سات کنکریاں یکے بعد دیگرے مارے، کنکریاں بہت چھوٹی یا بہت بڑی نہ ہوں، بلکہ چنے کے برابر ہوں، جوتے وغیرہ سے رمی کرنا جائز نہیں، یہ لغو اور شیطانی عمل ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی اور اللہ اور رسول کی نافرمانی سے اجتناب ہی شیطان کو سب سے زیادہ رسوا [45] کرنے والی چیز ہے۔ [45] شیطان کو رسوا کرنا۔ رمی جمرہ عقبہ سے فارغ ہونے کے بعد حاجی قربانی کرے، پھر اپنے سر کا حلق کرائے اور عورتیں تھوڑا کٹوائیں، اگر مرد بھی قصر کرے تو جائز ہے لیکن حلق افضل ہے،پھراپنے کپڑے پہن لے اور اب احرام کی پابندی ختم ہوگئی اور عورت کے علاوہ ساری چیزیں حلال ہوگئیں، پھرمکہ جائے اور طواف افاضہ اور اس کے بعد سعی کرے اور اس کے بعد عورت بھی حلال ہوجائے گی،پھرطواف افاضہ سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ واپس آجائے اور گیارہ اور بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کی راتیں وہیں گزارے، اگر کوئی صرف دو راتیں ہی وہاں گزار کر واپس آجائے تو بھی جائز ہے۔ ان دونوں میں زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں مارے، ابتدا پہلے جمرہ سے کرے جو منی سے ملا ہوا ہے ، پھر دوسرے کو اور پھر جمرہ عقبہ کو، ہر ایک کو سات کنکریاں مارے، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، اورکنکریاں منیٰ میں اپنے قیام گاہ [46] سے لے کر جائے، جسے منیٰ میں جگہ نہ ملے تو جہاں خیمے ختم ہوتے ہیں وہیں ٹھہر جائے۔ [46]اپنی قیام گاہ۔ اگر منیٰ میں صرف دو ہی دن قیام کر کے وطن واپس ہونا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ تیسری رات بھی منیٰ میں گزارے اور زوال کے بعد رمی کرے ۔ جب اپنے ملک کو واپس جانا چاہے تو طواف وداع کرے، اور فورا ہی روانہ ہوجائے، طواف فرض اور سعی کرنے کے بعد اگر کوئی عورت حیض یا نفاس سے دوچار ہوگئی ہو تو وہ طواف وداع سے مستثنی ہے اور اس کا کرنا ضروری نہیں ہے، اگر کوئی حاجی قربانی کو گیارہ یا بارہ یا تیرہ تاریخ تک مؤخر کردے تو یہ جائز ہے، اسی طرح اگر کوئی طواف افاضہ اور سعی کو منیٰ سے واپسی پر کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے لیکن افضل دسویں تاریخ کو کرنا ہے۔ والله أعلم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم.(اور اللہ ہی سب سے زیادہ جانتا ہے، اور درود و سلام ہو محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل پر)۔ *** ایمان اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور ارکانِ اسلام پر ایمان کے ساتھ ساتھ فرشتوں [47] اور آسمانی کتابوں [48] پر بھی ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں، جس سلسلہ کی آخری کتاب قرآن کریم ہے، جو تمام آسمانی کتابوں کی ناسخ ہے اور اللہ نے اسے گزشتہ کتابوں پر محافظ بنایا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بھی حکم فرمایا کہ وہ سارے بھیجے ہوئے انبیاء کرام اور رسولوں پر ایمان لے آئیں، کیوں کہ سبھی کی دعوت ایک اور دین ایک ہے اور وہ دین اسلام ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے جو رب العالمین ہے نبی ورسول بناکر بھیجا ہے، لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں ہوا ہے کہ وہ اللہ کے رسول تھے جو اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے اور اس کے ساتھ ہی یہ ایمان ویقین رکھے کہ سب سے آخری نبی محمد ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں جن کو ساری انسانیت کی طرف رسول بناکر اللہ نے مبعوث فرمایا ہے، اور ساری انسانیت حتی کہ یہود ونصاریٰ اور ان کے علاوہ دیگر مذاہب آپ کی امت کے ایک فرد ہیں اور ساری سرزمین کے لوگ آپ کی اتباع اور آپ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ [47] فرشتے ایک مخلوق ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا فرمایا ہے جن کی تعداد غیر معمولی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوائے ان کے صحیح اعداد وشمار سے کوئی واقف نہیں، کچھ تو آسمانوں میں ہیں اور کچھ انسانوں (کے مختلف امور کے انجام دہی کے )لیے مامور ہیں۔ [48] مسلمان اس پر ایمان رکھے کہ وہ کتابیں جو اللہ تعالیٰ نے رسولوں پر نازل فرمائی تھیں سب برحق ہیں اور ان میں صرف قرآن کریم صحیح وسالم موجود ہے اور وہ تورات وانجیل جو یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں وہ خود ان کی تحریر کردہ کتابیں ہیں، کیوں کہ ان میں بے حد اختلاف اور فرق پایا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر تحریف وتبدیل کی دلیل یہ ہے کہ اس میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ ’’معبود تین ہیں اور عیسی اللہ کے بیٹے ہیں‘‘ حالاں کہ صحیح اور حق بات یہ ہے کہ معبود ایک ہے اور وہ اللہ واحد کی ذات پاک ہے اور عیسی اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جیساکہ قرآن کریم میں ہے، نیز ان کتابوں میں اللہ کا جو کلام موجود ہے وہ قرآن سے منسوخ ہے، چناںچہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا ایک ورق دیکھا تو بے حد ناراض ہوئے اور فرمایا : اے ابن الخطاب کیا تمھیں ابھی کچھ شک ہے، اللہ کی قسم اگر میرے بھائی موسیٰ زندہ ہوتے تو میری ہی اتباع کرتے۔ چنانچہ حضرت عمر نے وہ ورق پھینک دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ :میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔أحمد (3/387) عن جابر بن عبدالله،اورامام الألباني نے إرواء الغلیل میں حسن کہا ہے (1589). حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور سارے انبیاء ان لوگوں سے اظہارِ براءت کردیں گے جو رسول اللہ ﷺ کے دین اسلام پر ایمان نہ لائے، کینکہ مسلمان تمام انبیاء کرام پر ایمان لانے والا اور ان کی اتباع کرنے والا ہے۔ اور جو شخص حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی پیروی نہ کرے اور دین اسلام پر ایمان ویقین نہ رکھے وہ درحقیقت سارے انبیاء کرام کا منکر ہے اگرچہ اپنے کو کسی ایک نبی کا پیروکار کہے، اس سلسلہ میں تفصیل سے (فصل ثانی میں) دلائل ذکر کیے جاچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور میری رسالت وشریعت پر ایمان لائے بغیر مرجائے تو وہ جہنم میں جائے گا‘‘۔ [49]

[49]مسلم (153)، أحمد (2/317).

اسی طرح ہر مسلمان کے لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب وکتاب، جزا وسزا، جنت وجہنم یعنی یوم آخرت کی ہر چیز پر اوراللہ کی تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے۔

قضاء وقدر پر ایمان کامطلب :

قضاء وقدر پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے اور تقدیر پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کی ہر چیز اور بندوں کے سارے اعمال کا آسمان وزمین کے پیدا کرنے سے پہلے علم ہے، اور یہ ساری معلومات اس کے پاس لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں، اور ایک مسلمان کو اس کا بھی علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو چاہا وہ ہوگئی اور جس چیز کو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوئی، اور اس نے بندوں کو اپنی عبادت واطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور اس کے طریقوں کو واضح فرمادیا ہے اوراس کے کرنے کا صراحتًا حکم دیا ہے، اور اسی طرح سے اپنی معصیت سے منع کیا ہے اور اس کی بھی نشاندہی فرمادی ہے، اور انسانوں کو قدرت اور ارادہ کی صلاحیت دی ہے جس کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرامین کی بجاآوری کرسکیں تاکہ اجر وثواب سے نوازے جائیں، اور جس نے اس کی نافرمانی کی اور گناہوں کا مرتکب ہوا وہ سزا وعذاب کا مستحق ہوگا،

اور بندوں کی مشیت وطاقت اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہے۔ جہاں تک ان چیزوں کا تعلق ہے جن میں بندوں کی مشیت واختیار کا کوئی دخل نہیں اور ان کا ہونا ناگزیر ہوتا ہے اور انسان کے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں جیسے بھولنا، غلطی کرنا، بیماری، غریبی، مصیبتوں سے دوچار ہونا، زبردستی کرائی گئی چیز، تو ان جیسی تمام چیزوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر کوئی گرفت نہیں، اور نہ کسی طرح کی سزا وعذاب ہے، بلکہ فقر وفاقہ اور مصیبتوں پر بندہ جب صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتا ہے اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اجر وثواب سے نوازتا ہے۔

مذکورہ تمام چیزوں پر ایمان رکھنا ایک مسلمان پر واجب ہے۔

مسلمانوں میں سب سے زیادہ راسخ العقیدہ اور پختہ ایمان والے اور اللہ تعالیٰ سے قربت رکھنے والے اور جنت میں بڑے مرتبہ والے محسنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت اور خوف خشیت اور تعظیم وتوقیر کرتے ہیں گویا کہ وہ لوگ اسے دیکھ رہے ہوں اور اس کی کسی طرح معصیت نہیں کرتے، ان کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہوتا ہے، اور اگر یہ کیفیت نہیں ہوپاتی تو کم سے کم اس کا استحضار رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے، اور ان کے اقوال وافعال اور نیتوں میں سے کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے، چنانچہ اس کی اطاعت سے سرشار اور اس کی نافرمانی سے کنارہ کش رہتے ہیں، اور جب ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو توبہ واستغفار میں جلدی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں پر ندامت اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے رہتے ہیں اور نیکی کرتے رہتے ہیں۔‘‘ [النحل:128] *** دین اسلام کا کامل ہونا : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمھارے لیے اسلام بطور دین کے پسند کر لیا۔‘‘

[المائدة:3].

دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’بے شک یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے رہتے ہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا بھاری اجر ہے‘‘۔

[الإسراء:9]

مزید قرآن کے بارے میں ارشاد ہے :

’’اور ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے جو ہر بات کو کھول دینے والی، اور مسلموں کے حق میں ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔‘‘

[النحل:89]

اورصحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’میں تمھیں نہایت واضح اور روشن شاہراہ پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی راتیں دن کی طرح روشن اور عیاں ہیں، اس راستہ سے وہی کجی اختیار کرے گا جو ہلاک ہوکر رہے گا‘‘۔[50] ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا : ’’میں تمھارے پاس دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، جب تک انھیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اللہ کی کتاب (قرآن)اور اس کے نبی کی (میری) سنت‘‘۔[51] [50] أبو داود (4607)،ترمذي (2676)، ابن ماجه (43) الفاظ سنن الترمذی کے ہیں، أحمد (17142) تھوڑے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ، اور امام الألباني نے صحيح ابن ماجه (41) میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے. [51]مالك (3338)، اور امام الألباني نے اس حدیث کو صحيح الجامع میں صحیح کہا ہے (2937). مذکورہ آیتوں کے معنی ومفھوم کی توضیح: پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اس نے دین اسلام کو مسلمانوں کے لیے مکمل فرمادیا ہے، اب اس میں کسی طرح کی کمی وبیشی کی قطعََا گنجائش نہیں، وہ ہر زمانے اور ہر ملک کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہے، اور یہ اعلان فرمادیا کہ اس نے مسلمانوں کو یہ کامل ترین دین عطا فرما کر نبی کریم ﷺ کی رسالت کے ذریعہ اور مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر فتح یاب کر کے اپنی ساری نعمتوں کو تمام فرمادیا ہے، مزید یہ بھی واضح فرمادیا کہ اس نے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا ہے، اب اس سے کبھی ناراض نہیں ہوگا اور دین اسلام کے علاوہ کسی سے کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرے گا۔ دوسری آیت میں اللہ تعالی نے یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل دستور حیات ہے، اس میں دینی ودنیاوی تمام امور ومعاملات کی انتہائی واضح اور اطمینان بخش ہدایات اور تعلیمات موجود ہیں، کوئی خیر وبھلائی کی چیز نہیں جس کی طرف قرآن نے رہنمائی نہ کی ہو اور اسی طرح کوئی شر وبرائی کی بات نہیں جس سے خبردار نہ کیا ہو۔ جدید وقدیم قسم کے کیسے بھی مسائل ہوں قرآن کریم میں ان کا معتدل اور صحیح حل موجود ہے، اور ہروہ حل جو قرآن سے متصادم ہو وہ سراسر ظلم اور جہالت ہے۔ علم وعقیدہ اور سیاست اور نظام حکومت اور عدالتی، معاشرتی، معاشی اور تعزیراتی نظاموں سے متعلق سارے احکام وقوانین قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بیان فرما دیے ہیں اور اس کی مکمل وجامع تشریح وتفہیم رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول وعمل سے بیان فرمادی ہے، اسی کی طرف قرآن کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔ ’’ہم نے یہ کتاب آپ پر نازل کردی جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے ‘‘۔[النحل:89] آنے والی فصل میں دین اسلام کے کمال اور اس کے درست،کامل اور جامع منہج کو مفصل بیان کیا گیا ہے۔ *** چوتھی فصل : اسلامی منہج: 1- علم : اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو سب سے پہلی چیز واجب و لازمی قرار دی ہے وہ حصول علم ہے، چناںچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’تو آپ اس کا یقین رکھیئے کہ بجز اللہ کے کوئی حقیقی معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیئے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی‘‘۔

[محمد:19]

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’اللہ تم میں ایمان والوں کے اور ان کے جنھیں علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘

[المجادلة:11]

مزید ارشاد ہے :

’’اور آپ کہیئے کہ اے میرے پروردگار بڑھادے میرے علم کو۔‘‘ [طه:114] ایک جگہ اور فرمایا : ’’اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔‘‘

[الأنبياء:7].

ایک صحیح حدیث میں محمد ﷺ کا ارشاد ہے :

’’ہر مسلمان پر علم کا حاصل کرنا فرض ہے۔‘‘[52]

اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا :

’’ایک عالم کی جاہل پر ایسی ہی فضیلت ہے جس طرح چودہویں رات کے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر ہے‘‘۔[53]

[52]ابن ماجه (224)، اور طبرانی نے الصغیر (224) میں، اور امام الألباني نے اس حدیث کو صحيح الجامع(3808) و(3809)میں صحیح کہا ہے.

[53] ترمذي (2322)، ابن ماجه (4112)، اور امام الألباني نے اس حدیث کو صحيح الجامع میں صحیح کہا ہے (1609)

اسلام میں باعتبار وجوب کے علم کی چند قسمیں ہیں :

قسم اول : جو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور جس کی عدم واقفیت کی وجہ سے کوئی معذور نہیں سمجھا جائے گا، وہ ہے ’’اللہ تعالیٰ کی معرفت‘‘ ، ’’رسول اللہ ﷺ کی معرفت‘‘ اور ’’دین اسلام کے ضروری امور کی معرفت حاصل کرنا‘‘۔[54]

[54] اس کی تفصیل گزشتہ تین فصلوں میں گزر چکی ہے۔

قسم دوم : جو فرض کفایہ ہے، یعنی اگر اسے امت کے کچھ لوگ حاصل کرلیں تو بقیہ تمام لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا اور وہ لوگ عدم تحصیل پر گنہگار نہیں ہوں گے، لیکن ان لوگوں کے لیے بھی اس کا حاصل کرنا مستحب اور افضل ہوگا، اور وہ ہے فقہی وشرعی مسائل میں اتنی مہارت حاصل کرنا کہ تدریس، منصب قضا اور افتاء کا اہل ہوجائے اور لوگوں کو دینی وشرعی رہنمائی کرسکے۔ اسی ضمن میں وہ سارے دنیاوی علوم وفنون بھی آتے ہیں جن کے ذریعہ مسلمان خود کفیل ہوجائیں اور دوسروں کے محتاج نہ رہیں ، اس لیے مسلمان حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ ایسے افراد تیار کرائیں جو یہ علوم وفنون حاصل کریں، جو مسلمانوں کے لیے ضروری ہیں اور جن کے ذریعہ وہ خود کفیل ہو سکتے ہیں۔

2- عقیدہ :

اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ وہ برملا یہ اعلان کردیں کہ سارے لوگ اللہ واحد کے بندے ہیں، لہذا ان کے لیے ضروری ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اسی سے براہ راست بغیر کسی واسطہ کے اپنی عبادت ودعا کا رابطہ قائم رکھیں جس کی تفصیلات توحید کی شرح میں گزر چکی ہیں، اور اسی طرح صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک پر بھروسہ رکھیں، اسی سے خوف وخشیت کا اظہار کریں، اسی سے امیدیں رکھیں،[55] کیوں کہ نفع ونقصان کا مالک وہی ہے، اور ان تمام صفات کمال سے اسے متصف کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو متصف فرمایا ہے یا رسول اللہ ﷺ نے اسے متصف کیا ہے جیسا کہ اس کا بیان گزرچکا ہے۔

[55] اس سے مراد یہ ہے کہ : مخلوق سے نہ خوف کھائیں اور نہ ہی امید رکھیں جیسے مرے ہوئے لوگوں اور بتوں سے خوف کھانااورامید رکھنا جو کسی طرح کی قدرت نہیں رکھتے، ہاں ایسا خوف جو انسان کے اندر پایا جاتا ہے جیسے شیر اور چوروں کا خوف وغیرہ اور اسی طرح ایسے شخص سے امید رکھنا جس سے مدد کی امید ہو جیسے ایک ذمہ دار اور سخی شخص تو اس طرح کا خوف اور اس طرح کی امید ایک طبیعی و فطری بات ہے اس پر کسی قسم کی ملامت نہیں۔

3- لوگوں سے رابطے میں رہنا:

اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ ایسا نیک صفت انسان بنے جو انسانیت کو کفر وشرک کی تاریکی سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف لانے کی کوشش کرے، اسی کے پیش نظر ہم نے اس کتاب کو مرتب اور اسے زیر طبع سے آراستہ کرکے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، تاکہ اس فریضۂ دعوت اور حقوق العباد کی فرضیت سے سبکدوش ہو سکوں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایمان باللہ کا رابطہ ہی ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے مربوط کرتا ہے، اور اسی بنیاد پر باہمی تعلقات و معاملات استوارکیے جائیں،لہذا ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے جو نیک اور اللہ کا فرماں بردار ہو محبت کرے، اگر چہ وہ دور کا رشتہ دار تک نہ ہو، اور ان کافروں سے بغض وعداوت رکھے جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے نافرمان ہیں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہی مضبوط رشتہ اور رابطہ ہے جو دو مختلف اشخاص کو باہم ملاتا اور ان میں الفت و محبت پیدا کرتا ہے، بخلاف نسبی اور وطنی اور عارضی ومادی رشتوں کے جو بہت جلد چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ’’جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، آپ انھیں نہ پائیں گے کہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے کنبے والے ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ [المجادلة:22] مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار شخص اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہے۔‘‘ [ الحجرات: 13 ] اللہ وتعالیٰ پہلی آیت کریمہ میں یہ بتارہا ہے کہ اللہ پر ایمان رکھ نے والا مرد مومن اللہ کے دشمنوں سے اظہار محبت نہیں کرتا، اگرچہ وہ قریب ترین رشتہ دار ہوں۔

دوسری آیت میں یہ واضح فرمارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف ومنزلت رکھنے والا محبوب شخص وہ ہے جو اس کا فرماں بردار ہو، چاہے وہ کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والا فرد ہو۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عدل وانصاف سے معاملہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، چاہے دوسرا شخص دشمن ہو یا دوست، اور ظلم وستم کو اپنی ذات پاک پر حرام قرار دیا ہے اور اپنے بندوں کے مابین بھی حرام ٹھہرایا ہے۔ اور امانت داری اور سچائی کا حکم دیا ہے اور خیانت سے منع فرمایا ہے، اور والدین کی اطاعت وخدمت، رشتہ داروں سے صلہ رحمی، فقراء و مساکین کے ساتھ احسان اور رحم دلی کا حکم فرمایا ہے، اور رفاہی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کا حکم فرمایا ہے،حتٰی کے جانوروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا حکم اور ان کو تکلیف دینے سے منع فرمایا ہے۔[56] ہاں نقصان پہنچانے والے جانوروں کو جیسے پاگل کتے [57]، سانپ، چوہے، بچھو اور چھپکلی وغیرہ جیسے جانوروں کو مارڈالا جائے گا، تاکہ ان کےشر سے لوگ محفوظ رہ سکیں، ہاں ان کو بھی تکلیف دے دے کر مارنا منع ہے۔

[56] یہاں تک کہ حلال جانور کو ذبح کرتے وقت ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ چھری کو تیز کرلیا جائے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو اور بآسانی ذبح ہوجائے، اور حلق کی جگہ چھری پھیری جائے اور شہ رگ کاٹی جائے تاکہ خون اچھی وپوری طرح نکل جائے، اور اونٹ کو گردن سے نیچے نحر کیا جائے، اور جانور کو بجلی کا شاک دے کر یا سرپر مار کر قتل کرنا حرام ہے اور اس طرح قتل کئے گئے جانور کا کھانا ناجائز ہے۔

[57] وحشی کتا جو لوگوں کو ایذا پہنچائے، اور اس میں تمام وحشی ایذا پہنچانے والے جانور بھی شامل ہیں۔

4- مرد مومن کے مراقبہ اور قلبی واعظ کے متعلق :

قرآن کریم کی متعدد آیتیں یہ بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، نیز ان کے تمام اعمال اور دل میں چھپے ہوئے رازوں اور نیتوں سے واقف اور باخبر ہے، اور ان کے اقوال واعمال کے ریکارڈ تیار کیے جارہے ہیں اور اس کام کے لیے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو ہمہ وقت ساتھ ہیں اور ہر چھوٹی وبڑی اور ظاہری وباطنی چیزوں کو جو انسانوں سے صادر ہوتی ہیں لکھ لیا کرتے ہیں، اور اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ یوم آخرت میں ان کا حساب وکتاب لے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دردناک عذاب سے ڈرایا اور متنبہ کیا ہے جو لوگ اس دنیاوی زندگی میں اس کی نافرمانی اور گناہ کرتے ہیں، چنانچہ مومنین ان تنبیہات سے سبق حاصل کرتے ہوئے معصیت اور نافرمانی سے بچنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اور جرائم اور مخالفتوں سے اجتناب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے خوف وخشیت کا اظہار کرتے ہیں۔

اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے خوف وخشیت نہیں رکھتے اور گناہوں پر قدرت کے وقت اس کاارتکاب کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی باز رکھنے کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ آپس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہیں، اور اس طرح ہر مسلمان اس کا شعور رکھے کہ ہر وہ گناہ جو کوئی دوسرا شخص بھی کرے وہ اپنے آپ کو عند اللہ اس کا ذمہ دار تصور کرتے ہوئے حسب استطاعت اپنی زبان سے یا ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، نہیں تو کم از کم اسے دل میں برا سمجھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمان حکمرانوں [58] کو یہ حکم فرمایا ہے کہ اسلامی قوانین کی خلاف وزری کرنے والوں پر اللہ کے مقرر کردہ حدکی تنفیذ کریں، جس کی تفصیلات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول وفعل سے بیان فرمائی ہیں، یعنی جرائم پیشہ لوگوں پر جرائم کے اعتبار سے ان پر سزا نافذ کریں تاکہ عدل و انصاف، امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

[58] حاکم یا رئیس۔

5- اسلام کا اجتماعی کفالتی اور تعاونی نظام :

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ باہمی طور پر مالی اور مادی تعاون کیا کریں جس کی قدرے تفصیلات زکوۃ وصدقات کے باب میں بیان ہوچکی ہیں، اسی طرح اس نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی ایذا رسانی سے منع فرمایا ہے خواہ کتنی ہی معمولی سی چیز کے ذریعہ ہو، جیسے راستوں یا سایہ والی جگہوں پر کوئی ناخوشگوار چیز ڈال دی جائے اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ اور ایسی تکلیف دہ چیزوں کو زائل کرنے پر اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، اور تکلیف پہنچانے والے کو سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر یہ لازم قراردیا ہے کہ وہ دوسرے کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اور اس کے لیے وہ چیز ناپسند کرے جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’ایک دوسرے کی مدد، نیکی اور تقوے میں کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے۔‘‘

[المائدة:2]

مزید ارشاد ہے :

’’بے شک مسلمان (آپس میں) بھائی بھائی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کردیا کرو۔‘‘

[الحجرات:10]

نیز فرمایا :

’’سرگوشیاں بہت سی ایسی ہیں جن میں کوئی بھلائی نہیں، ہاں البتہ بھلائی یہ ہے کہ کوئی صدقہ کی ترغیب دے یا کسی اور نیک کام کی، یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی، اور جو کوئی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایسا کرے گا سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے۔‘‘

[النساء:114]

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ’’کوئی شخص مومن (کامل) نہیں ہوسکتا تا آں کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔[59] اسی لیے آپ ﷺ نے حج وداع کے عظیم خطبہ [60] کے دوران جو آپ نے حیات طیبہ کے آخری دنوں میں دیا تھا اللہ تعالیٰ کے سابقہ احکام کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اور امام احمد نے روایت کیا :

’’اے لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارے جد امجد ایک ہیں، غور سے سنو! کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت وفوقیت نہیں، نہ کسی عجمی کو عربی پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت حاصل ہے، مگر تقویٰ کے ذریعہ ‘‘ کیا میں نے اللہ کا حکم تمھیں پہنچا دیا؟ تو سبھی لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول نےپہنچا دیا ہے‘‘۔[61]

اور آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا :

’’بے شک تمھارا خون اور تمھارے اموال اور تمھاری عزت وآبرو ایسے ہی حرام ہیں جس طرح آج کا یہ دن تمھارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں حرام ہے ، کیا میں نے پہنچا نہیں دیا؟ سبھی نے عرض کیا :ہاں‘‘ پھر آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاکر فرمایا : اے اللہ! تو گواہ رہ۔‘‘[62]

[59] بخاري (13)، مسلم (45) اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔

[60] یہ اقتباسات اس جامع وعظیم الشان خطبہ کے ہیں جو کتب احادیث نبویہ میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں۔

[61]أحمد (22978)، اورامام الألباني نے السلسلة الصحيحة میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے (199/6)۔

[62] بخاري (105)، مسلم (1718) الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔

6-داخلی سیاست :

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ہی میں سے کسی کا انتخاب کرکے اپنا امام وحاکم مقرر کرلیں اور اس کی اطاعت وحاکمیت کو تسلیم کریں اور اتفاق واتحاد کا مظاہرہ کریں اور اختلاف وانتشار کا شکار نہ ہوں اور اس طرح سے امت واحدہ ہونے کا ثبوت دیں۔ اسی طرح انھیں حکم فرمایا کہ وہ اپنے امام وحاکم کی اطاعت اور فرماں برداری کریں، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی معصیت پر مجبور کریں تو اس میں ان کی اطاعت و فرماں برداری نہیں کی جائے گی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر یا ملک میں رہے جہاں اپنے اسلام کا اظہار نہ کرسکتا ہو اور نہ اس کی آزادانہ طور پر دعوت وتبلیغ کرستا ہو تو وہ وہاں سے کسی اسلامی ملک کی طرف ہجرت کرجائے[63] جہاں اسلامی قوانین وشریعت کی تنفیذ ہوتی ہو، اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام وقوانین کے مطابق کوئی مسلمان حکمرانی کرتا ہو،

[63] اس کو حکم دیا- اگر استطاعت رکھتا ہو۔

کیوں کہ اسلام علاقائی حدبندیوں اور قومی اور لسانی تفریق اور امتیازات کا قائل نہیں، بلکہ ایک مسلمان کی قومیت اسلام ہے، تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ساری سرزمین کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے، لہذا مسلمان جہاں جی چاہے بغیر رکاوٹ کے آزادانہ طور ہر آمد ورفت رکھ سکتا ہے، بشرط یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین پر عمل پیرا ہو اور جب وہ اللہ کے مقرر کردہ حدود کی مخالفت کرے تو اسے اسلامی تعزیرات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اللہ کی شریعت پر عمل اور اسلامی حدود [64] کی تنفیذ سے ہی امن و امان قائم ہوسکتا ہے، مسلمانوں کے حقوق محفوظ رہ سکتے ہیں اور ان کی جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت ہو سکتی ہے اور اسی میں سب کی بھلائی ہے اور اس شریعت سے اعراض کی صورت میں ہر برائی جنم لے سکتی ہے۔

[64] حدود : شریعت اسلامیہ میں مقرر کردہ سزاؤں کو مرتکبِ جرائم پر نافذ کرنا۔

اللہ تعالیٰ نے انسانی عقل وشعور کی حفاظت کی خاطر ہر نشہ آور اور فتور [65] پیدا کرنے والی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اور شراب نوشی کرنے والے کی سزا چالیس سے اسّی کوڑے تک مقرر کی ہے۔ تاکہ وہ اس حرکت سے باز آجائے اور اس کے عقل کی حفاظت ہوسکے، نیز وہ دوسروں کے لیے عبرت ہو اور وہ اس کے شر وشرارت سے محفوظ ہوجائیں۔ [65] المفترات : ایسی اشیاء جو سستی، کاہلی اور انسانی عقل و اعضاء کو ماند کرنے کا سبب بنیں۔ قتل کی حرمت : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جان وخون کی حفاظت کے پیش نظر ناحق قتل کو حرام قرار دیا ہے اور قاتل کی سزا قصاص کے طور پر قتل قرار دی ہے، اور زخموں کا بھی قصاص مقرر فرمادیا ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان کو اپنی جان ومال اور عزت کی حفاظت اور دفاع کا بھی حق دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

’’اور تمھارے لیے اے اہل فہم (قانون) قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ [البقرة:179] نیز رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جو شخص اپنے نفس کے دفاع میں قتل ہوا وہ شہید ہے، اور جو شخص اپنے اہل وعیال کے دفاع میں قتل ہوا وہ شہید ہے، اور جو شخص اپنے مال ودولت کے دفاع میں قتل ہوا وہ شہید ہے‘‘۔ [66] [66]أبو داود (2 / 275) نَسائي (2 / 316)،أحمد (1652) ، اور امام الألباني نے اس حدیث کو صحيح الترغيب والترهيب: (1411) ، وصحيح الجامع (4172) میں صحیح کہا ہے۔

غیبت اور تہمت کی ممانعت : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عزت وآبرو کی حفاظت اس طور پر فرمائی کہ ایک مسلمان کو اپنے مسلم بھائی کی غیر موجودگی میں ایسی بات کہنے کی ممانعت فرمائی ہے جو اسے ناگوار لگے (یعنی غیبت کی ممانعت فرمائی ہے) اسی طرح کسی مسلمان پر کسی اخلاقی جرم مثلا زنا یا لواطت کی تہمت لگانے والے کی سزا، تاآں کہ وہ اسے شرعی طور پر ثابت نہ کردے، اسّی کوڑے مقرر فرمائی ہے۔

زنا کی حرمت : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے نسل ونسب کی حفاظت کی خاطر زنا اور ناجائز جنسی تعلقات [67] کو حرام فرمایا ہے اور اس اخلاقی جرم کو بہت بڑا گناہ قرار دے کر سختی سے اس کی ممانعت فرمائی ہے، اور جب شرعی طور پر اس کا ثبوت ہوجائے تو اس کی انتہائی بھیانک سزا مقرر کی ہے تاکہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔

[67] اللہ تعالی نے نسل ونسب کے ضیاع واختلاط سے حفاظت کی خاطر زنا کو حرام فرمایا تاکہ زنا کے سبب کسی شحص کی نسبت اپنے غیر باپ کی طرف نہ ہو۔

چوری اور دھوکہ دہی وغیرہ کی ممانعت : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اموال کی حفاظت کے پیش نظر چوری، دھوکہ دہی، جوا، رشوت اور ان کے علاوہ تمام ناجائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کو حرام قرار دیا ہے اور ان غلط طریقوں پر پابندی اور روک تھام کے لیے چوری ورہزنی کرنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کیا ہے جب کہ ہاتھ کاٹنے کی شرطیں پائی جائیں، اور اگر ہاتھ کاٹنے کی شرطیں پوری نہ ہوئیں مگر چوری ثابت ہے تو بھی کچھ سزائیں دی جائیں تاکہ وہ اس قسم کی حرکتوں سے باز آئے۔ ان قوانین کو اس ذات پاک نے مقرر فرمایا ہے جو غیر معمولی علم وحکمت رکھنے والی ہے اور وہ اپنے بندوں کی فطرت وکیفیت سے سب سے زیادہ باخبر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان پر انتہائی شفقت اور رحم کرنے والی ہے، چنانچہ اس نے ان سزاؤں کو مسلمان مجرموں کے گناہوں کے لیے کفارہ قرار دیا ہے اور معاشرہ کو ان کے اور دوسروں کے شر وفتن سے محفوظ کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جو لوگ قاتل کے قتل اور چور کے ہاتھ کاٹے جانے پر اعتراض کرتے ہیں وہ دراصل اس عضو فاسد کے کاٹنے پر اعتراض کررہے ہیں جو اگر نہ کاٹا جائے تو اس کے جراثیم پورے معاشرے میں سرایت کر جائیں گے اور اس طرح پورا معاشرہ تباہ وبرباد ہوجائے گا ۔[68] جب کہ یہی لوگ دوسری طرف اپنے فاسد اغراض و مقاصد کے لیے معصوم جانوں کی ہلاکت اور ناحق ظلم وزیادتی اور خون بہانے پر داد تحسین دیتے ہیں۔

[68] مریض کے جسم کے عضو فاسد کا کاٹ دیا جانا زیادہ بہتر ہے، جس کا مطالبہ خود مریض اور اس کے اہل وعیال کرتے ہیں تاکہ پورا جسم صحیح وسالم محفوظ رہے۔

7- اسلام کی خارجی سیاست :

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیں تاکہ ان کو کفر وشرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان واسلام کے نور کی طرف لے جائیں اور دنیاوی زندگی کی مادی آلائشوں اور محرومیوں سے نجات دلاکر اس روحانی سعادت اور قلبی اطمینان وسکون سے روسناش کرائیں جس سے مسلمان حقیقی معنوں میں لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ایک مسلمان کو یہ حکم ہے کہ وہ ایک نیک اور مفید عنصر بن کر معاشرے میں رہے اور اپنے صلاح کے ذریعہ بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرے اور ساری انسانیت کو تباہی سے بچائے اور اس کی خیر خواہی اور تعاون میں کوئی کسر باقی نہ رکھے، بخلاف دوسرے انسانی نظام حیات کے، جو انسان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خود ایک اچھا شہری بن کر رہے، دوسروں کی اصلاح وفلاح اس کے ذمہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی واضح اور بین دلیل ہے کہ انسان کے خود ساختہ نظام حیات کتنے ناقص اور فاسد ہیں اور اسلام کا نظام حیات کتنا مکمل اور صالح ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پوری وسعت اور صلاحیت کو بروئے کارلائیں تاکہ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی جائے اور اللہ اور ان کے دشمنوں کو مرعوب اور خوف زدہ کیا جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غیر مسلموں سے بوقت ضرورت معاہدے کرنے کی اجازت دی ہے جو شرعی اصول وضوابط کے مطابق ہوں، اور انھیں عہد شکنی سے منع فرمایا، الّا یہ کہ دشمن ہی خود عہد شکنی کرنے لگے یا ایسی حرکات وحالات پیدا کردے جوصراحتا عہد وپیمان کے خلاف ہوں۔ مسلمانوں کو قتل وقتال کرنے سے پہلے یہ حکم ہے کہ پہلے کفار ومشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، اگر وہ اس سے انکار کردیں تو ان سے جزیہ دینے اور حکم الہی کے سامنے سرنڈر ہونے کا مطالبہ کریں [69]، اگر اس سے بھی انکار کر دیں تو کفر وشرک اور ظلم وستم کے فتنوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان سے قتال کریں [70] تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین کا بول بالا ہو۔ [69] اسلامی حکومت میں رہنے والے مسلمان باشندے حکومت کو زکاۃ دیں گے اور غیر مسلمین جزیہ دیں گے۔ جزیہ ایک متعین رقم بالغ مَردوں سے لی جاتی ہے، عورتوں، بچوں، مجنون، بڑی عمر کے افراد اور فقراء سے نہیں لی جاتی۔ جزیہ بآسانی ادا کی جانے والی رقم ہے جس کی مقدار عہد نبوی ﷺ میں ہر سال ایک دینار تھی، اور یہ مقدار اتنی کم ہے کہ کوئی بھی مالدار سال میں ایک مرتبہ بآسانی ادا کرسکتا ہے، یہ رقم اسلامی حکومت میں پر أمن زندگی گزارنے کے عوض میں ہے، اس جزیہ سے انھیں مسلمانوں کی جانب سے ان کے مال اور عزتوں کی حفاطت کی جاتی ہے، اور جب مسلمان ان کے حقوق کی ادائگی اور دشمنوں کے مقابلہ ان کی حمایت سے عاجز آجائیں تو یہ مسلمان ان سے لیے ہوئے مال کو لوٹا دیں گے۔ اگر یہ لوگ (غیر مسلمین) اسلامی حکومت کی دفاع، حمایت اور ملک کی حفاظت میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہیں تو مسلمان ان سے جزیہ نہیں لیں گے اور اسلامی حکومت مسلمانون کی مدد کی طرح ان کے فقراء و مساکین کی بھی مدد اور علاج کرے گی۔ [70] فتنہ اس وقت رونما ہوگا جب لوگوں تک اسلام کو پہنچنے سے روک دیا جائے اور اس وقت بھی فتنہ رونما ہوگا جب بغیر زور زبردستی کے لوگ آزادی کے ساتھ اسلام قبول کرنا چاہیں تو انھیں روک دیا جائے۔ اسی طرح دوران قتال مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ وہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور کنیسہ میں موجود راہبوں سے کوئی تعرض نہ کریں، الّا یہ کہ یہ لوگ کفار ومشرکین کے ساتھ کسی طرح کا تعاون کرتے ہوں، اسی طرح قیدیوں کے ساتھ بھی حسن معاملہ کا حکم ہے۔ ان تعلیمات وہدایات سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسلامی جہاد وغزوات کا مقصد لوٹ مار، یا بالادستی حاصل کرنا، یا ناجائز فائدہ اٹھانا نہیں ہے، بلکہ اس کے انتہائی عظیم الشان اور مقدس اغراض ومقاصد ہیں اور وہ ہیں دین حق کی نشر واشاعت، اور انسانیت کے ساتھ رحم وکرم اور انسانیت کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر اللہ خالق کی بندگی میں داخل کرنا۔

8- اسلام میں آزادی : (أ) مذہبی آزادی : اللہ تعالیٰ نے غیر مسلموں کو جو اسلامی حکومت کے تحت آجائیں انھیں مذہبی آزادی دے رکھی ہے، انھیں اسلامی عقائد واحکام سے روشناس کرادیاجائے اور اسلام کی دعوت دے دی جائے، اس کے بعد جس کا جی چاہے دین اسلام کو قبول کرکے دینی ونیوی سعادت وکامیابی حاصل کرے، اور جو کوئی اپنے آباء واجداد کے دین پر باقی رہ کر بدبختی اور عذاب آخرت کا مستحق ہونا چاہے تو اسے بھی پورا اختیار ہے، اور اس طرح سے اس پر حجت تمام ہوگئی، اب اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عذر پیش کرنے کا جواز نہیں ہوگا کہ اسے دعوت نہیں پہنچی۔ اس وقت مسلمان اسے سابقہ دین پر چھوڑ دیں گے اور اس کی جان ومال کی حفاظت کے عوض جزیہ وصول کریں گے، وہ اسلامی قوانین کا پابند ہوگا اور مسلمانوں کے سامنے اپنے کفر وشرکیہ شعائر کا اظہار نہ کرےگا۔

لیکن کوئی مسلمان اگر دین اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے تو اس کی سزا قتل ہے، اس لیے کہ وہ اس بھیانک جرم کے وجہ سے زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتا، ہاں اگر توبہ واستغفار کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہوگیا تو اس کی توبہ قابل قبول ہوگی۔[71]

الردۃ : اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرلینا ہے، جس نے پورے یقین کے ساتھ اسلام کو اپنایا ہو تو کوئی بھی ثقافت یا مذہب اسے اسلام سے ہٹا نہیں سکتا، کیوں کہ کوئی بھی مذہب اسلام کے کمال اور اعجاز کو پہنچ نہیں سکتا، ارتداد کے محرکات میں سے ہے: مسلم معاشرے میں فتنہ برپا کرنا اور اسے کفر کی طرف دھکیلنا یا شہوت اور اجتماعی ومادی مصالح کو حاصل کرنے کی تگ ودو کرنا، اس طرح اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرنا گویا سب سے اہم اور بڑے میثاقی ربانی سے روگردانی کرنا ہے، یہ اسی طرح کی بات ہے جو اس وقت بیشتر ممالک وطن عزیز کے ساتھ غداری کرنے والے کے حق میں سزائے موت کا فیصلہ سناتے ہیں، شریعت اسلامیہ میں مرتد پر حد نافذ کرنے کا حق صرف حاکم وقت کو ہے اور حاکم وقت قضا کے اصول وضوابط کی بنیاد پر مسلم معاشرے کے تحفظ کی خاطر مرتد پر سزا نافذ کرتا ہے۔

اگر کسی نے اسلام سے خارج کرنے والی چیزوں میں سے کسی ایک چیز کا بھی ارتکاب کرلیا تو اس کو ترک کرکے اس سے توبہ کرے اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرے۔

اسلام سے خارج کرنے والی چیزیں کئی ایک ہیں، جن میں سے مشہور ترین یہ ہیں : 1- اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور عبادت میں دوسروں کو شریک بنانا، اگرچہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کسی کو واسطہ اور شفارسی بناکر ہی کیوں نہ ہو، جسے وہ پکارے اور تقرب حاصل کرے اور شفاعت کی درخواست کرے، خواہ اس کی الوہیت کا لفظًا ومعنی اعتراف، معبود اور عبادت کے معنی جاننے کی وجہ سے کرے، جیساکہ دور جاہلیت کے مشرکین کرتے تھے،جنھوں نے اپنے سابقہ صالحین کے نام سے ایسے بُت بنا رکھے تھے جن کی شفاعت کی غرض سے عبادت کیا کرتے تھے۔ یا اعتراف نہ کرے کہ وہ معبود ہے اور اس کا یہ فعل عبادت ہے، جیساکہ آج کے نام نہاد مسلمانوں کا حال ہے، جن کو اگر عقیدہ توحید کی دعوت دی جائے تو اس کو قبول نہیں کرتے، وہ اس زعم باطل میں ہیں کہ شرک تو صرف بتوں کے سامنے سجدہ کرنے کا نام ہے، یا یہ کہ کوئی بندہ کسی غیراللہ کے بارے میں یہ کہے کہ یہ میرا معبود ہے۔ ان کا حال یا مثال اس شخص جیسی ہے جو شراب کو دوسرا نام دے کر نوش کرے، جس کی قدرے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

’’آپ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کی عبارت کرتے رہیئے،

یاد رکھو عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش بس اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں، بے شک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا جس بات میں یہ باہم اختلاف کررہے ہیں، بے شک اللہ ایسے کو راہ راست پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، ناشکرا ہو۔‘‘

[الزمر:2-3]

دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’یہی اللہ تمھارا رب ہے، اسی کی حکومت ہے، اور جنھیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمھاری پکار نہ سنیں گے، اور اگر سن بھی لیں تو تمھارا کہا نہ کر سکیں گے، اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں گے اور تجھ کو (اللہ) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا۔‘‘(14) [فاطر:13-14] 1- مشرکوں اور دیگر کفار جیسے یہودی، عیسائی، ملحد، مجوسی، اور وہ طاغوتی طاقتیں جو اللہ کے قوانین کے علاوہ سے فیصلے اور حکومتیں کرتے ہیں اور احکام الہی کی مخالفت کرتے ہیں، اور اللہ کے فیصلہ سے راضی نہیں ہوتے، تو جو شخص جاننے کے باوجود انھیں کافر نہ سمجھے وہ خود بھی کافر ہوگیا۔ 2- جس نے شرکیات پر مشتمل جادو، ٹونا خود کیا یا علم آجانے کے بعد کرنے والے کو صحیح سمجھا وہ کافر شمار ہو گا۔ 3- یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی دوسری شریعت یا نظام، اسلامی شریعت سے اکمل و افضل ہے، یا یہ کہ کسی اور کا فیصلہ آپ ﷺ کے فیصلہ سے بہتر ہے، یا غیر الہٰی قانون سے فیصلہ لینا جائز ہے۔ 4- رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھنا یا آپ کی لائی ہوئی باتوں میں سے کسی بات کو مبغوض سمجھنا ۔ 5- جانتے ہوئے اللہ کے دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا۔[72] [72] اللہ یا اس کے رسل (جیسے محمد یا موسی یا عیسی علیہم السلام) یا دین اسلام کے کسی بھی گوشے کا مذاق اڑانا۔ 6- اسلام کی فتح ونصرت اور سربلندی کو ناپسند کرنا اور اس کی شکست وکمزوری پر مسرت کا اظہار کرنا۔ 7- کفار سے دوستی اور ان کی تائید اور مسلمانوں کے خلاف یہ جانتے ہوئے بھی ان کی مدد کرنا کہ کفار سے دوستی رکھنے والا انہیں کے زمرہ میں شمار ہو گا۔ 8- یہ اعتقاد رکھنا کہ مجھے شریعت محمدیہ کے حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت ہے، حالاں کہ کسی شخص کے لیے کسی بھی مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ کی شریعت سے سرِ مو تجاوز کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

9- اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کرنا، چنانچہ جس نے جان بوجھ کر اسلام سے اعراض کیا، یعنی نہ اسے سیکھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا وہ کافر ہے۔

10- اسلام کے کسی ایسے حکم کا انکار جس پر سب کا اجماع ہو اور اس جیسے لوگوں پر وہ حکم مخفی نہ ہو۔ ان نواقض کے دلائل قرآن وسنت میں بکثرت موجود ہیں۔ (ب) فکری آزادی : اسلام نے آزادی فکر کی مکمل اجازت دی ہے بشرط یہ کہ یہ آزاد فکر اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہو، چنانچہ ایک مسلمان کو یہ حکم ہے کہ حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کرے، بلکہ اس کو بہترین جہاد کہا گیا ہے، اسی طرح اس کو حکم ہے کہ اپنے حکمرانوں کو خیرخواہی میں مشورہ دے اور اچھی باتوں کی نصیحت کرے اور بری چیزوں سے منع کرے، اور باطل کے علمبرداروں کی مخالفت کرے، ان کو اس سے باز رکھے، اور کسی کی رائے کو ملحوظ رکھنے کا یہ سب سے بہتر نظام ہے۔ رہے وہ افکار ونظریات جو اسلامی شریعت کے مخالف اور متصادم ہوں تو ان کے اظہار کی بالکل اجازت نہیں، کیوں کہ یہ سراسر فساد وتباہی اور حق کی بیخ کنی ہے۔

(ج) انفرادی آزادی : اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کے حدود کے اندر رہتے ہوئے مسلمان کو شخصی وانفرادی آزادی دے رکھی ہے، چنانچہ ایک انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے تصرفات ومعاملات میں پورا آزاد ہے اور اس حریت کی بنا پر بیع وشراء، ہبہ، وقف، عفو درگزر، نیز شریک حیات کا انتخاب کرنے اور دیگر بہت سے دینی ودنیاوی معاملات کا اختیار رکھتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا، البتہ عورت کسی ایسے مرد سے نکاح نہیں کر سکتی جو دین میں اس کے مساوی نہ ہو، تاکہ اس کے عقیدے اور شرافت کی حفاظت ہو سکے، اور یہ پابندی خود اس کی اور اس کے خاندان کی بھلائی کے لیے ہے۔ عورت کا ولی (نسب کے اعتبار سے قریب ترین شخص یا اس کا نائب) ہی اس کے عقد نکاح کے امور کا ذمہ دار ہو گا، کیوں کہ عورت خود اپنا نکاح براہ راست نہیں کرسکتی، تاکہ زانیہ عورتوں سے مشابہ نہ ہوجائے، اور اس کی شرافت اور عصمت وعفت اور حیا وشرم پر آنچ نہ آئے چنانچہ ولی، ہونے والے شوہر سے کہے گا کہ میں نے فلاں کا نکاح تم سے کر دیا اور اس کے جواب میں دو گواہوں کی موجودگی میں وہ یہ کہے گا کہ میں نے قبول کیا۔ اسلام ایک مسلمان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ شرعی حدود وقوانین کے خلاف ورزی کرے، کیوں کہ خود وہ اور ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اس لیے ان قوانین کے حدود کے اندر رہتے ہوئے معاملات وتصرفات کرے جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے باعث رحمت وسعادت بنایا ہے، جو ان پر عمل پیرا ہوا وہ ہدایت یاب اور کامیاب ہوا اور جس نے ان کی مخالفت کی وہ بدبخت وبرباد ہوا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے زنا، لواطت، خودکشی اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے کو سختی سے حرام قرار دیا ہے۔ جہاں تک ناخن ترشوانے، مونچھ کتروانے، زیر ناف حلق کرانے، بغل کے بال صاف کرنے،اور ختنہ کرانے کا تعلق ہے تو وہ اس لیے انجام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو اللہ کے دشمنوں سے ان چیزوں میں مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے جو ان کی خصوصیات کے قبیل سے ہوں، کیوں کہ ظاہری طور پر تشبہ سے باطنی طور پر تعلق اور قلبی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ ایک مسلمان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ صحیح اسلامی فکر ونظر کا منبع ہو، مستورد انسانی افکار ونظریات کا مخزن نہ ہو، اسی طرح وہ دوسروں کے لیے نیک نمونہ ہو، ان کا مقلد نہ ہو۔ اسی طرح اسلام نے مسلمانوں کو صنعتی تعمیر وترقی اور فنی ایجاد واختراع اور اعلیٰ علوم و فنون کے حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور غیر مسلموں سے بھی استفادہ کرنے اور سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں رکھا ہے، کیو ں کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا معلم حقیقی ہے۔ چناںچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

[العلق:5]

اور انسان کی انفرادی آزادی سے فائدہ اٹھانے، اس کی کرامت کو محفوظ رکھنے اور خود اس کے اور دوسروں کے شر سے بچانے میں انسان کی اصلاح اور خیر خواہی کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔

(د) رہائشی آزادی :

اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو گھر کے اندر رہنے کے وقت آزاد رکھا ہے، چنانچہ کسی دوسرے شخص کو بغیر اس کی اجازت کے گھر میں جھانکنے یا داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

(ھ) معاشی آزادی :

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تلاش معاش اور اس کے انفاق کے سلسلہ میں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے آزاد رکھا ہے، چنانچہ اسے کام کرنے، کمانے، اور محنت ومزدوری کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کرسکے، مزید برآں خیر واحسان کے راستہ میں خرچ کرے، بایں ہمہ دوسری جانب حرام کمائی جیسے سود، جوا، رشوت، چوری، جادو ٹونا کی اجرت، شراب فروشی، زنا، لواطت، جاندار کی فوٹو گرافی، آلات لہو ولعب کی کمائی اور رقص وسرود سے حاصل کردہ تمام رقومات اور مال ودولت کو حرام قرار دیا ہے، اور جس طرح ان راستوں سے کمانا حرام کیا ہے اسی طرح ان راستوں میں تعاون کرنا بھی حرام فرمایا ہے، لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف کار خیر اور جائز مصرف میں خرچ کرے۔ اور یہ انسان کے لیے کمانے اور خرچ کرنے کے معاملہ میں ہدایت وخیر خواہی اور اصلاح کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، تاکہ حلال کمائی کے ذریعہ وہ مالدار ہو کر خوش حال زندگی گزار سکے۔

[73] ذی روح کی تصاویر چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا کسی لکڑی وغیرہ پر کرید کر بنائی گئی ہوں یا مٹی وغیرہ سے بنائی گئی ہوں یہ تمام شکلیں تصویر بنانے والے کے وعید میں داخل ہوتی ہیں۔

9- اسلام کا عائلی نظام :

اللہ تعالیٰ نے اسلامی شریعت میں خاندانی نظام کو غیر معمولی خوبیوں کے ساتھ مرتب و منظم فرمادیا ہے، اور وہ ایسا جیامع اور مکمل ہے جس پر عمل پیرا ہونے والوں کو ہر طرح کی راحت اور سعادت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ اس کے مندرجہ ذیل اصول وامور ہیں:(الف) والدین کے حقوق : اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان مرد و عورت پر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت واطاعت ضروری قرار دیا ہے، تاکہ وہ ان سے راضی اور خوش رہیں، کیوں کہ ان کی خوشنودی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ اسی طرح والدین سے دور رہنے والے کے لیے ان کی برابر زیارت کرنا، ان کی خدمت کرنا، اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نان ونفقہ پورا کرنا اور رہائش فراہم کرنا ضروری قرار دیا ہے، اور ایسا کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب وعقاب کا مستحق بتایا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے اور ان کی خدمت اور ضروریات کی فراہمی میں کوتاہی برتے ہیں۔ (ج) زوجین کے حقوق : اللہ تعالیٰ نے نکاح مشروع فرمایا ہے اور اس کی حکمت خود قرآن کریم میں اور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے بیان اور واضح فرمائی ہے،

***

نکاح کی مشروعیت کی حکمت :

1- نکاح سے عفت اور عصمت کی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ حرام کاری اور بدفعلی (زنا، لواطت) سے محفوظ رہتا ہے۔ اوربدنگاہی سے انسان محفوط رہتا ہے۔

2- نکاح کے بعد مرد وعورت دونوں کو سکون واطمینان حاصل ہوتاہے، کیوں کہ اللہ تعالی نے زوجین کے درمیان الفت ومحبت رکھی ہے۔

3- مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ 4- زوجین میں سے ہرایک دوسرے کے کام آتا ہے،جب کہ ہرایک اللہ تعالی کے مقررکردہ نظام کو فالو کرتا ہے جو ہرایک کے طبیعت کے موافق ہے۔ چنانچہ مرد خارجی اعمال اور کسب معاش کا ذمہ دار ہوتا ہے اور عورت داخلی امور اور حمل ولادت، بچوں کی رضاعت، تربیت، صفائی ستھرائی، کھانا پکانے وغیرہ جیسے امور کی ذمہ دار ہوتی ہے۔اور جب شوہر تھکا ماندہ گھر میں داخل ہو تا ہے تو بیوی اس کے لیے اسباب راحت اور طمانینت فراہم کرتی ہے اور وہ اپنے اہل وعیال سے مسرت واطمینان محسوس کرتا ہے اور ساری تکان اور ہموم وغموم بھول جاتا ہے اور اس طرح وہ گھرانہ مسرور ومطمئن نظر آتا ہے۔ اگر کوئی موزوں اور مناسب موقع ومحل ہو تو عورت کے لیے کام کرنا، اورعورت کا گھریلو اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹانا جائز ہے لیکن اس کے لیے چند شرطیں ہیں : اول : عورت کی جائے عمل مردوں سے الگ تھلگ ہو، اس طور پر کہ باہمی اختلاط نہ پایا جائے، جیسے اپنے گھر کے اندر یا اپنے کسی باغ یا شوہر کے کسی فارم وغیرہ میں جہاں بالکل اختلاط نہ ہو، اور جہاں اختلاط ہو جیسے کارخانے، دکانیں، دفاتر، تو ایسی جگہوں پر قطعًا اسے کام کرنے کی اجازت نہیں اور نہ اس کے شوہر یا بھائی اور والدین اور رشتہ داروں کو حق ہے کہ اس کی اجازت دیں، کیوں کہ یہ خود فتنے میں پڑنے اور دوسروں کو اس میں مبتلا کرنے اور پورے معاشرے میں فساد برپا کرنے کے مترادف ہے۔

عورت جب تک اپنے گھر میں محفوظ اور پردہ نشیں اور امن وامان میں رہتی ہے، اس وقت تک بدبخت دست درازی نہیں کرپاتے اور گنہگار اشخاص بدنگاہی نہیں کرسکتے، لیکن اس کے برعکس جب عورت لوگوں کے درمیان نکل پڑتی ہے تو اپنا قیمتی سرمایہ عفت وعصمت کھو بیٹھتی ہے اور اس بکری کی طرح ہوجاتی ہے جو درندوں کے درمیان پھنس جائے، پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کی شرافت اور کرامت کے تانے بانے تار تار ہوجاتے ہیں اور وہ بدبخت افراد اس کی عزت وآبرو کو خاک میں ملادیتے ہیں۔

تعدد زوجات : اسلام نے تعدد زوجات کی اجازت دی ہے، اگر کوئی شخص ایک عورت پر اکتفا نہ کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو چار شادیوں تک کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، بشرط یہ کہ ان کے مابین نان ونفقہ، رہائش، اور شب گزاری میں عدل وانصاف سے کام لے، اور جہاں تک قلبی محبت اور لگاؤ کا تعلق ہے تو اس میں عدل شرط نہیں ہے کیوں کہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں، وہ اس میں معذور ہے، اور اس عدل پر قدرت رکھنے کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد گرامی میں نفی فرمائی ہے : ’’اور تم سے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تم بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کرو خواہ تم اس کی (کیسی ہی) خواہش رکھتے ہو۔‘‘

[النساء:129]

وہ عدل محبت اور اس کے لوازمات ہیں، جس میں عدل کا عدم حصول قابل مذمت نہیں ہے، جو تعدد زوجات کے لیے ضروری ہے کیوں کہ انسان اس پر قادر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کے لیے تعدد زوجات کو مشروع فرمایا تھا اور یہ مشروعیت ہر اس شخص کے لیے ہے جو عدل بین الزوجات کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کے مصالح اور ان کے مزاج ومذاق سے سب سے زیادہ واقف ہے اور ان کے حسب حال احکام نازل فرماتا ہے، چناںچہ ایک باصحت اور سلیم الفطرت شخص اتنی جنسی طاقت وصلاحیت رکھتا ہے کہ وہ چار عورتوں کو بیک وقت رکھ سکے اور ان کو عفت وعصمت سے ہم کنار کرسکے، اگر عیسائیوں [74] کے مذہب کے مطابق ایک بیوی تک ازدواجی زندگی کو محدود ومحصور کردیا جائے جس کا بعض نام نہاد مسلمان بھی نعرہ بلند کر رہے ہیں تو اس سے مندرجہ ذیل مفاسد رونما ہوں گے :

[74] حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں تعدد زوجات منع نہیں تھا، یہ بعد کے عیسائیوں کا خود ساختہ قانون ہے۔

اول : اگر کوئی شخص مومن صادق اور متقی وپرہیزگار ہو تو اس قانون اور پابندی کی وجہ سے اپنے آپ کو قدرے مایوس اور محروم تصور کرے گا اور اپنی جائز خواہشات کو دبانے اور ختم کرنے پر مجبور ہوگا، کیوں کہ ایک بیوی اپنی نسوانیت کی وجہ سے مختلف حالات سے دوچار ہوتی ہے جیسے حمل، حیض ونفاس اور مرض وغیرہ، جس میں شوہر جنسی تعلقات قائم نہیں رکھ سکتا، تو اس دوران وہ اپنے کو علیحدہ اور بغیر بیوی کے تصور کرسکتا ہے، یہ اس صورت میں ہے جب کہ بیوی اسے پسند ہو اور دونوں کے درمیان محبت والفت قائم ہو، لیکن اگر اسے اپنی بیوی سے زیادہ محبت ولگاؤ نہ ہو تو ان ایام میں مزید تشویش اور ذہنی انتشار وتناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔

دوم : اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور خائن ہو تو ان حالات میں یقینًا خیانت کرے گا اور بیوی کو نظر انداز کرتے ہوئے زناکاری کے بھیانک گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے گا، بہت سے وہ لوگ جو تعدد زوجات پر لمبے چوڑے اعتراضات کرتے ہیں اور عورتوں کے حقوق کے علمبردار نظر آتے ہیں، وہ اپنی ذاتی زندگی میں زناکاری و فحاشی کے غیر محدود جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ تعدد زوجات کی مخالفت کرنے والا اور اس کی مشروعیت کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے اسے مباح کیا ہے نکتہ چینی کرنے والا کافر شمار ہو گا۔

سوم : تعدد زوجات کی ممانعت سے معاشرہ کی بے شمار عورتیں ازدواجی زندگی اور اہل وعیال کی نعمت سے محروم ہوجائیں گی، چنانچہ ایک عفت پسند اور پاکیزہ خاتون مسکین اور بیوہ ہوکر زندگی بسر کرے گی، جب کہ دوسری طرف فسق وفجور کی دلدادہ دوشیزہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ داد عیش دے گی۔

سبھی لوگ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا کے ہر دور میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ رہی ہے، کیوں کہ مرد ہی جنگوں میں کام آتے ہیں اور تلاش معاش میں مختلف خطرات سے دوچار ہوکر موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں، اسی طرح سب لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ عورت بالغ ہونے کے فورًا بعد شادی کے قابل ہوجاتی ہے، لیکن بہت سے مرد بالغ ہونے کے فورًا بعد ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں کے سنبھالنے کی لیاقت واستطاعت نہیں رکھتے، کیوں کہ ان کے ذمہ مہر اور بیوی کے اخراجات ہوتے ہیں۔

ان مذکورہ وجوہات سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ انصاف اور رحم کیا ہے۔ جو لوگ جائز تعدد زوجات کی مخالفت کرتے ہیں وہ در حقیقت عورتوں کے، انبیاء کرام کی سنت کے اور شرف وفضیلت کے دشمن ہیں، کیوں کہ انبیاء کرام نے بھی متعدد شادیاں کی ہیں اور شرعی حدود کے اندر تعدد زوجات کو اپنایا ہے۔

رہی غم اور غیرت کی بات جو دوسری بیوی کے آنے کی صورت میں پہلی بیوی محسوس کرتی ہے تو یہ ایک جذباتی بات ہے، اسے ایک شرعی حکم پر مقدم نہیں کیا جاسکتا، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ عورت شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر سے یہ شرط لگا لے کہ اس کے ہوتے ہوئے وہ دوسری شادی نہیں کرے گا، اور اس شرط کو قبول کرلینے کے بعد شوہر کو اس کی پابندی کرنی ہوگی، لیکن اس کے باوجود اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہے تو پہلی بیوی کو یہ اختیار ہوگا کہ چاہے تو اس کی زوجیت میں رہے اور چاہے تو نکاح فسخ کرالے، اور ایس صورت میں بیوی کو دی ہوئی کسی بھی چیز کے واپس لینے کا کوئی حق شوہر کو نہیں ہوگا۔

طلاق کی اجازت : اللہ تعالیٰ نے طلاق کی اجازت دی ہے، اور اس کی مشروعیت اور جواز ان ناگزیر حالات میں ہے جب زوجین کے مابین اختلاف شدید ہوجائے، اور مزاج میں کوئی مناسبت نہ پائی جائے اور الفت ومحبت ختم ہوجائے اور باہمی نباہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، چنانچہ ان ناگفتہ بہ حالات میں دونوں کو بدبختی سے بچانے کے لیے اسلام نے یہ اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ زوجین خوش اسلوبی سے الگ ہوجائیں اور پھر نئے سرے سے کسی شریک حیات کا انتخاب کرکے دنیا کی بقیہ زندگی خوشگوار گزار سکیں،اور دونوں کا اگر اسلام پر خاتمہ ہوا تو آخرت کی زندگی میں بھی سعادت سے ہمکنار ہوں۔ [75]

[75] نیک اورمسلمان عورت(جن کی شادی نہ ہوسکی یااسے طلاق دے دی گئی) کو جب اللہ بعث اورحساب وکتاب کے بعد جنت میں داخل کرے گا تو اسے مسلمان جنتی مردوں سے شادی کرنے اور ان کے انتخاب کا اختیار دے دے گا تو وہ جس سے چاہے گی شادی کرے گی، اور وہ عورت جس کے دنیا میں یکے بعد دیگرے متعدد شوہر رہے ہوں تو ان میں سے اس کا دنیا میں سب سے محبوب شوہر جنت میں اس کا شوہر ہوگا، بشرط یہ کہ وہ جنتی ہو۔

10- اسلام کا نظام حفظان صحت :

اسلامی شریعت نے تمام زریں طبی اصول وضوابط بتادئے ہیں، چنانچہ قرآن کریم نے اور نبی کریم ﷺ نے بہت سی احادیث میں نفسیاتی اور جسمانی امراض کی تشخیص اور اس کے مادی اور روحانی علاج کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں۔‘‘

[الإسراء:82]

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

’’اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل فرماتا ہے، تو کچھ لوگ اس کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ اس سے ناواقف رہتے ہیں‘‘۔[76]

[76]أحمد (1 / 377، 413، 453)،ابن ماجه (2 / 340)،ابن حبان (1394)،حاكم (4 / 196)، اور امام الألباني نے السلسلة الصحيحة میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے (451)

رسول اللہ ﷺ ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں :

’’اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کیا کرو، اور خبردار! حرام چیزوں سے علاج نہ کیا کرو‘‘۔[77]

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’زاد المعاد فی ھدی خیر العباد‘‘ میں طب نبوی کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے، کیوں کہ اسلام اور خاتم المرسلین محمد ﷺ کی سیرت کے بیان میں یہ جامع ترین، صحیح اور مفید ترین کتابوں میں سے ہے۔

[77]أبو داود (3874)، اور امام الألباني نےصحيح الجامع میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے (1762)

11-معیشت ،تجارت،صنعت اور زراعت: اور لوگوں کو جن چیزوں کی حاجت ہے جیسے پانی،خوراک ، عوامی افادیت اوروہ تنظیم جو ان کو اپنے شہروں اور دیہاتوں کی بحالی،ان کی صفائی ستھرائی ،ان میں ٹریفک کے ضوابط کی ضمانت ، دھوکہ دہی اور جھوٹ کے خلاف جنگ ، وغیرہ سے متعلق ہے ان سب کا تفصیلی بیان اسلام میں موجود ہے۔

12- پوشیدہ دشمن اور ان سے حفاظت کا طریقہ : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوں کے دشمنوں کی نشاندہی کردی ہے جو ان کے دینی ودنیوی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں جب وہ ان دشمنوں کی پیروی کرنے لگے، چنانچہ ان سے بچنے اور ان کے شر وفتن سے محفوظ رہنے کا طریقہ بیان فرما دیا ہے اور وہ دشمن یہ ہیں :

دشمن اول : شیطان لعین ہے، جودوسرے سارے دشمنوں کو انسان کے خلاف اکساتا اور بھڑکاتا ہے اور اسی نے ہمارے ماں باپ حضرت آدم وحوا کو جنت سے نکلوایا اور قیامت تک ان کی ذریت کا دائمی دشمن ہوگیا، یہ پوری جانفشانی سے یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان کو بہکا کر کفر وشرک میں مبتلا کردے تاکہ نعوذ باللہ وہ اس کے ساتھ جہنم میں جائیں، اور جو شخص اس کے کفر وشرک میں نہیں پھنستا تو اسے گناہوں اور برائیوں کے دلدل میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب وعقاب سے دوچار ہو،

شیطان رجیم ایسی مخلوق ہے جو انسان کے رگ وپے میں دوڑتا اور اثر انداز ہوتا ہے، اس کے سینے میں وسوسہ ڈالتا ہے اور برائیوں کی ملمع سازی کرکے خوشنما انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان دھوکہ کھا بیٹھے، شیطان کے کید ومکر سے بچنے اور محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے، کہ جب کوئی مسلمان غصہ میں آئے یا کسی گناہ کا ارادہ کرے تو ’’أعوذُ باللہِ مِنَ الشیطانِ الرَّجیم‘‘ (میں شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) کہے اور غصہ پر عمل اور گناہ کا ارتکاب نہ کرے، اور یہ سمجھے کہ اس گناہ پر آمادہ کرنے والا اس کا ازلی دشمن شیطان رجیم ہے جو اس کی ہلاکت کے درپے ہے، پھر اس سے اپنی براءت ونفرت کا اظہار کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’بے شک یہ شیطان تمھارا دشمن ہے، سو تم اسے دشمن ہی سمجھتے رہو، وہ تو اپنے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہو جائیں۔‘‘

[فاطر:6]

دشمن دوم : نفسانی خواہشات ہیں، اور انہیں میں سے وہ ہےجس کی بناپر انسان حق کا انکار اور اس کو مسترد کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، اور اپنی خواہشات نفسانی کے خلاف احکام الہٰی اور شریعت اسلامیہ کو بھی مسترد کردیتا ہے، جذبات کو حق وانصاف پر ترجیح دینا بھی نفسانی خواہشات میں سے ہے۔ چنانچہ اس دشمن سے حفاظت اور نجات کا طریقہ یہ ہے کہ اتباع نفس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے، اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرے، بلکہ حق اور ہدایت کو قبول کرے اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو، اگر چہ اس میں تلخی اور دشواری محسوس کرے، نیز شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔

دشمن سوم : نفس امارہ ہے جو انسان کو ہمیشہ برائیوں پر اکساتا اور آمادہ کرتا ہے۔ کبھی کبھی انسان اپنے دل میں جو ناجائز خواہشات پاتا ہے، مثلاََ زناکاری یا شراب نوشی یا بلا عذر رمضان کا روزہ نہ رکھنے یا اس جیسے دیگر گناہوں کی خواہش جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے یہ سب اسی نفس امارہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ اس چھپے ہوئے دشمن کے مکر وفریب سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس اور شیطان کے شر وفتن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور ان حرام کردہ شہوانی چیزوں کے ارتکاب سے پرہیز کرے اور رضائے الہی کے پیش نظر ان گناہوں سے مکمل اعراض کرے، جس طرح خواہش کے باوجود نقصان دہ چیزوں کے کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے، اور یہ ذہن میں رکھے کہ یہ ناجائز خواہشات عنقریب فنا ہو جائیں گی اور اس کے بعد حسرت اور مستقل ندامت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ادشمن چہارم :انسانی شیطان، اور یہ وہ گنہگار لوگ ہیں جو شیطان رجیم کے آلۂ کار اور اس کے مدد گار ہیں، جو گناہوں کے پیروکار ہیں اور اپنے ہم نشینوں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں، چنانچہ ان کی مجلس سے دور اوران سے متنبہ رہ کر شر وفتن سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

13- مسلمان کا مقصد حیات : وہ اعلیٰ اور عظیم الشان اغراض ومقاصد جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو پیدا فرمایا ہے وہ دنیا کی زوال پذیر زیب وزینت اور اس میں عیش وعشرت نہیں، بلکہ اس حقیقی اور ہمیشہ ہمیش باقی اور قائم ودائم رہنے والے مستقبل کی تیاری ہے جو مرنے کے بعد نصیب ہوگا جسے ہم آخرت کی زندگی کہتے ہیں۔ چنانچہ ایک سچا وپکا مسلمان دنیوی زندگی کو اخروی زندگی تک پہنچنے کا وسیلہ اور اس کی کھیتی تصور کرتا ہے اور اس کو بذات خود مقصود حقیقی نہیں سمجھتا،

وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کو پیش نظر رکھتا ہے :

’’ہم نے جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘

[الذاريات:56]

مزید ارشادِ ربانی ہے :

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ کو تمھارے اعمال کی پوری خبر ہے۔‘‘

’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے اللہ کو بھلا دیا، سو اللہ نے خود ان کی جانوں کو ان سے بھلادیا، یہی لوگ تو نافرمان ہیں۔‘‘

’’اہل دوزخ اور اہل جنت برابر نہیں ہو سکتے، اہل جنت تو کامیاب لوگ ہیں۔‘‘

[الحشر:18-20]

دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے :

’’سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘‘

’’اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا۔‘‘

[الزلزلة:7-8].

مومن صاق ان جیسی تمام آیتوں میں غور وفکر کرتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے اغراض ومقاصد بیان فرمائے ہیں اور اس کے حقیقی مستقبل اور اصلی ٹھکانے کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کے منتظر ہیں، چنانچہ مرد مومن اس حقیقی مستقبل کی تیاری میں اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی مرضیات پر چلنے میں مصروف ہوجاتا ہے تاکہ دنیا میں رضائے الہی اور آخرت میں جنت کا مستحق ہو، چناںچہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں اطمینان بخش زندگی نصیب کرتا ہے، وہ اللہ کی حفاظت میں رہتا اور اللہ کے نور سے دیکھتا اور اس کی عبادات ومناجات سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اللہ ذکر سے اپنے دل ودماغ کو تقویت بخشتا ہے،

اور قول وفعل کے ذریعہ لوگوں کے ساتھ احسان وبھلائی کرتا ہے تو لوگوں کی نیک تمناؤں اور دلی دعاؤں سے مشرف ہوتا ہے جس سے اس کو مزید خوشی اور انشراح قلب حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف بعض لوگوں کی جانب سے احسان فراموشی دیکھتا ہے تو بھی وہ اپنی کرم فرمائی سے باز نہیں آتا، کیوں کہ اس کا مقصد رضائے الہی اور اجر وثواب کا حصول ہوتا ہے، اسی طرح بعض اسلام دشمنوں کو دیکھتا کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کے درپئے آزار ہیں تو اسے انبیاء کرام کی سنت تصور کرتا ہے اور اسلام سے محبت اور سنت وشریعت پر استقامت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے،

اسی طرح مرد مومن کسب حلال کے لیے محنت ومشقت کرتا ہے، چنانچہ وہ دفتر یا دکان یا کارخانے یا کھیتی باڑی میں پوری محنت اور یکسوئی سے کام کرتا ہے تاکہ اپنے انتاج سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے، اور قیامت کے دن اپنے اخلاص اور نیک نیتی پر اجر وثواب کا مستحق ہو، اور اس سے اپنے اہل وعیال کی کفالت کرے اور فقراء ومساکین پر خیرات وصدقات کرے اور اس طرح سے شریفانہ اور قناعت و بے نیازی کی زندگی گزارے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قوی اور کام کرنے والا مومن زیادہ پسندیدہ ہے۔ اسی طرح وہ فضول خرچی کئے بغیر کھاتا، پیتا اور سوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت حاصل کرے،

وہ اپنی بیوی سے ملتا ہے تاکہ اسے اور اپنے آپ کو بھی محرمات سے محفوظ رکھے اور ایسی اولاد پیدا کرے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کریں، اور اور اس کی حیات اور مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کریں اور اس کے لیے صدقہ جاریہ ہوں، اور امت محمدیہ میں اضافہ ہو، اور اس طرح وہ عند اللہ اجر وثواب کا سزاوار ہو۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے اور اس سے عبادت میں تقویت حاصل کرتا ہے اور اسے صرف اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تصور کرتا ہے، جس پر اس کو مزید نعمت دی جاتی ہے اور اجر وثواب سے ہم کنار ہوتا ہے۔ دوسری طرف جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے جیسے فقر وفاقہ، خوف ومرض وغیرہ، تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی آزمائش سمجھتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ قضا وقدر پر اس کے صبر ورضا کی صلاحیت دیکھ لے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے باخبر ہے۔ [78] چنانچہ مرد مومن صبر کرتا ہے اور رضائے الہی کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتا ہے، تاکہ اس اجر وثواب کا مستحق ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے رکھا ہے اور اس طرح سے مصیبت اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے اور اس کو وہ بڑی خندہ پیشانی سے جھیل جاتا ہے جس طرح کوئی مریض تلخ دوا شفاء کے حصول کے پیش نظر نوش کرلیتا ہے۔

[78] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امر ونہی کے ذریعہ مکلف کرتا ہے حالاں وہ جانتا ہے کون اطاعت گزار ہے اور کون گنہگار ہے، تاکہ یہ علم ظاہر ہو جائے اور ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے اور گنہگار یہ نہ کہے کہ اللہ نے بغیر گناہ کیے مجھ کو سزا دے کر ظلم کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔[فصلت:46]

اگر کوئی مرد مومن اپنی زندگی کو اس نہج پر ڈھال لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنے قول وفعل سے واضح فرمایا ہے تو وہ ’’حیات سعیدہ‘‘ سے مشرف ہوجائے گا جسے کوئی تلخی مکدر نہیں کرسکے گی اور نہ موت ہی اس سے منقطع کرے گی اور یقینًا وہ سعادت دارین سے ہم کنار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’یہ عالم آخرت تو ہم انھیں لوگوں کے لیے خاص کردیتے ہیں جو زمین پر نہ بڑا بننا چاہتے ہیں نہ فساد کرنا اور انجام (نیک) تو متقیوں ہی کا (حصہ) ہے۔‘‘

[القصص:83]

اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا :

’’نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا مرد ہو یا عورت بشرط یہ کہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم انھیں ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ضرور اجر دیں گے۔‘‘

[النحل:97]

آیت کریمہ کی تشریح : اس آیت کریمہ میں اور اس جیسی تمام آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ انسان صالح کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ان تمام اعمال صالحہ پر بہترین صلہ اور اجر وثواب دے گا جو اس کی مرضیات کے حصول کے لیے کیا جائے، اور یہ صلہ اللہ تعالیٰ دنیا میں باسعادت زندگی عطا کر کے دے دیتا ہے اور آخرت میں جنت کی نعمتوں سے جو کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہیں، ان سے سرفراز فرمائے گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

’’مومن کا معاملہ عجیب وغریب طور پر خیر ہی خیر ہے، اگر اسے خوش کن بات پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے‘‘۔[79]

[79]مسلم (2999)،أحمد (332/4)،دارمي (2777).

مذکورہ تفصیلات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو فکر سلیم کا علمبردار اور اچھے اور برے کا سچا معیار ہے، اور وہ مکمل اور معتدل دستور حیات ہے، اور اس کے علاوہ تمام سیاسی ومعاشی ومعاشرتی اور تربیتی نظام حیات ناقص اور ناکام ہیں، اور ان تمام نظاموں کو اسلامی کسوٹی پر پرکھنا اور اس کی روشنی میں ان کی تصحیح کرنا چاہیے اور سارے اصول وضوابط اور دستور وضع کرنے اور اختیار کرنے سے پہلے ان کا سرچشمہ اسلام کو بنانا چاہیے، اس کے بغیر اس دستور کی کامیابی ناممکن اور محال ہے، بلکہ اپنانے والوں کے لیے دنیا وآخرت کی بدبختی کا سبب بھی ہے۔

***

پانچویں فصل: بعض شبہات کا ازالہ :

[1] اسلام کو نقصان پہنچانے والے لوگ دو قسم کے ہیں :

پہلی قسم : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلامی برادری میں شامل ہونے کے دعوے دار ہیں، لیکن اپنے اقوال واعمال سے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اور ایسی بد اعمالیوں کے شکار ہیں جن کا اسلام سے ادنیٰ بھی رشتہ نہیں، صحیح معنوں میں یہ ہرگز اسلام کے نمائندے نہیں ہیں اور نہ اسلام کی طرف ان کا انتساب درست ہے، اور ان کی بھی چند قسمیں ہیں :

(أ) فساد عقیدہ کے شکار : وہ لوگ جو عقیدہ میں فساد کی وجہ سے قبروں کا طواف کرتے ہیں اور صاحب قبر سے حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں اور ان کے نفع ونقصان پہنچانے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔[80]

[80] اورجیسے خوارج جو بے گناہوں کو اسلام کے نام پر قتل کرتے ہیں، حالانکہ عام طور پر یہ اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔

(ب) بد اعمالی اور بددینی کے شکار :

یہ فرائض اور واجبات کو چھوڑتے ہیں اور محرمات اور ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہوئے شراب نوشی، زناکاری، وغیرہ کرتے ہیں، اور دشمنان اسلام سے محبت وقربت رکھتے ہیں اور ان سے مشابہت اختیار کرتے ہیں۔

(ج) اعمال میں کوتاہی کے شکار : وہ لوگ جن کے عقائد کمزور ہیں اور اسلامی تعلیمات پر وہ پوری طرح عمل پیرا نہیں ہیں اور بعض واجبات کی بجا آوری میں کوتاہی کرتے ہیں، لیکن مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتے، اسی طرح بعض ایسے محرمات کے مرتکب ہوجاتے ہیں جو کفر وشرک تک نہیں پہنچاتے، اور بعض بری عادتوں کے شکار ہوتے ہیں جنھیں اسلام نے حرام اور کبیرہ گناہ قرار دیا ہے، مثلََا دھوکہ دہی، وعدہ خلافی،حقد وحسد وغیرہ، تو ایسے لوگ اسلام کو ارادی اور غیر ارادی طور پر نقصان پہنچارہے ہیں، کیوں کہ اسلامی تعلیمات سے ناواقف غیر مسلم یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ان برائیوں کی اجازت دیتا ہے۔

دوسری قسم : یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام سے کسی طرح کا تعلق اور رشتہ نہیں رکھتے بلکہ اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور اس سے غیر معمولی حقد وحسد رکھتے ہیں اور اس کو نقصان پہنچانے کے ہمہ وقت درپے ہیں۔ چنانچہ یہ مستشرقین اور عیسائی مشنریاں، اور یہودی تنظیمیں اور اسی قسم کے دوسرے لوگ ہیں۔ جو اسلام کے تیزی سے پھیلنے اور اس کی جامعیت اور دین فطرت [81] ہونے کی وجہ اس کے ساتھ غیر معمولی حقد وحسد رکھتے ہیں۔چنانچہ غیر مسلم شخص ذہنی انتشار واضطراب میں رہتا ہے اور اپنے آبائی دین ومذہب سے غیر مطمئن رہتا ہے، کیوں کہ وہ غیر فطری دین کو اپنائے ہوئے ہے اور فطرتِ سلیمہ سے ہٹ کر زندگی گزار رہا ہے، بخلاف مسلمان کے کہ وہ اپنے دین ومذہب سے راضی ہو کر مسرور ومطمئن زندگی گزارتا ہے، کیوں وہ اللہ کے مشروع کردہ دینِ حق کو اپنائے ہوئے ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسی لیے ہر یہودی اور عیسائی بلکہ کوئی بھی باطل دین اختیار کرنے والے ہر شخص سے ہم کہتے ہیں کہ تمھارے بچے تو فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتے ہیں مگر کفر پر غلط تربیت کر کے تم انھیں اسلام سے نکال کر باطل دین پر لگا دیتے ہو۔

[81] رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں‘‘بخاري (1292) اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہر بچہ دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے جس پر فطری طور پر ایمان رکھتا ہے، اگر اسے فطرت سلیمہ پر چھوڑدیا جائے تو اسلام کو بغیر تردد قبول کرے گا، لیکن غلط تربیت اور برے ماحول کی وجہ سے وہ یہودیت یا نصرانیت یا مجوسیت یا اور کوئی باطل دین قبول کرلیتا ہے۔

حسد اور کینہ کپٹ سے بھرپورمستشرقین اور مشنریوں نے جان بوجھ کر اسلام او پیغمبر اسلام محمد ﷺ پر افترا پردازی کی،

1-کبھی تو آپ کی رسالت کی تکذیب کرتے ہیں،

2- اور کبھی آپ پر کیچڑ اچھالتے ہیں، حالاں کہ آپ ﷺ کی ذات اللہ تعالی کی جانب سے تمام جسمانی واخلاقی عیبوں سے پاک وصاف ہے ۔

3-اسلام کے بعض احکام کی شبیہ مسخ کرکے، حالاں کہ وہ منصفانہ ہیں اور انہیں سب کچھ جاننے والےاورحکمت والےاللہ نےمشروع کیا ہے،اور اس سے ان کا مقصد لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنا ہے.

لیکن بایں ہمہ اللہ تعالیٰ ان کی سازشوں کو ناکام بنادیتا ہے، کیوں کہ وہ حق کا مقابلہ کرتے ہیں،اور حق کی شان سربلندی ہے، مغلوب ہونا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھادیں حالاں کہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا، گو کافروں کو (کیسا ہی) گراں گزرے۔‘‘

’’وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کردے، گو مشرکوں کو (کیسا ہی) گراں گزرے۔‘‘

[الصف:8-9]

[2] اسلام کے مصادر :

جب کوئی شخص دینِ اسلام کی حقیقت کی صحیح معنوں میں معرفت حاصل کرنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اسلام کے سب سے اول سرچشمہ ’’قرآن کریم‘‘ کا مطالعہ کرے، پھر رسول اللہ ﷺ کی احادیث صحیحہ کو جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد بن حنبل، سنن ابو داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور سنن دارمی وغیرہ میں مروی ہیں، پڑھے۔

اسی طرح سیرت ابن ہشام، تفسیر ابن کثیر، نیز امام ابن قیم کی کتاب ’’زاد المعاد في هدي خير العباد‘‘ کا مطالعہ کرے، اس کے علاوہ ائمہ دعوت وتوحید مثلََا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی کتابیں پڑھے، وہی امام محمد بن عبد الوہاب جن کے ذریعہ سے اور امیر الموحدین محمد بن سعود کے تعاون سے بارہویں صدی ہجری میں اللہ تعالیٰ نے پورے جزیرہ عرب میں اور دیگر علاقوں میں بھی توحید پھیلائی اور شرک وبدعت کا قلع قمع کیا، اور بحمد اللہ آج تک اس کے اچھے اثرات پائے جاتے ہیں۔

مستشرقین اور بہت سی نام نہاد اسلامی جماعتوں کی وہ کتابیں جو اسلامی تعلیمات کی مخالفت کرتی ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سلف صالحین کو سب وشتم کرتی ہیں یا ائمہ دعوت و توحید مثلََا علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم اور امام محمد بن عبد الوہاب کے خلاف افتراپردازی کرتی ہیں، اور ان کی شان میں مختلف شکوک وشبہات پیدا کرتی ہیں، تو ان کتابوں سے پرہیز کرنا چاہیئے کیوں کہ وہ گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں۔

[3] اسلامی مذاہب :

سارے مسلمانوں کا مذہب ایک ہے، اور وہ ہے مذہب اسلام، جس کا سرچشمہ قرآن کریم اور سنت مطہرہ ہے، اور جو فقہی مذاہب مشہور ہیں جیسے حنبلی، مالکی، شافعی اور حنفی، تو یہ فقہی مدارس ہیں جن کی ان ائمہ کرام نے اپنے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی تھی، اور ان تمام فقہی مدارس کا مرجع قرآن اور حدیث ہے ،اور ان میں جو تھوڑے سے اختلافات پائے جاتے ہیں وہ صرف بعض فروعی مسائل میں ہیں، اورخود ائمہ کرام نے اپنےشاگردوں کو تعلیم دی تھی کہ جو قول قرآن وسنت کے دلائل کے موافق ہو روشنی میں ہے اسے لے لیا جائے،اگرچہ اس کا قائل ان کے علاوہ کوئی اور کیوں نہ ہو۔

مسلمان ان مذاہب میں سے کسی بھی مذہب کا پابند نہیں، بلکہ قرآن وسنت کی اتباع اس کے لیے واجب اور ضروری ہے، اور جو لوگ ان مذاہب کی طرف اپنے کو منسوب کرتے ہوئے عقیدہ میں کج روی رکھتے ہیں اور درگاہوں وغیرہ کا طواف اور آستانوں کی زیارت کرتے اور ان سے مرادیں پوری کراتے ہیں اور باری تعالیٰ کی صفات میں تاویل کرتے اور ظاہری معنی سے ہٹ کر دوسرے معنی مراد لیتے ہیں تو یہ حضرات ائمہ کرام کے عقیدہ کی مخالفت کرتے ہیں، کیوں کہ ائمہ کرام کا عقیدہ وہی سلف صالحین کا عقیدہ تھا جس کی تفصیلات فرقہ ناجیہ کے ضمن میں گزر چکی ہیں۔

[4] اسلام سے خارج فرقے :

عالم اسلام میں کچھ ایسے فرقے نمودار ہوئے ہیں جو اپنے باطل عقائد اور گمراہ کن نظریات کی وجہ سے اسلا م سے خارج ہیں، یہ فرقے اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب تو کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ اسلام سے خارج ہیں، کیوں کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں،یہ اللہ،اس کی آیتوں اور توحید کے منکر ہیں۔ ان میں سے بعض فرقے یہ ہیں :

1- باطنی فرقہ :

یہ فرقہ حلول اور تناسخ ارواح کا قائل ہے، نیز یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نصوص شرعیہ کا ایک ظاہری اور دوسرا باطنی معنی ہوتا ہے، ظاہری معنی وہ ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول وفعل سے واضح فرمادیا ہے اور سارے مسلمانوں نے اس پر اجماع کرلیا ہے، اور باطنی معنی اس کے برعکس ہے جس کی تحدید وتعیین اپنی خواہشات کے مطابق وہ خود کرتے ہیں۔ [82] فرقہ باطنیہ کی ابتدا اس طور پر ہوئی کہ جب اسلامی دعوت اپنے عروج پر پہنچی اور اسلام ایک طاقت بن کر ابھرا تو یہودیوں اور مجوسیوں اور بلاد فارس کے فلاسفہ کی ایک جماعت نے اسلام کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں میں نفاق وشقاق پیدا کرکے ان کو پاش ہاش کرنے کی غرض سے ایک مذہب کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے مفہوم ومعانی میں تحریف وتبدیلی کی جائے اور اس طرح مسلمان باہمی طور پر اختلافات کا شکار ہوجائیں، چناںچہ اہلِ بیت کے ولاء اور ان سے محبت کے درپردہ انھوں نے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈالی اور اپنے کو ان کا وفادار اور ان کے حقوق کا علمبردار باور کرایا تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کریں اور اس طرح سے جاہل عوام کی ایک بھاری تعداد ان کے ساتھ ہوگئی جنھیں انھوں نے گمراہ کر کے چھوڑا۔

[82] باطنی فرقے کے متعدد نام ہیں اور یہ کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں جو ہندوستان، شام، ایران، عراق اور بہت سے دوسرے ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جس کی تفصیل متقدمین میں سے علامہ شہرستانی نے اپنی مشہور کتاب ’’الملل والنحل‘‘ میں بیان کی ہے اور کچھ بعد کے مؤرخین نے بھی،’’قادیانیت‘‘ اور ’’بہائیت‘‘ کو اسی فرقہ کی قسم قرار دیا ہے۔ اسی طرح استاذ محمد سعید کیلانی نے اپنی کتاب ’’ذيل الملل والنحل‘‘ اور شیخ عبد القادر شيبة الحمد نے اپنی کتاب ’’الأديان والفرق والمذاهب المعاصرة‘‘ میں ان فرقوں کے بارے میں بیان کیا ہے۔

2- قادیانی فرقہ : ان گمراہ اور باطل فرقوں میں ’’قادیانیت‘‘ بھی ہے جو غلام احمد قادیانی کی طرف منسوب ہے جس نے نبوت کا دعوی کیا اور ایک فکری انارکی کی طرف برصغیر میں دعوت دی، غلام احمد قادیانی کو انگریزوں نے پوری طرح اپنے اغراض ومقاصد کے لیے استعمال کیا، چناںچہ وہ اور اس کے متبعین برطانیہ کے پورے دور استعمار میں اس کے آلۂ کار بنے رہے اور وہ انھیں بڑی فراخ دلی سے انعامات سے نوازتا رہا اور اپنے جود وکرم کے دروازے بالکل کھول دئے تھے۔ چنانچہ جاہل عوام کی ایک بڑی تعداد اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر ایمان لے آئی۔ قادیانی بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے تھے لیکن وہ اسلام کو نیست ونابود کرنے کے درپے تھے۔ اور اپنی طاقت بھر لوگوں کو اسلام سے نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ غلام احمد قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں علانیہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اسلامی نصوص کی تحریف وتبدیلی کی تھی، چنانچہ اس نے یہ دعوی کیا کہ ’’جہاد‘‘

اسلام میں منسوخ ہوچکا ہے اور تمام مسلمانوں کو انگریزوں کے ہاتھ پر بیعت کرلینی چاہیے اور ان کا وفادار رہنا چاہیے۔ اس مدعی کذاب ودجال نے ’’تریاق القلوب‘‘ کے نام سے ایک اور کتاب لکھی جو اسی طرح کی گمراہیوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ کذاب ودجال بے شمار لوگوں کو گمراہ وبرباد کرکے ۱۹۰۸ء میں مرا،اور اپنا خلیفہ ’’حکیم نور الدین‘‘ نامی گمراہ شخص کو بناکر چھوڑ گیا۔

3- بہائی فرقہ : ’بہائی فرقہ‘ باطنی فرقہ کی ایک فرع ہے جو دین اسلام سے خارج ہے، انیسویں صدی عیسوی کے شروع میں ایران کے ’’علی محمد‘‘ نے، اور ایک قول کے مطابق ’’محمد علی شیرازی‘‘ نامی شخص نے اس کی بنیاد ڈالی تھی، اس شخص کا پہلے شیعہ اثنا عشری فرقہ سے تعلق تھا، لیکن بعد میں اس سے الگ ہوکر ایک نئے دین ومذہب کی داغ بیل ڈالی اور مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کیا، پھر کچھ عرصہ کے بعد اس نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ اس کے اندر حلول کرگئے ہیں‘‘ اور وہ الہ الناس ہوگیا ہے (اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ وعز صفاتہ کی ذات پاک ان جنونی باتوں سے منزہ اور بالاتر ہے)۔ پھر اس شخص نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے دن حساب وکتاب، جنت وجہنم اور دار آخرت کی دوسری چیزوں کا انکار کیا اور عبادت اور ریاضت کا طور وطریقہ ہندؤں جیسا اختیار کرلیا۔ پھر وحدت ادیان کے نظریہ کا داعی ومبلغ ہوگیا اور یہ کہنے لگا کہ یہودیت اور عیسائیت اور دین اسلام میں کوئی فرق اور اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ تینوں مذاہب ایک ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی نبوت ورسالت کا اور بہت سے اسلامی احکام کا بھی منکر ہوگیا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا بہاء نامی وزیر اس کا جانشین ہوا جس نے اس کے دین ومذہب کی بڑی سرگرمی سے دعوت وتبلیغ کی اور جاہلوں کی ایک بڑی تعداد کو گمراہ کرکے اس کا پیروکار بنایا اور بعد میں یہ فرقہ اسی کی طرف منسوب ہو کر بہائیت کے نام سے مشہور ومعروف ہوا۔

4- دین اسلام سے خارج فرقوں میں ایک بڑا فرقہ وہ بھی ہے جو اسلام کا دعوی کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، اور حج وغیرہ کرتا ہے، لیکن بایں ہمہ یہ عقائد باطلہ رکھتا ہے کہ:*حضرت جبرئیل علیہ السلام نے منصبِ نبوت اور مقام رسالت کو پہنچانے میں خیانت کی ہے اور انھوں نے رسالت کو بجائے علی رضی اللہ عنہ کے محمد ﷺ تک پہنچادیا ہے۔ اس فرقہ کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ ہی اللہ ہیں، چناچہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی اور ان کی اولاد و احفاد، ان کی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اُن کی ماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تعظیم وتکریم میں غلو کرتے ہیں، بلکہ اللہ کے ساتھ انھیں بھی معبود قرار دے رکھا ہے جنھیں یہ پُکارتے ہیں، اور ساتھ ہی ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ لوگ لغزشوں سے معصوم ہیں، اور اللہ کے نزدیک ان کا مقام ومرتبہ رسولوں کے مرتبہ سے بڑھ کر ہے۔

یہ کہتے ہیں کہ وہ قرآن کریم جو آج امت اسلامیہ کے پاس ہے وہ حقیقی قرآن نہیں بلکہ اس میں کمی وبیشی کردی گئی ہے، اس لیے انھوں نے اپنا قرآن اس سے مختلف سمجھ رکھا ہے جس میں ان کی طرف سے کچھ مخصوص آیتیں اور سورتیں بھی ہیں۔*انبیاء کرام کے بعد سے سے جلیل القدر شخصیات خلیفۂ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ دوم عمر الفاروق رضی اللہ عنہ، جو تمام مسلمانوں میں افضل ہیں، ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور انھیں طرح طرح کی گالیاں دیتے ہیں۔* ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاکر گالیاں دیتےہیں۔ *علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے خوشی اور پریشانی کے وقت فریاد کرتےاور مدد طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان ہی سے دعا واستغفار کرتے ہیں۔ * انھوں نے اللہ تعالی پر کذب وافترا سےکام لیا ہے اور اس کے کلام پاک کی تحریف وتبدیلی کے مرتکب ہوئے ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ جلّ شانہ ان تمام خرافات سے پاک و منزہ ہے[83].

[83] یہ اپنے چہرے، سینے اور جسم پر زنجیروں اور چاقو سے مار کر اسلام شبیہ کو بگاڑتے ہیں ۔

مفید مشورہ : مذکورہ بالا فرقے کافر فرقوں میں سے چند ہیں، جو اسلام کے دعویدار تو ہیں لیکن در اصل وہ اسلام کو نیست ونابود کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس لیے اے عقل مند اور مسلمان آدمی ! خواہ آپ کا تعلق دنیا کے کسی بھی گوشہ سے ہو، متنبہ رہیں کہ اسلام صرف دعوے کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام حقیقی، قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کی معرفت اور اس کے مطابق عمل اور اطاعت وفرماں برداری کا نام ہے۔ اس لیے قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا چاہیے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور اسلامی شریعت کا علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر اس کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا چاہیے، اس کے بعد بندہ نور ہدایت سے بہرہ ور اور صراط مستقیم پر گامزن ہوسکتا ہے جو اسے سعادت دارین سے ہم کنار اور رب العالمین کے جنات النعیم تک پہنچا سکتا ہے۔

***

نجات کی دعوت :

اخیر میں ہم ان تمام لوگوں سے جنھوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا ہے، حصول کامیابی اور راہ نجات کی دعوت دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ

اے انسان عاقل! مرنے کے بعد عذاب قبر اور عذاب جہنم سے اپنےآپ کو بچاؤ۔

اور اللہ تعالیٰ کو رب جان کر اور رسول اللہ ﷺ کو نبی تسلیم کرکے اور اسلام کو دین حق مان کراپنےآپ کو بچاؤ اورصدق دل سے کلمہ توحید ’’لا الہ الّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کہہ کر دین اسلام قبول کرلو، پھر پانچوں نماز کی پابندی کرو، زکوۃ کی ادائیگی کرو، اور رمضان کے روزہ رکھو، اور حج بیت اللہ کرو اگر اس کی استطاعت رکھتے ہو۔

اور اپنے قبول اسلام کا اعلان کرو کیوں کہ دنیوی اور اخروی سعادت ونجات کے حصول کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔[84]

[84] دنیوی زندگی اچھی گزارے گا اور اخروی زندگی جنت میں گزارے گا۔

میں اللہ بالا وبرتر کے نام کی قسم کھا کر جس کے علاوہ کوئ معبود برحق نہیں، کہتا ہوں کہ دین اسلام ہی دین حق ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا دین عند اللہ قابل قبول نہیں ،میں اللہ کو اور اس کے فرشتوں اور ساری مخلوق کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اسلام ہی دین بر حق ہے اور میں مسلمان ہوں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہمارا اور ہماری آل واولاد اور تمام مسلمان بھائیوں کا دین اسلام پر خاتمہ فرمائے اور جنت نعیم میں رسول اللہ ﷺ کی اور دیگر انبیاء،صحابہ کرام اور سلف صالحین کی صحبت نصیب فرمائے اور اخیر میں پھر دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو ہر اس شخص کے لیے نفع بخش بنائے جو اس کا مطالعہ کرے یا کسی سے سن کر اس کی معلومات حاصل کرے۔’’اے اللہ تو گواہ رہ میں نے پہنچا دیا۔‘‘

اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے اور درودوسلام ہو ہمارے نبی محمد اور ان کے آل واصحاب پر، اور تمام تعریفیں سارے جہان کے رب کے لئے ہیں۔

***